Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دل کے جالے،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

انسان بھی کتنا عجیب اور متضاد واقع ہوا ہے! وہ اپنے مادی وجود، ظاہری زیب و آرائش اور اردگرد کے ماحول کو چمکانے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے، مگر اپنے اندر کی دنیا اور باطنی خوبصورتی سے بالکل غافل ہو جاتا ہے۔ ہم روز اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ صاف کرتے ہیں، دیواروں اور کونوں پر نظر دوڑاتے ہیں اور جہاں کہیں مکڑی کا ایک چھوٹا سا جالا بھی نظر آئے، فوراً جھاڑو اٹھا کر اسے صاف کر دیتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے رہنے کی جگہ پر گندگی یا عیب بالکل پسند نہیں ہوتا۔ لیکن کبھی ہم نے ٹھنڈے دماغ سے سوچا ہے کہ ہم انسان گھر کے جالے تو روز صاف کرتے ہیں، مگر اپنے ہی دل میں لگے جالوں کو صاف کرنا کیوں بھول جاتے ہیں؟


آخر یہ دل کا جالا کیا ہے اور یہ کیسے بنتا ہے؟ یہ وہ جالا ہے جسے کوئی مکڑی نہیں بنتی، بلکہ یہ ہماری اپنی منفی سوچیں، پرانی تلخ یادیں، حسد، کینہ، بغض، انا اور وہ تمام غلط فہمیاں ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے دل کے خوبصورت اور صاف ستھرے مکان پر تن جاتی ہیں۔ جب زندگی کے سفر میں کسی سے کوئی ناراضگی یا تلخی ہوتی ہے، تو ہم اسے درگزر کرنے اور معاف کرنے کے بجائے اس کڑواہٹ کو اپنے دل کے کسی تاریک کونے میں چھپا لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہاں منفی جذبات کا ایک ایسا جالا بن جاتا ہے جو ہمارے اندر کے سکون، اطمینان اور خوشی کو بالکل نگل جاتا ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔


گھر کی دیوار پر لگا مکڑی کا جالا تو صرف ظاہری خوبصورتی کو متاثر کرتا ہے یا دیوار کو گندا دکھاتا ہے، لیکن دل کا جالا انسان کے رشتوں، اس کے اخلاق، اس کے کردار اور اس کی ذہنی و روحانی صحت کو بیمار کر دیتا ہے۔ حسد، کینے اور منافقت کا جالا جب دل کی دیواروں پر پھیلتا ہے، تو انسان کو دوسروں کی خوشیاں، ان کی کامیابیاں اور ان کی مسکراہٹیں بھی زہر لگنے لگتی ہیں۔ وہ خود تو اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے اور بے سکون رہتا ہی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے اردگرد موجود مخلص لوگوں کی زندگی بھی عذاب بنا دیتا ہے۔ وہ ہر بات کا منفی مطلب نکالتا ہے اور یوں اس کے اپنے قریبی رشتے اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔


دل کے ان زہریلے جالوں کو صاف کرنے کا ایک ہی بہترین، آزمودہ اور نبوی طریقہ ہے اور وہ ہے "معاف کر دینا اور درگزر کرنا"۔ جب تک ہم دوسروں کی غلطیوں، کوتاہیوں اور زیادتیوں کو دل سے صاف نہیں کریں گے، تب تک ہمارے اندر کا مکان کبھی اجلا، روشن اور پرسکون نہیں ہو سکتا۔ جس طرح روزانہ گھر کی صفائی ستھرائی ضروری ہے تاکہ وہاں بیماریاں نہ پھیلیں، بالکل اسی طرح روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنے دل کی عدالت لگانا اور اس کا جائزہ لینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر اس میل کچیل، نفرت اور تلخی کو اپنے دل سے جھاڑ دیں جو ہمیں بے سکون کرتی ہے اور اللہ کی مخلوق کے لیے اپنے دل کو وسیع کر لیں۔


ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کا کوئی بھی صابن یا عطر ہمارے باطن کو پاکیزہ نہیں کر سکتا جب تک ہم خود اپنے خیالات کی صفائی نہ کریں۔ آئیے آج اس مبارک دن یہ پختہ عہد کریں کہ جہاں ہم اپنے گھروں، لباس اور چہروں کی صفائی کا اس قدر خیال رکھتے ہیں، وہاں اپنے دلوں کی نازک دیواروں کو بھی حسد، نفرت، کینے اور بدگمانی کے جالوں سے ہمیشہ پاک رکھیں گے۔ کیونکہ ایک صاف، دھلا ہوا اور مطمئن دل ہی وہ واحد مقدس جگہ ہے جہاں حقیقی خوشی، رب کی رضا اور ذہنی سکون کا مستقل بسیرا ہوتا ہے۔ اگر دل صاف ہو جائے تو انسان کا قلم بھی حق اور سچ کی خوشبو پھیلانے لگتا ہے۔