بچوں کے پیٹ میں کیڑے: اسباب و علاج،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
بچپن کی مسکراہٹ اور شوخی گھر کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہے، مگر بعض اوقات ننھے پھول مرجھانے لگتے ہیں اور والدین سمجھ نہیں پاتے کہ اچانک ایسا کیا ہوا جو چہکتا ہوا بچہ خاموش، اداس یا شدید چڑچڑے پن کا شکار ہو گیا۔ بھوک کی بے ترتیبی، وزن میں مسلسل کمی، رات کو سوتے میں بے چینی یا دانت پیسنا، اور نت نئے مزاجی تغیرات دراصل اس خاموش چور کی علامت ہو سکتے ہیں جو بچے کے جسم کے اندر چپکے سے داخل ہو کر اس کی تمام غذائیت چرانے لگتا ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر طبی اعتبار سے پیٹ کے کیڑے ننھی جانوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کو گھن کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔
اس مسئلے کی سب سے بنیادی اور عام وجہ بچوں کی فطری تجسس پسندی اور صفائی کے بنیادی اصولوں سے لاعلمی ہے۔ پاؤں پاؤں چلنے یا کھیلنے کی عمر میں بچے ہر چیز کو چھوتے ہیں اور اکثر ہاتھ یا مختلف اشیاء منہ میں ڈالنے کے عادی ہوتے ہیں۔ زمین، گلی محلوں کے کھلے میدان یا گملوں کی مٹی چاٹنا، کچی دیواروں کے پلستر کھرچ کر کھانا اور فرش پر گری اشیاء اٹھا کر منہ میں رکھ لینا کیڑوں کے انڈوں کو انسانی آنتوں تک پہنچانے کا آسان ترین ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناقص غذا، بازار کے کھلے کٹے ہوئے پھل، گندا یا نیم ابلا پانی، مکھیاں بیٹھے کھانے اور آدھے پکے گوشت یا کچی سبزیوں کا استعمال بھی اس بلا کو دعوت دیتا ہے۔ بیت الخلا کے استعمال کے بعد یا کھانا کھانے سے پہلے صابن سے اچھی طرح ہاتھ نہ دھونا اور ننگے پاؤں آلودہ زمین پر چلنا بھی پیٹ میں طفیلیوں کے داخلے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
جب یہ کیڑے آنتوں میں جڑ پکڑ لیتے ہیں تو بچے کے جسم کو درکار بنیادی وٹامنز، منرلز اور خون کی کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ بچہ بظاہر پیٹ بھر کر بھی کھائے تو اس کے جسم کو نہیں لگتا۔ اس کا رنگ زرد پڑ جاتا ہے، آنکھوں کے گرد ہلکے نمایاں ہو جاتے ہیں، اور مقعد کے گرد شدید خارش کی شکایت رہنے لگتی ہے جو عموماً رات کے وقت بڑھ جاتی ہے۔ ناک کھجانا، منہ سے سوتے وقت رال کا ٹپکنا، ناف کے گرد ہلکا ہلکا درد رہنا، اور بلاوجہ چیخنا چلانا یا غصہ کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ معاملہ محض ضد کا نہیں بلکہ اندرونی تکلیف کا ہے۔
اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے احتیاطی تدابیر اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو بطور ہتھیار اپنانا ناگزیر ہے۔ بچوں کے ناخن باقاعدگی سے تراشے جائیں کیونکہ کیڑوں کے خردبینی انڈے ناخنوں کے اندر باآسانی پناہ لے لیتے ہیں اور خوراک کے ساتھ دوبارہ پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ کھانے سے قبل اور رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک صابن سے دھونے کی عادت کو کھیل کھیل میں پختہ کیا جائے۔ گھر کے لیے پینے کا پانی ابال کر استعمال کیا جائے اور کچی سبزیوں یا سلاد کو سرکہ ملے پانی یا نمک سے دھو کر صاف کیا جائے۔ اس کے علاوہ بچوں کے بستر کی چادریں اور زیرِ جامہ گرم پانی سے دھو کر تیز دھوپ میں سکھانا بے حد ضروری ہے تاکہ انفیکشن کے بار بار لوٹ کر آنے کا چکر ٹوٹ سکے۔ میٹھی اور بازاری تلی ہوئی اشیاء میں کمی اور کدو کے بیج، گاجر اور لہسن جیسی قدرتی اشیاء کا خوراک میں اعتدال سے استعمال بھی اندرونی صفائی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
طبی طریقہ علاج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہومیو پیتھی اس مسئلے میں علامات کے باریک بین مطالعے کے ذریعے نہایت محفوظ، نرم اور پائیدار نتائج فراہم کرتی ہے۔ ہومیو پیتھی صرف طفیلیوں کا خاتمہ نہیں کرتی بلکہ آنتوں کے اس ناسازگار ماحول کو بھی درست کرتی ہے جس میں یہ کیڑے پرورش پاتے ہیں۔
پیٹ کے کیڑوں کے لیے اولین اور بے حد معروف دوا سینا اس وقت جادوئی اثر دکھاتی ہے جب بچہ بے پناہ چڑچڑا، بد مزاج اور ضدی ہو جائے۔ وہ کسی کو اپنے پاس نہ بیٹھنے دے، مسلسل ناک کھجاتا رہے، رات کو سوتے ہوئے دانت پیسے، چونک کر جاگے اور پیٹ کے بل سوئے۔ سینا کے مریض بچے کو ہر وقت غیر معمولی بھوک ستاتی ہے مگر وزن مسلسل گھٹتا رہتا ہے۔
دوسری اہم دوا ٹیلیئم میٹالکم ہے، جو خاص طور پر ان بچوں کے لیے موزوں ہے جنہیں مقعد کے مقام پر شدید خارش اور رینگن کا احساس ہو، بالخصوص جب وہ رات کو گرم بستر میں لیٹتے ہیں۔ ایسے بچوں میں دھاگہ نما باریک کیڑے بکثرت پائے جاتے ہیں۔
اگر بچے کو مٹی، چاک، کوئلہ، چونا یا کچے چاول کھانے کی شدید عادت ہو تو ایلوسینٹینا یا سورینم کے ساتھ ساتھ ایلو مینا اور کیلکیریا کارب ایک بہترین انتخاب ثابت ہوتی ہیں۔ کیلکیریا کارب کا بچہ عموماً موٹا، تھلتھلا اور پیلے رنگ کا ہوتا ہے، جس کے سر پر سوتے میں بکثرت پسینہ آتا ہے اور اس کا ہاضمہ مستقل خراب رہتا ہے۔
اسی طرح جب کیڑوں کی وجہ سے بچے کا پیٹ پھولا رہے، گیس کثرت سے بنے، زبان پر سفید یا پیلی تہہ جمی ہو اور بچہ شدید کمزوری اور سستی محسوس کرے تو نیٹرم فاس اور سانتونینم جیسی دوائیں معجزاتی اثرات ظاہر کرتی ہیں۔ نیٹرم فاس تیزابیت اور معدے کی کھٹاس کو ختم کر کے کیڑوں کے زندہ رہنے کا ماحول ختم کر دیتی ہے۔
ایک بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ بچوں کے نازک وجود کے لیے خود تشخیصی ادویات کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج مریض کے انفرادی مزاج، علامات کے اتار چڑھاؤ اور جسمانی کیفیت کو دیکھ کر دوا اور اس کی طاقت کا تعین کرتا ہے۔ صفائی ستھرائی کی سخت نگرانی، معیاری گھریلو غذا اور بروقت ہومیو پیتھک توجہ ننھے بچوں کو اس اذیت ناک بیماری سے مستقل نجات دلا کر ان کے چہروں کی قدرتی شادابی اور ہنسی لوٹا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں





