عدم تشدد کمزوری نہیں، امن کی سب سے بڑی طاقت،تحریر:کاشف خان

دنیا ہر سال 2 اکتوبر کو عالمی یومِ عدم تشدد مناتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کے ہاتھ میں سب سے بڑی طاقت صرف ہتھیار نہیں بلکہ برداشت، صبر، محبت، مکالمہ اور امن بھی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ تشدد وقتی طور پر خوف پیدا کرسکتا ہے، لیکن پائیدار امن ہمیشہ برداشت اور شعور کے راستے سے آتا ہے۔
آج دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں، تنازعات، نفرت، انتہا پسندی اور عدم برداشت انسانیت کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ معمولی اختلاف کبھی دشمنی میں بدل جاتا ہے اور لفظوں کی تلخی بعض اوقات ایسے زخم دے جاتی ہے جو برسوں نہیں بھرتے۔ ایسے حالات میں عدم تشدد کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
عدم تشدد کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ناانصافی کے سامنے خاموش ہوجائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انصاف کے لیے آواز ضرور اٹھائی جائے، مگر نفرت کے بغیر؛ اختلاف ضرور کیا جائے، مگر دشمنی کے بغیر؛ حق ضرور مانگا جائے، مگر دوسروں کے بنیادی حقوق پامال کیے بغیر۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے۔ اگر دو افراد کسی معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے کا دشمن بن جائے۔ مکالمہ وہ راستہ ہے جو اختلاف کو تصادم بننے سے روک سکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امن صرف سرحدوں پر جنگ نہ ہونے کا نام نہیں۔ امن گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اگر گھر میں ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ نہیں تو معاشرے میں برداشت کیسے پیدا ہوگی؟ اگر ہم سوشل میڈیا پر اختلاف رکھنے والے ہر شخص کو برا بھلا کہیں گے تو دنیا میں امن کی بات کیسے کریں گے؟
والدین اگر بچوں کو غصے کے بجائے دلیل سے بات کرنا سکھائیں، اساتذہ اگر طلبہ میں برداشت پیدا کریں، مذہبی رہنما اگر انسان دوستی اور احترام کا درس دیں، صحافی اگر نفرت کے بجائے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیں اور معاشرے کے بااثر افراد اگر اپنے کردار سے برداشت کا مظاہرہ کریں تو ایک مثبت تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔
عدم تشدد ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ کسی کو معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے۔ ہر اختلاف کا جواب غصے سے دینا آسان ہے، لیکن غصے کے وقت خود پر قابو رکھنا اصل بہادری ہے۔
آج عالمی یومِ عدم تشدد پر ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: کیا ہماری گفتگو، ہمارے رویے اور ہمارے فیصلے لوگوں کے درمیان فاصلے کم کر رہے ہیں یا بڑھا رہے ہیں؟
اگر ہم واقعی ایک پُرامن دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں تبدیلی کا آغاز دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔ اپنے گھر سے، اپنے دفتر سے، اپنی گلی سے، اپنی تحریر سے اور اپنے الفاظ سے۔
دنیا کو ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو اختلاف کے باوجود احترام کرنا جانتے ہوں، طاقت رکھنے کے باوجود معاف کرنا جانتے ہوں اور حق کی بات کرتے ہوئے بھی انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
امن کسی ایک ملک، مذہب یا قوم کی ضرورت نہیں؛ امن پوری انسانیت کی ضرورت ہے۔
آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، انتقام کے بجائے معافی، تشدد کے بجائے مکالمے اور مایوسی کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں گے۔
کیونکہ آخرکار دنیا کو بدلنے کے لیے ہر ہاتھ میں ہتھیار نہیں، ہر دل میں انسانیت کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں




