اپنی اصلاح بھول گئے؟ تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
نقطہ نظر
ہم عجیب دور میں جی رہے ہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے سے زیادہ دوسروں کے گریبان میں جھانکنے کا شوق ہے۔ کسی کی ایک غلطی نظر آ جائے تو ہم فوراً منصف بن جاتے ہیں، کسی کی ایک کمزوری سامنے آ جائے تو وعظ شروع کر دیتے ہیں، اور کسی کے کردار میں معمولی نقص دکھائی دے تو ہم اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ چند لمحوں میں کر دیتے ہیں۔ مگر جب بات اپنی باری کی آتی ہے تو ہمارے پاس خاموشی، مصلحت اور بے شمار جواز موجود ہوتے ہیں۔
یہی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں گنتے گنتے اپنی اصلاح بھول گئے ہیں۔
ہمیں پڑوسی کی بے احتیاطی دکھائی دیتی ہے، مگر اپنی بدتمیزی نظر نہیں آتی۔ ہمیں دوسروں کی جھوٹ بولنے کی عادت پر اعتراض ہوتا ہے، مگر اپنے مفاد کے لیے بولے گئے جھوٹ کو ہم ’’مجبوری‘‘ کا نام دے دیتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی وعدہ خلافی یاد رہتی ہے، مگر اپنے ٹوٹے ہوئے وعدوں کا حساب کبھی نہیں کرتے۔ ہمیں دوسروں کی اولاد کی تربیت پر گفتگو کرنا پسند ہے، لیکن اپنے بچوں کے سامنے ہم خود جو مثال قائم کر رہے ہیں، اس پر سوچنے کی زحمت نہیں کرتے۔
ہم سوشل میڈیا پر اخلاقیات کے لیکچر دیتے ہیں، مگر گھر میں والدین سے سخت لہجے میں بات کرتے ہیں۔ ہم ایمانداری کے قصے شیئر کرتے ہیں، مگر معمولی فائدے کے لیے اصول بدل لیتے ہیں۔ ہم معاشرے کی خرابیوں پر لمبی بحث کرتے ہیں، مگر جب اپنے رویے کی بات آتی ہے تو فوراً کہتے ہیں: ’’سب ایسا ہی کرتے ہیں۔‘سب ایسا ہی کرتے ہیں‘‘ اصلاح کی دلیل نہیں، خرابی کو قبول کرنے کا بہانہ ہے۔
معاشرہ کسی ایک شخص سے خراب نہیں ہوتا۔ معاشرہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری دوسرے کے کندھے پر ڈال دیتا ہے۔ استاد کہتا ہے والدین ذمہ دار ہیں، والدین کہتے ہیں سکول ذمہ دار ہے، سکول انتظامیہ کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے، نوجوان حکومت کو اور حکومت عوام کو۔ یوں ذمہ داری کا دائرہ مکمل ہو جاتا ہے، مگر اصلاح کہیں شروع نہیں ہوتی۔
ہم چاہتے ہیں کہ سیاست دان دیانت دار ہوں، تاجر ملاوٹ نہ کریں، سرکاری اہلکار رشوت نہ لیں، استاد فرض ادا کریں، ڈاکٹر انسانیت کا خیال رکھیں، نوجوان ادب کریں اور بچے والدین کی خدمت کریں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں؟
اصلاح ہمیشہ دوسرے دروازے سے شروع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اصل دروازہ انسان کا اپنا دل اور اپنا کردار ہے۔
اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں ہر صبح یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ آج میرے رویے میں کیا بہتر ہوا؟ میں نے کس کا حق ادا کیا؟ کس سے معافی مانگنی چاہیے؟ کس کے ساتھ زیادتی ہوئی؟ کس کا دل میرے الفاظ سے دکھا؟ میں نے اپنی ذمہ داری کتنی ایمانداری سے پوری کی؟
یہ سوال آسان نہیں، کیونکہ انسان کو اپنی خامیاں دیکھنا پسند نہیں۔ دوسروں کا احتساب آسان ہے، اپنا احتساب مشکل۔ دوسروں کو نصیحت کرنا آسان ہے، اپنی عادت بدلنا مشکل۔ دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانا آسان ہے، مگر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے کردار کا جائزہ لینا بہت مشکل ہے۔
ہم نے انگلی اٹھانے کی عادت تو اپنا لی، مگر یہ بھول گئے کہ ایک انگلی دوسرے کی طرف ہوتی ہے تو تین انگلیاں ہماری اپنی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں۔
آج ہمیں دوسروں کے احتساب سے پہلے اپنے اندر کا احتساب شروع کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں جھوٹ ختم ہو تو پہلے اپنے جھوٹ کو ختم کریں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ وعدے پورے کریں تو اپنے وعدے نبھائیں۔ اگر ہمیں عزت چاہیے تو دوسروں کو عزت دیں۔ اگر ہمیں برداشت چاہیے تو خود اختلاف برداشت کریں۔ اگر ہمیں انصاف چاہیے تو اپنے معاملات میں بھی انصاف کریں۔
اصلاح تقریروں سے نہیں، کردار سے پیدا ہوتی ہے۔
ہم اپنے بچوں کو کہتے ہیں کہ بڑوں کا احترام کرو، مگر بچے جب ہمیں اپنے والدین سے بدتمیزی کرتے دیکھتے ہیں تو ہماری نصیحت بے اثر ہو جاتی ہے۔ ہم انہیں کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں مگر خود ہر وقت موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم انہیں سچ بولنے کا درس دیتے ہیں مگر فون پر کسی سے کہہ دیتے ہیں: ’’کہہ دینا میں گھر پر نہیں ہوں۔‘‘
بچے ہماری بات سے زیادہ ہمارا عمل سیکھتے ہیں۔
اسی طرح معاشرہ بھی ہمارے نعروں سے نہیں، ہمارے اجتماعی کردار سے بنتا ہے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم شکایت کرنے والی قوم بننا چاہتے ہیں یا اصلاح کرنے والی؟ ہم ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے رہیں گے یا اپنی ذمہ داری بھی قبول کریں گے؟
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم مزید منصف بنیں؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اپنے کردار کے محافظ بنیں۔
اپنے گھر سے آغاز کریں۔ اپنے لہجے کی اصلاح کریں۔ اپنے معاملات میں دیانت پیدا کریں۔ وعدہ پورا کریں۔ کسی کا حق نہ ماریں۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت محفوظ رکھیں۔ غلطی ہو جائے تو انا کو ایک طرف رکھ کر معذرت کر لیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کا سفر شروع کریں۔
کیونکہ معاشرہ ’’لوگوں‘‘ سے نہیں بنتا، ہم لوگوں سے بنتا ہے۔
جب ہر شخص یہ سوچنا شروع کر دے کہ ’’مجھے کیا بدلنا ہے؟‘‘ تو معاشرے کی سمت بدلنے لگتی ہے۔ لیکن جب ہر شخص صرف یہ پوچھتا رہے کہ ’’دوسرے کب بدلیں گے؟‘‘ تو سال گزرتے رہتے ہیں، نسلیں بدل جاتی ہیں، مگر معاشرہ وہیں کھڑا رہتا ہے۔
ہمیں دوسروں کی غلطیوں کی فہرست مختصر اور اپنی اصلاح کی فہرست طویل کرنی ہوگی۔
آئیے آج سے ایک عہد کریں:
ہم ہر غلطی پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے کردار کا جائزہ لیں گے۔ ہر تنقید سے پہلے اپنا احتساب کریں گے۔ ہر نصیحت سے پہلے اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں .ہماری اصل اصلاح بھی اسی دن شروع ہوگی، جس دن ہم دوسروں کی غلطیاں گننا چھوڑ کر آئینے میں کھڑے انسان سے پوچھیں گے:
مزید پڑھیں




