اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کا خالی کرسیوں سے خطاب،باہر عوامی احتجاج

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خطاب کے دوران درجنوں مندوبین احتجاجاً ایوان سے باہر نکل گئے،
برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا اور دعویٰ کیا کہ اسرائیل گزشتہ تین برس سے مشرق وسطیٰ میں سات محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے ایران پر حملوں، غزہ میں جاری تنازع، حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے متعدد عالمی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی ردعمل پر اعتراضات اٹھائے۔تقریر کے دوران درجنوں مندوبین کا ایوان سے باہر نکلنا بھی نمایاں پیش رفت رہی، جبکہ نیویارک میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے ایران اور اس کی جوہری تنصیبات پر حملے نہ کیے ہوتے تو سب لوگ ہلاک ہو چکے ہوتے۔نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی فوج، بحریہ، فضائیہ اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف بھی کارروائیاں کیں۔انہوں نے ایران کے مستقبل سے متعلق بات کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ان کی زندگی میں ایرانی عوام موجودہ نظام سے آزاد ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کی طاقت اقتدار میں موجود لوگوں پر غالب آ جائے گی اور وہ دن آئے گا جب سب اس تبدیلی کا جشن منائیں گے۔
نیتن یاہو نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے ایک سابق امریکی فوجی افسر کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے جنگوں میں شہری ہلاکتوں کو روکنے کے لیے تاریخ کی کسی بھی دوسری فوج سے زیادہ اقدامات کیے ہیں۔تاہم اسکائی نیوز کی رپورٹ میں برطانوی ریڈ کراس کے حوالے سے بتایا گیا کہ غزہ میں 69 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 17 ہزار بچے بھی شامل ہیں، جبکہ مزید ایک لاکھ 70 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فراہم کردہ اعدادوشمار میں جنگجوؤں اور عام شہریوں کے درمیان تفریق نہیں کی گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کے دشمنوں کو توقع تھی کہ وہ اندرونی طور پر ٹوٹ جائے گا، تاہم ان کے بقول اسرائیل نے اس کے برعکس مقابلہ کیا۔نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج گزشتہ تین برس سے سات محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے حماس، حزب اللہ، حوثیوں، ایرانی ملیشیاؤں، شام میں عراقی ملیشیاؤں اور مغربی کنارے میں فلسطینی مسلح عناصر کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام قوتیں اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے اکٹھی ہو گئی تھیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران ایک پیجر بھی اٹھا کر دکھایا، جسے رپورٹ میں 2024 میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ہونے والے پیجر حملوں کی جانب اشارہ قرار دیا گیا۔
نیتن یاہو نے ترکیہ اور اس کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اردوان کو ’’آمر‘‘ قرار دیتے ہوئے ترکیہ پر اسرائیل کے خلاف یہود مخالف بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے قطر پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کی میزبانی کرتا ہے اور نوجوانوں میں اسرائیل، امریکا اور مغرب کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ترک صدر سے متعلق اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کرد شہریوں کے قتل، آرمینیائی نسل کشی سے انکار اور صحافیوں و اپوزیشن رہنماؤں کو قید کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ یہ الزامات اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کے طور پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور دیگر عالمی رہنماؤں کو مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد سے متعلق بیانات پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو نہیں سمجھتے۔نیتن یاہو نے میکرون سے خطاب میں مغربی کنارے میں ایک فرانسیسی شہری اور ایک اسرائیلی ریزرو فوجی کی ہلاکت کا ذکر کیا اور ان واقعات کو حماس سے منسوب کیا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اس علاقے کے لیے ’’یہودیہ و سامریہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، جبکہ اقوام متحدہ اسے مغربی کنارہ کہتا ہے۔
نیتن یاہو نے برطانیہ اور فرانس سمیت بعض ممالک کی جانب سے اسرائیل پر نوآبادیاتی طرزِ عمل کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف نوآبادیات سے متعلق اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ ان کے بقول الزام لگانے والے ممالک کی اپنی نوآبادیاتی تاریخ رہی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ کا موجودہ تنازع محض علاقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ کسی بھی سرحد کے اندر یہودی ریاست کے وجود کا معاملہ ہے۔نیتن یاہو نے دنیا بھر میں یہودی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا سر بلند رکھیں، اپنے تشخص پر فخر کریں اور خوف زدہ نہ ہوں۔انہوں نے دیگر افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے بقول مشترکہ تہذیب کو خطرہ لاحق کرنے والی قوتوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مغربی یورپ کے بعض رہنماؤں پر کمزوری اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ماضی میں بھی ختم کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں اور ان کے بقول اسرائیل آئندہ بھی اپنی بقا کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔
نیویارک میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاج
اقوام متحدہ میں خطاب سے قبل نیویارک میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ مظاہرین میں ایسے افراد شامل تھے جو ’’فنڈ پیپل، ناٹ بمز‘‘ یعنی ’’بموں کے بجائے عوام پر وسائل خرچ کرو‘‘ کے پیغامات والے ٹی شرٹس پہنے ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق بعض مظاہرین کو پولیس نے ہتھکڑیاں لگا کر حراست میں لیا۔یونین اسکوائر میں ہونے والے ایک مظاہرے میں بعض افراد نے ’’اسرائیلی جمہوریت بچاؤ‘‘ کے نعروں والے لباس پہن رکھے تھے اور اسرائیلی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔اسکائی نیوز کے مطابق نیتن یاہو کی تقریر کے دوران مندوبین کی بڑی تعداد کا ایوان سے باہر نکلنا اس خطاب کا نمایاں واقعہ تھا۔
مزید پڑھیں





