Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

درد،تحریر:نمرہ امین

نقطہ نظر
nimra amin

کسی بھی درد کا ساتھ انسان کی زندگی میں چولی دامن کے ساتھ جیسا ہوتا ہے۔ جب ایک بار درد مل جائیں تو وہ کبھی بھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے ہیں اور آپ کی آخری سانس تک آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ کسی بھی درد کے ساتھ جینا انسان کی روح تک کو گھائل کر دیتا ہے۔ خواہ کیسا بھی درد ہو، انسان کو چور چور کر دیتا ہے اور اس درد کے سہارے انسان اپنی پوری زندگی گزار دیتا ہے۔

درد کتنی طرح کے ہوتے ہیں؟

اپنوں کو کھونے کا یا ان سے دور جانے کا درد، شدت سے چاہ کر چھوڑ جانے کا درد، دل کے بار بار ٹوٹ کے بکھر جانے کا درد، لوگوں سے وابستہ امیدوں کے ٹوٹنے اور ان کے کیے گئے برے رویوں کا درد۔ بے شمار درد جو انسان کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح ختم کر کے کھوکھلا کرتے جاتے ہیں۔ درد کے سہارے جینے والا انسان بہت تنہا اور خاموش ہو جاتا ہے۔ اس کو خود کی ہی زندگی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ بعض دفعہ وہ خود سے اس قدر تنگ آجاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ تک کر لیتا ہے یا زندگی ختم کرنے کی کوشش اور سوچ میں مبتلا رہتا ہے۔

زندگی کا یہ درد ایسا ہوتا ہے جو انسان کو ہنسنا، خوش رہنا، پیار کرنا، سب بھلا دیتا ہے۔ نہ ہی وہ ان سب کی اپنے لیے کسی سے امید بھی کرتا ہے۔ وہ خود کو بس اپنی تنہائی تک محدود کر کے اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے۔ انسان جب سے دنیا میں آتا ہے تو دکھ، درد، غم، خوشی سب اس کے ساتھی بن جاتے ہیں اور وقفے وقفے سے کسی نہ کسی ساتھی سے اس کا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ درد اس انتہا کو پہنچ جاتے ہیں کہ ان کا کوئی نعم البدل ہی نہیں رہتا اور تب انسان کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ایسا ٹوٹ کے بکھرتا ہے کہ زندگی بھر دوبارہ کبھی جڑ نہیں پاتا۔ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے درد کی شدت و انتہا اس کو کبھی پرسکون، خوش مزاج اور با رونق انسان بنا ہی نہیں پاتی ہے۔ وہ پتھر کی بےجان مورتی بنے ہوئے بس اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے۔

دنیا کا ہر درد اپنی جگہ ہے لیکن جب تنہائی میں بیٹھے آپ کو اپنے انتہائی عزیز اس انسان کی یاد اور کمی محسوس ہو جو آپ کو اپنی جان سے پیارا ہو، پوری دنیا سے بڑھ کر ہو، آپ کے دل کے بہت قریب ہو آپ کی محبت، چاہت، آرزو، سب اسی سے وابستہ ہو تو اس انسان کے بچھڑنے سے ملے ہوئے درد کا کوئی بھی مقابل نہیں ہوتا ہے۔ ایسا وقت، ایسا درد ہمیں بالکل قیامت کے سماع کی طرح خوفناک محسوس ہوتا ہے اور ہم اس پل میں اس قدر، اس شدت سے چلا کر خود کو نڈھال کر لیتے ہیں کہ ہماری آنکھوں سے بہتے اشکوں کی صورت برستی ہوئی بارش کی ہر بوند خشک ہو جاتی ہے۔ ہماری آنکھیں خشک اور دل بنجر ہو جاتا ہے اور بس ہم اپنے درد کے ساتھ اپنی تنہائی میں مگن رہ کر اپنی زندگی کے دن گزارتے ہیں۔ اس تنہائی میں بس اللّٰہ پاک ہی کی واحد ذات ہوتی ہے جس سے باتیں کی جاتی ہیں، اپنے دل کا حال احوال بتایا جاتا ہے۔ اس سے لو لگائی جاتی ہے کہ بس وہی واحد سہارا ہے جو ایک ٹوٹ کے بکھرے ہوئے انسان کو سنبھال سکتا ہے اور اس کی باقی تمام زندگی کو پرسکون کر سکتا ہے۔ اللّٰہ پاک پر کامل یقین انسان کو فرش سے عرش تک لے جاتا ہے۔ ایک وہی ہے جو انسان کی ہر بات کو سنتا، سمجھتا، جانتا ہے اور ہر راستہ دیکھاتا ہے۔

کیونکہ بے شک اللّٰہ پاک ہی دلوں کے حال خوب جانتا ہے۔