میرا نام جان محمد رمضان ہے۔ میری شناخت کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ صحافت، کالم نگاری، سماجی خدمت، سیاسی جدوجہد اور کاروباری میدان میرے سفر کے نمایاں پہلو ہیں۔
میں کالم نگار، جرنلسٹ، سوشل ایکٹوسٹ اور بزنس مین ہوں۔ صحافت میرے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے اور اپنی بات ذمہ داری کے ساتھ عوام تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ مختلف اوقات میں متعدد جرنلسٹ یونینز کی صدارت بھی کر چکا ہوں۔سماجی میدان میں بھی میری سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ میں عوامی مسائل، انسانی احترام اور معاشرتی بہتری کے لیے آواز اٹھانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔
میری ایک نمایاں شناخت چیئرمین پاک آرمی لورز موومنٹ کی بھی ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں افواجِ پاکستان، شہداء اور قومی سلامتی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں اور ملک کے دفاع کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔
میرا سیاسی سفر بھی کئی برسوں پر محیط ہے۔ میں عملی سیاست میں سرگرم رہا ہوں اور حلقہ PP-146 سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑ چکا ہوں۔ میرے نزدیک سیاست کا مقصد عوام سے رابطہ، ان کے مسائل کو سمجھنا اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔
کاروباری میدان میں بھی میری وابستگی رہی ہے اور میں بزنس مین کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت رکھتا ہوں۔ میرے نزدیک کاروبار صرف ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے اور ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کا وسیلہ بھی ہے۔
زندگی میں عہدے، انتخابات اور حالات بدلتے رہتے ہیں، لیکن انسان کی اصل پہچان اس کے کردار، جدوجہد اور اصولوں سے ہوتی ہے۔ صحافت ہو، سماجی خدمت، سیاست یا کاروبار—میری کوشش رہی ہے کہ اپنے حصے کا کردار دیانت داری اور محنت کے ساتھ ادا کروں۔
میں جان محمد رمضان ہوںکالم نگار، جرنلسٹ، سوشل ایکٹوسٹ، بزنس مین، سیاسی کارکن اور چیئرمین پاک آرمی لورز موومنٹ۔
میرا سفر جاری ہے، اور میرا قلم، میری آواز اور میری جدوجہد عوام اور وطن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے وقف ہے۔
مزید پڑھیں






