بیٹی اور بیٹے کی تربیت میں فرق۔ تحریر نور فاطمہ
نقطہ نظر
ہم نے بیٹی کو پردہ سکھایا اور بیٹے کو؟ہم اپنے معاشرے میں بیٹی کو بچپن سے پردہ سکھاتے ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ نظریں جھکا کر چلو، آہستہ بولو، کپڑے ڈھک کر پہنو اور کسی غیر محرم سے فاصلہ رکھو۔ یہ تربیت بہت ضروری اور قابلِ تعریف ہے، کیونکہ پردہ اسلام کا حکم اور عورت کی عزت و حفاظت کا ذریعہ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے بیٹے کو بھی پردہ سکھایا؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم عورت سے پہلے مرد کو دیا ہے۔ سورہ نور میں ارشاد ہے: "مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ مرد کا پردہ اس کی نظروں میں ہے۔ بیٹی کو پردہ سکھانے کے ساتھ ساتھ بیٹے کو نظروں کا پردہ سکھانا بھی اتنا ہی فرض ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا دوہرا معیار ہے۔ بیٹی اگر ذرا سا تیز لباس پہن لے تو اسے ٹوکا جاتا ہے، لیکن بیٹا اگر راہ چلتی لڑکی کو گھورے، فقرے کسے یا سوشل میڈیا پر کسی کی تصویر کو غلط نظر سے دیکھے تو اسے مذاق میں ٹال دیا جاتا ہے۔ یہ تربیت کا بہت بڑا خلا ہے۔
ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ بیٹے کو سکھائیں کہ عورت کی عزت کرنا مردانگی ہے۔ اسے سکھائیں کہ اس کی نظریں بھی اس کے کردار کا آئینہ ہیں۔ اگر وہ کسی عورت کو دیکھے تو فوراً نظریں جھکا لے، عزت سے پیش آئے اور کبھی کسی کو اپنی نظروں سے تکلیف نہ پہنچائے۔ اسے یہ بھی بتائیں کہ سوشل میڈیا پر عورتوں کی تصاویر دیکھنا اور ان پر غلط کمنٹس کرنا بھی بے پردگی میں شامل ہے۔
یاد رکھیں، ایک با پردہ معاشرہ صرف بیٹیوں کے پردے سے نہیں بنتا، بلکہ بیٹوں کی پاکیزہ نظروں سے بنتا ہے۔ جب بیٹے با حیا ہوں گے تو بیٹیاں خود بخود محفوظ ہو جائیں گی۔ اصل توازن یہی ہے کہ بیٹی کو حیا کا لباس پہنایا جائے اور بیٹے کو حیا کی نظر دی جائے۔





