پاکستان میں احتجاجی سیاست کوئی نئی بات نہیں مختلف سیاسی جماعتیں وقتاً فوقتاً حکومتوں کے خلاف سڑکوں پر آتی رہی ہیں بعض اوقات مطالبات انتخابی یا سیاسی معاملات سے متعلق ہوتے ہیں بعض اوقات حکومت کی تبدیلی یا اقتدار میں شراکت جیسے بڑے سیاسی مقاصد بھی احتجاج کا حصہ بن جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عام آدمی اکثر سیاسی احتجاج کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور اسے یہ احساس رہتا ہے کہ شاید اس احتجاج کے پیچھے بھی کوئی سیاسی مفاد موجود ہے ایسے ماحول میں جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر شروع کی گئی حالیہ احتجاجی مہم نے ایک مختلف بحث کو جنم دیا ہے جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مسلسل دھرنے دیئے اور احتجاج کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے بارہا اس مطالبے کو دہرایا کہ عوام پر پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے اضافی مالی بوجھ کم کیا جائے جماعت اسلامی کے اپنے اعلان کے مطابق یہ مہم مئی اور جون کے مظاہروں سے آگے بڑھی اگست میں دھرنوں اور ستمبر میں ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ تک پہنچی ابتداء میں شاید عام آدمی نے اسے بھی دیگر سیاسی احتجاجوں کی طرح ایک معمول کی سیاسی سرگرمی سمجھا ہو لیکن جیسے جیسے مختلف شہروں میں دھرنے اور احتجاج جاری رہے اور پٹرولیم لیوی،مہنگے پٹرول اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی مجموعی مہنگائی کا تعلق عوامی زندگی سے واضح ہوتا گیا اس مسئلے پر عوامی توجہ بھی بڑھتی گئی پٹرول مہنگا ہو تو صرف موٹر سائیکل یا گاڑی چلانے والا متاثر نہیں ہوتا ٹرانسپورٹ کے کرائے،زرعی اخراجات،اشیائے خورد و نوش کی ترسیل،کاروباری لاگت اور روزمرہ زندگی کے بے شمار معاملات اس سے متاثر ہوتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا بلکہ ایک معاشی مسئلہ بن جاتا ہے جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم لیوی ختم کرکے اور حکومتی اخراجات میں کمی لاکر عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مذاکرات اور احتجاج دونوں کے ذریعے اس مطالبے کو آگے بڑھایا ہے جماعت کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار بھی ہوئے اور ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر اسلام آباد مارچ عارضی طور پر مؤخر کیا گیا یہاں اصل سوال کسی ایک جماعت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں بلکہ پاکستان میں سیاست کے رخ کا ہے اگر سیاسی جماعتیں عوام کے بنیادی مسائل کو اپنی سیاست کا مرکز بنائیں تو عوام اور سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوسکتا ہے اگر سیاست کا مرکز صرف اقتدار کا حصول بن جائے تو عام آدمی خود کو اس پورے عمل سے دور محسوس کرنے لگتا ہے پٹرولیم لیوی کے بعد اب ایک اور بڑا مسئلہ توانائی کا بحران اور آئی پی پیز کے معاہدے ہیں پاکستان کے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ،پاور پروڈیوسرز کو ادائیگیاں اور کپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ برسوں سے زیر بحث ہے جس پہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عوامی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے سرکاری مالیاتی دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 میں آئی پی پیز سے متعلق سبسڈی کا اصل خرچ 752.8 ارب روپے رہا جو بجٹ میں مختص 215 ارب روپے سے کہیں زیادہ تھا یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی معیشت کا اہم مسئلہ ہیں اسی تناظر میں حکومت نے بھی آئی پی پیز کے بعض معاہدوں پر نظرثانی کی ہے جبکہ 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق نئے معاہدوں سے تقریباً 1.4 کھرب روپے کی متوقع بچت کا ذکر کیا گیا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت آئی پی پیز کے تمام معاہدوں،کپیسٹی پیمنٹس، بجلی کی طلب،متبادل ذرائع اور صارفین پر پڑنے والے بوجھ کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لے جہاں معاہدوں میں قانونی طور پر گنجائش موجود ہو وہاں قومی مفاد میں ازسر نو مذاکرات کئے جائیں لیکن ایسے اقدامات بھی قانون اور عوامی مفادات کو سامنے رکھ کر کئے جائیں تاکہ ملک کو مستقبل میں بڑے قانونی یا مالی نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے پاکستان کے پاس پانی سے بجلی پیدا کرنے کی وسیع صلاحیت ہے ہوا اور شمسی توانائی کے امکانات بھی موجود ہیں جبکہ گزشتہ برسوں میں گھریلو اور کاروباری سطح پر سولر سسٹمز کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اس لئے مستقبل کی توانائی پالیسی کا مقصد صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ سستی،قابلِ اعتماد اور پائیدار بجلی فراہم کرنا ہونا چاہیئے پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاج نے کم از کم یہ سوال ضرور نمایاں کر دیا ہے کہ عوام کی جیب پر پڑنے والے بوجھ کا حساب کون لے گا اور اگر یہی عوام آنے والے دنوں میں بجلی کے نرخ،آئی پی پیز کی ادائیگیوں،حکومتی اخراجات اور مہنگائی جیسے مسائل پر سوال اٹھانے لگے تو سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ترجیحات عوامی مسائل کے مطابق طے کرنا ہوں گی حکمرانوں کو بھی وقت کی آواز سمجھنی چاہیئے عوام پہلے ہی مہنگائی،بجلی کے بھاری بلوں،پٹرول کی قیمتوں اور روزگار کے مسائل سے دوچار ہیں عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے ریاستی اخراجات میں کفایت،ٹیکس نظام میں اصلاح،توانائی کے شعبے میں شفافیت اور مہنگی بجلی کے اسباب کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا آخرکار سیاست کا اصل امتحان اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگی آسان بنانا ہے اگر پٹرولیم لیوی کے خلاف اٹھنے والی آواز نے عوام میں اپنے حقوق کا شعور پیدا کیا ہے تو یہ شعور صرف پٹرول تک محدود نہیں رہنا چاہیئے اسے بجلی،تعلیم،صحت،روزگار اور معیشت کے ہر بنیادی مسئلے تک پہنچنا چاہیئے اور سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مستقبل کی سیاست محض اقتدار کی کشمکش سے نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کی جدوجہد سے اپنا اعتبار قائم کرے گی۔
مزید پڑھیں






