Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چہرے نہیں ،کردار پہچانیے، تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

ہماری معاشرتی تربیت میں عمر کو ہمیشہ احترام کی علامت سمجھا گیا ہے۔ سفید بال، جھریوں بھرا چہرہ، ہاتھ میں تسبیح، کندھے پر شال یا دھیمی آواز میں بات کرنے والا شخص ہمیں عموماً قابلِ اعتماد محسوس ہوتا ہے۔ ہم اسے دیکھ کر اپنی بیٹی، بہن یا بچے کو بے خوف اس کے قریب بھیج دیتے ہیں۔ مگر کیا عمر واقعی کردار کی ضمانت ہے؟ کیا سفید بال نیت کو بھی سفید کر دیتے ہیں؟ شاید نہیں!

حالیہ دنوں میں نیو ناظم آباد کراچی میں پیش آنے والے ایک مبینہ نازیبا حرکت کے واقعے نے ایک بار پھر اس سوال کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں اور خواتین کو تحفظ کا شعور کس طرح دیں۔ یہاں مقصد کسی فرد کو مجرم قرار دینا نہیں، کیونکہ کسی بھی واقعے کی حقیقت کا فیصلہ شواہد اور قانونی عمل سے ہوتا ہے؛ اصل موضوع اس سے کہیں بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم چہروں پر اعتبار کرتے ہیں یا کردار کو پہچاننے کی تربیت بھی دیتے ہیں؟


ہماری ایک عجیب نفسیات ہے۔ کوئی شخص عمر رسیدہ ہو تو ہم فوراً اسے ”بزرگ“ کہہ دیتے ہیں۔ حالاں کہ بزرگی عمر کا نہیں، کردار کا منصب ہے۔ ایک شخص ستر برس کا ہو کر بھی اخلاقی طور پر کم ظرف ہو سکتا ہے، جبکہ ایک نوجوان اپنے کردار، علم اور ذمہ داری کے باعث حقیقی معنوں میں بزرگ ہو سکتا ہے۔ باپ ہونا صرف ایک رشتہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ ماں ہونا بھی محض ایک نسبت نہیں، ایک امانت ہے۔ اسی طرح ”انکل“، ”چچا“، ”ماموں“ یا ”دادا“ جیسے الفاظ کسی شخص کو خود بخود قابلِ اعتماد نہیں بنا دیتے۔ رشتوں کے نام معاشرتی احترام ضرور پیدا کرتے ہیں، مگر کردار کا سرٹیفکیٹ نہیں ہوتے۔


یہ بات خاص طور پر والدین کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو ہر اجنبی سے ڈرانا تربیت نہیں، بلکہ انہیں اچھے اور برے رویے میں فرق سمجھانا اصل تربیت ہے۔ بچے کو بتایا جائے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی معزز، عمر رسیدہ یا شناسا کیوں نہ ہو، اگر وہ اسے غیر مناسب انداز میں چھونے، تنہائی میں بلانے، خاموش رہنے پر مجبور کرنے یا کسی ایسے عمل کے لیے کہے جس سے اسے خوف یا شرمندگی محسوس ہو تو اسے فوراً انکار کرنا چاہیے اور کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتانا چاہیے۔


خواتین کے لیے بھی یہی شعور ضروری ہے۔ ہر شخص کو صرف لباس، لہجے، عمر یا ظاہری شرافت سے پرکھنا محفوظ رویہ نہیں۔ حلیہ ایک تعارف ہو سکتا ہے، کردار کی ضمانت نہیں۔ انسان کی اصل شناخت اس کا مسلسل رویہ، دوسروں کے ساتھ برتاؤ، حدود کا احترام اور نیت کے عملی اظہار سے ہوتی ہے۔


المیہ یہ بھی ہے کہ چند لوگوں کے غلط کردار کا بوجھ پورا معاشرہ اٹھاتا ہے۔ جب کوئی عمر رسیدہ شخص کسی نامناسب حرکت کا مرتکب ہونے کا الزام سنتا ہے تو معاشرے میں موجود حقیقی بزرگ بھی شک کی نگاہ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ وہ لوگ جو نسلوں کی حفاظت، تربیت اور رہنمائی کرتے ہیں، ان کے لیے بھی اعتماد کا ماحول متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے بزرگ اور صرف بڈھے ہونے میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔


جانور کی فطرت شاید اس سے کہیں زیادہ واضح ہوتی ہے؛ راہ چلتا کتا اپنی موجودگی اور رویے سے فوراً بتا دیتا ہے کہ اس سے فاصلہ رکھنا ہے یا نہیں۔ انسان کا معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ وہ مسکراہٹ، شرافت، تعلق اور مہذب گفتگو کے پردے میں اپنی اصل شخصیت چھپا سکتا ہے۔ اسی لیے انسانی معاشرے میں شعور، حدود کی پہچان اور محتاط رویہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔


ہرا ساں کرنے کے واقعات صرف ایک فرد کی عزت مجروح نہیں کرتے، وہ پورے معاشرے کے اعتماد کو زخمی کرتے ہیں۔ خصوصاً جب معاملہ کم عمر بچیوں یا نوجوان خواتین سے متعلق ہو تو والدین کا محتاط ہونا فطری ہے۔ مگر احتیاط کا مطلب خوف کی ایسی دیوار کھڑی کرنا نہیں کہ بچہ اپنی مشکل بتانے سے بھی گھبرانے لگے۔ اسے ایسا اعتماد دینا ہوگا کہ اگر کبھی کوئی نامناسب واقعہ پیش آئے تو وہ خاموش رہنے کے بجائے فوراً اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کرے۔

آخرکار ہمیں اپنے بچوں کو یہ سبق دینا ہوگا کہ ہر سفید داڑھی بزرگ نہیں، ہر خوب صورت چہرہ شریف نہیں، اور ہر میٹھی زبان قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ انسان کو اس کے حلیے سے نہیں، اس کے کردار سے پہچانیے۔……اور شاید یہی اس پورے معاملے کا سب سے اہم سبق ہے:بزرگی عمر کے بڑھنے سے نہیں آتی؛ بزرگی اس وقت آتی ہے جب انسان کی عمر کے ساتھ اس کا کردار بھی بڑا ہو۔