Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اجنبی ہو گئے راستے ،از قلم: فائزہ شہزاد

نقطہ نظر

نہ جانے وہ رستے کہاں کھو گئے؟

وہ بابا کی چاہت،

وہ اماں کی شفقت،

وہ بہنوں کا پیار

اور وہ بھائیوں کی تکرار

کہاں کھو گئی؟

اِک دوجے کے دل میں

بستے تھے جو کبھی

ایک دوسرے کے سنگ،

خوش تھے تب سبھی

غموں کا کوئی پہرہ نہ تھا

خوشی کا فقط بسیرا رہا

بابا کے آنگن میں،

پھولوں کی مہکار تھی

درختوں پہ چڑیوں،

اور گھر میں بیٹیوں کی چہکار تھی

ہر آنکھ میں سنہرے خواب تھے

خوابوں کی تعبیر پانے کو

ہم ایک دوسرے کے ساتھ تھے

زندگی رواں دواں تھی

مگر پھر۔۔۔۔۔!

اِک روز یوں ہوا

درختوں سے چڑیاں

اور گھر سے بیٹیاں

پرواز کر گئیں، مائیکہ چھوڑ

سسرال میں بسیرا کر گئیں

عمر رواں کے ساتھ ساتھ

بابا بھی پھر رخصت ہو گئے

گھر کو وہ ویراں

اور دلوں کو رنجیدہ کر گئے

اب باقی تھے

اماں کے آنسو اور

اُن کی تنہائی

ہاتھوں کی لکیروں کو

کھوجتے کھوجتے

دل کی باتیں دل میں چھپائے

اک روز وہ بھی

منوں مٹی تلے سو گئی

آج آنگن بھی وہی ہے

پھولوں کی مہکار بھی

لیکن

اس آنگن میں بیٹھی

آنکھوں میں اداسی لیے

اِک بیٹی کی نظریں

ڈھونڈ رہی ہیں۔۔۔۔

اماں، بابا کہاں گئے؟

بھائی، بہن کہاں ہیں سب؟

یوں لگتا ہے کہ

اماں، ابا کے بعد اب

اجنبی ہو گئے سب راستے

اجنبی ہو گئے سب جو ساتھ تھے

کاش! وہ گزرا وقت لوٹ آئے کبھی

اُنہیں راستوں کو سجائیں مل کر

اُسی آنگن کو بسائیں مل کر

لیکن اب تو اجنبی ہو گئے سب راستے