Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف ، کلثوم افتخار

نقطہ نظر

کیا تعارف کروانا کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

دنیا میں تشریف لائے ہوئے 53 برس ہو گئے ہیں۔ نام کلثوم افتخار قلمی اور ادبی نام زینب ۔۔ تعلیم ایم فل انگلش لینگویج اور ایم اے ایجوکیشن۔ شعبہ تعلیم اور منتظمہ کا ۔ عرصہ 26 سالہ تجربہ۔

ادبی لگاؤ بہت زیادہ۔ تحریر و تقریر ۔ کالم نگار۔ شاعرہ۔ اردو۔ پنجابی اور انگلش زبان۔

ایک کتاب پبلش ہونے والی ہے میری ماں کے نام سے ۔

یہ صرف میری ماں نہیں بلکہ ہر ماں کے متعلق ہے ۔

سفر نامہ بھی لکھتی ہوں۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ ملک سے باہر جائیں اور سفر نامہ لکھیں ہم اپنی بہن کے گھر بھی جائیں۔ تو سفر نامہ ہی بن جاتا ہے۔ لکھنا محبت ہے میری کہ میری ذات کی عکاسی میری تحریر سے ہوتی ہے۔ میرے محسوسات جذبات اور فکر و سوچ کو زبان لکھنے سے ملتی ہے۔ ظاہر ہے سب بندہ ہر بات کسی کو ڈائریکٹ تو نہیں کہ سکتا ورنہ بد زبانی کا لقب ملنے کا خدشہ ہے اسی لئے لکھنے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ اور اس گھٹن زدہ معاشرے میں عورت کےلئے لکھاری بننا بہت فائدے کی بات ہے ۔ ذہنی سکون کتھارسس اور بہت سی عورتوں کی ان کہی باتوں کو آواز دے دینا۔

لیکن جو لکھا بامقصد بامعنی اور نرم لہجے کے ساتھ لکھا کہ پبلک کی دل آزاری نہ ہو جائے بلکہ محسوس کر وانا ہے بغیر محسوس کروا ہے تو یہی میرے قلم کی طاقت ہے۔

اللّٰہ پاک نے جب اولاد کی نعمت سے سرفراز کیا تو شکر کے طور پر کچھ اشعار کہ ڈالے کچھ لکھ لیا۔ جب بچوں نے ماں کہنا شروع کیا تو مانو زندگی کا مفہوم سمجھ میں آ گیا اور جب شوہر نے بغیر اعتراض کے بد مزہ کھانا کھا لیا تو میں جی اٹھی جھوم اٹھی کہ میرے باپ نے بھی میری آدھی کچی روٹی کھا کر کہا تھا واہ بھائی آج تو کھانے کا مزہ آ گیا ہے۔ ارے بھائی اور کیا چاہئے یہی زندگی ہے اور یہی گل و گلزار ہے اب یہ الگ بات ہے کہ گل و گلزار کے ساتھ کچھ کانٹے بھی تو ہوتے ہیں نا ۔ خیر یہی تو زیست کی کامیابی ہے کہ جینے کا فن آ جائے تو موت تو اچھی ہی آئے گی انشاء اللہ ۔