استاد کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ شمع ہے۔ میں اس تشبیہ سے اتفاق نہیں کرتی۔ شمع تو جل کر ختم ہو جاتی ہے، جب کہ استاد ختم نہیں ہوتا۔ وہ تقسیم ہوتا ہے۔ وہ اپنے شاگرد کے لہجے میں، اس کے کردار میں اور اس کے فیصلوں میں زندہ رہتا ہے۔
استاد کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ دنیا کا واحد شخص ہے، جو اپنی اہمیت ختم کرنے کے لیے محنت کرتا ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ اولاد ہمیشہ ان کے پاس رہے۔ دوست چاہتا ہے کہ آپ اسے ہمیشہ یاد رکھیں۔ دکاندار چاہتا ہے کہ گاہک اسی کا محتاج رہے۔ لیکن ایک سچا استاد آپ کو اس دن کے لیے تیار کرتا ہے، جب آپ کو اس کی ضرورت نہ رہے۔ وہ آپ کو اپنے بغیر جینا سکھاتا ہے۔ دنیا میں اور کون ہے، جو اپنی ضرورت ختم کرنے کے لیے اتنی دیانت داری سے کام کرے؟ یہی اصل عظمت ہے۔
استاد آپ کو وہ مضمون نہیں پڑھاتا، جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ وہ آپ کو وہ مضمون پڑھاتا ہے، جو آپ کے اندر لکھا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک بچہ اگر ریاضی میں کمزور ہو تو ہم اسے نالائق کہہ دیتے ہیں۔ لیکن ایک اچھا استاد اسی بچے کے ہاتھوں کی حرکت دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں ہنر ہے۔ وہ اس سے کہتا ہے کہ تم فارمولے چھوڑو اور لکڑی سے کچھ بنا کر دکھاؤ۔ وہی بچہ، جسے دنیا نے رد کر دیا تھا، ایک دن عظیم کاریگر بن جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ استاد آپ کو نصاب نہیں، آپ کا نصیب پڑھاتا ہے۔
استاد علم نہیں دیتا، سوال دیتا ہے۔ علم تو آج ہر جگہ دستیاب ہے۔ اصل کمی سوال کی ہے۔ ایک اچھا استاد آپ کے ذہن میں ایک ایسا سوال چھوڑ دیتا ہے، جو آپ کو سونے نہیں دیتا۔ وہ پوچھتا ہے کہ اگر سچ اتنا اچھا ہے تو لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ وہ پوچھتا ہے کہ اگر محنت کامیابی دیتی ہے تو مزدور سب سے زیادہ امیر کیوں نہیں؟ یہی سوال آپ کی نیند چراتے ہیں اور یہی چوری آپ کو جگاتی ہے۔ جو قوم سوال کرنا سیکھ لے، اسے کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔ ہم سمجھتے ہیں، استاد کی عزت یہ ہے کہ اس کے سامنے سر جھکا دیا جائے۔ نہیں، اصل عزت یہ ہے کہ جب آپ تنہا ہوں اور کوئی دیکھنے والا نہ ہو، تب بھی آپ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آپ کے استاد کا سر جھک جائے۔ کیونکہ استاد کی عمر کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی۔ استاد دنیا سے چلا بھی جائے تو اس کا نام آپ کے نام کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ لوگ کہیں گے کہ یہ فلاں کا شاگرد ہے۔ آپ کا کردار ہی آپ کے استاد کی آخری سند ہے۔
مزید پڑھیں





