Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آخر رشوت ہی کیوں؟ تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

ہمارا ملک پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اور ہم جس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ اسلام کے نام پر ہے۔ ہمارا مذہب اسلام ہمیں انصاف کا درس دیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی رشوت جیسا ناسور ہمارے معاشرے کا حصہ ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ ناسور ہمارے اداروں کو کمزور کر رہا ہے رشوت محض پیسوں کا لین دین نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی کے حق اور انصاف کی خرید و فروخت بھی ہوتی ہیں ہمارے اس معاشرے میں اس رشوت کو بہت سے ناموں سے پکارا جاتا ہے کوئی سے "چائے" کا نام دیتا ہے، تو کوئی "پیٹی" کا نام دیتا ہے۔ کہیں پر یہی رشوت "مٹھائی" کا کام دیتی ہے تو کہیں "فائل کا خرچہ۔" مگر یہ بھی ایک سچ ہے کہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔ اگر آپ کسی کا جائز کام کرنے کے لیے "خرچہ پانی" مانگ رہے ہیں، تو وہ رشوت نہیں ہے تو اور کیا ہے؟


پاکستان میں عام شہری کو اس مسئلے کا سامنا مختلف مقامات پر کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص سرکاری دفتر میں اپنے جائز کاغذات کی تصدیق یا کسی معمول کی کارروائی کے لیے جاتا ہے تو بعض اوقات اسے غیرضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر اسے اشاروں کنایوں میں بتایا جاتا ہے کہ اگر کچھ "خرچ پانی" کر دیا جائے تو کام جلدی ہو سکتا ہے۔ ایک غریب آدمی کے لیے یہ چند سو یا چند ہزار روپے بھی بہت بڑی رقم ہو سکتی ہے، لیکن مجبوراً وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے رقم دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح بعض علاقوں میں ڈرائیونگ لائسنس، سرکاری اجازت نامے، زمین کے ریکارڈ، تعمیراتی اجازت، کاروباری معاملات یا دیگر سرکاری خدمات کے سلسلے میں رشوت کی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر سرکاری ملازم یا ہر ادارے کو بدعنوان کہنا درست نہیں؛ ہمارے ملک میں بے شمار ایماندار افسران اور ملازمین بھی موجود ہیں جو مشکل حالات میں دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ مسئلہ ان رویوں اور نظام کی کمزوریوں کا ہے جو بدعنوانی کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں۔

زمین اور جائیداد کے معاملات میں رشوت کا مسئلہ خاص طور پر سنگین ہو سکتا ہے۔ فرض کریں کسی خاندان کی زمین کا ریکارڈ درست ہے، مگر ریکارڈ میں معمولی تصحیح کے لیے اسے بار بار دفتر کے چکر لگانے پڑیں۔ اگر کوئی اہلکار اس کام کے بدلے ناجائز رقم طلب کرے تو متاثرہ شہری کے سامنے دو راستے رہ جاتے ہیں: یا تو وہ اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے غیرضروری رقم دے، یا پھر اپنے ہی حق کے لیے طویل انتظار کرے۔ ایسی صورتحال عوام کے اندر قانون اور اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں "سفارش" اور "رشوت" کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ کسی ضرورت مند کے جائز کام کے لیے کسی متعلقہ افسر یا ذمہ دار شخص سے قانونی اور اخلاقی طور پر بات کرنا ایک چیز ہے، جبکہ کسی کا حق مار کر اپنا کام نکلوانا یا ناجائز فائدہ حاصل کرنا دوسری چیز۔ جب سفارش میرٹ اور قانون کو پامال کرنے لگے تو وہ معاشرتی ناانصافی کو جنم دیتی ہے۔

ت

اگر دیکھا جائے تو تعلیم کے میدان میں بھی رشوت کے اثرات انتہائی نقصان دہ ہیں۔ اگر کسی طالب علم کو میرٹ کے بجائے سفارش یا پیسے کے ذریعے موقع ملے تو اس کا نقصان صرف ایک مستحق طالب علم کو نہیں ہوتا بلکہ پورا تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح ملازمت کے معاملات میں اگر قابلیت کے بجائے سفارش، تعلقات یا ناجائز ادائیگی کو اہمیت دی جائے تو ایک قابل نوجوان مایوس ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر محنت اور قابلیت کے باوجود راستہ نہ ملے تو پھر میرٹ کا فائدہ کیا ہے؟

ہمارے پیارے مذہبِ اسلام نے رشوت کی سختی سے مذمت کی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:


"اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اسے حاکموں تک پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ساتھ جان بوجھ کر کھا جاؤ۔"

(سورۃ البقرۃ: 188)


پیارے نبی ﷺ نے بھی رشوت دینے اور لینے والے کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔

(سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)



رشوت کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ آہستہ آہستہ معاشرے کی سوچ کو بدل دیتی ہے۔ جب ایک شخص کہتا ہے کہ "پیسہ پھینک تماشہ دیکھ" تو وہ صرف ایک جملہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی سچائی ہوتی ہے جس سے ہم منہ نہیں موڑ سکتے۔ سب سے بڑا نقصان پھر ہمیں یہ ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل یہ سمجھنے لگتی ہے کہ کامیابی کا راستہ محنت، قابلیت اور دیانت سے نہیں بلکہ تعلقات اور پیسے سے گزرتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف تقریروں میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔ سرکاری اداروں میں شفافیت بڑھانا، کام کے واضح اوقات مقرر کرنا، شکایات کے مؤثر نظام کو مضبوط کرنا، ڈیجیٹل سہولیات کو فروغ دینا اور قانون کا بلاامتیاز نفاذ ضروری ہے۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے گھروں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ناجائز فائدہ حاصل کرنا ذہانت نہیں بلکہ اخلاقی کمزوری ہے۔

ایک عام شہری بھی اس جنگ میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جہاں ممکن ہو رشوت دینے سے انکار کیا جائے، قانونی طریقہ اختیار کیا جائے اور متعلقہ شکایتی نظام سے رجوع کیا جائے۔ البتہ ایسے معاملات میں شہری کی اپنی حفاظت اور قانونی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔


پاکستان میں تبدیلی صرف حکمرانوں یا سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ ایک دکاندار، استاد، طالب علم، سرکاری ملازم، افسر، تاجر اور عام شہری سب اس معاشرے کا حصہ ہیں اگر ہر شخص اپنے حصے کی دیانت داری اختیار کرے تو مجموعی ماحول بھی بدل سکتا ہے۔

رشوت سے حاصل ہونے والی رقم شاید کسی کی جیب بھر دے مگر اس کے نتیجے میں کسی دوسرے کا حق خالی ہو جاتا ہے۔ ایک شخص کا ناجائز فائدہ اکثر دوسرے شخص کی محرومی بن جاتا ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسل کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں؟ ایسا پاکستان جہاں جائز کام کے لیے بھی سفارش اور پیسے کی ضرورت ہو، یا ایسا پاکستان جہاں شہری کو یقین ہو کہ اس کا حق اس لیے ملے گا کیونکہ وہ اس کا حقدار ہے۔

رشوت کا خاتمہ صرف قانون سے نہیں ہوگا؛ اس کے لیے دیانت دار ادارے، ذمہ دار شہری اور زندہ ضمیر درکار ہیں۔ جس دن ہم "چائے پانی" کے نام پر دی جانے والی رشوت کو معمول سمجھنا چھوڑ دیں گے، اسی دن ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کا آغاز ہوگا۔