وقت نے بہت کچھ بدل دیا تھا مجھے اس بات کا احساس تب ہوا جب میں اپنا پہلا شعری مجموعہ شائع ہونے پر خوشی خوشی اسکے گھر گئی تھی
ہم بچپن سے لے کر میڑک تک ایک ساتھ تھے ہمادی دوستی بہت گہری تھی مگر نہ جانے بدگمانی نے کہاں جنم لیا
دروازے پر دستک دی تو چند سیکنڈ بعد اسکی والدہ محترمہ سامنے تھیں
میں بہت احترام سے سلام کیا اور حال احوال دریافت کرنے کے لیے لب ہلانے ہی والی تھی کہ
تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ تم کبھی منتہا سے دوبارہ نہیں ملو گی تو پھر کیوں آئی ہو
میں نے دکھی دل کے ساتھ آنکھوں میں آئے آنسو ضبط کر کے انکے چہرے پر ناگواری کے تاثرات دیکھے
آپ آج تک خفا ہے آنٹی مگر کس بات پر ?
میں اپنی کتاب چھپ جانے پر بے حد خوشی سے منتہا سے ملنے آئی ہوں
پلیز ملنے دیجیے
خبردار ایک قدم بھی آگے بڑھایا وہ تم سے ملنا نہیں چاہتی جاؤ یہاں سے
قدم تو تھم چکے تھے سماعتوں پر بے یقینی کے موسم چھا گئے
اس سے پہلے کہ دروازہ میرے منہ پر بند ہوتا
منتہا کی آواز میری سماعتوں سے ٹھکرائی
امی ٰ امی ، کون ہے
وہ چپیل گھیسٹی ہوئی باہر صحن میں کھڑی تھی
مگر آنٹی نے کہا کوئی نہیں اور میرے منہ پر دروازہ بند کر دیا میں بوجھل قدموں سے نم آنکھوں سے دروازے کو دیکھتے ہوئے گھر کی طرف واپس لوٹ آئی
کبھی ایک وقت تھا یہ گھر مجھے میرے ہی گھر کی ہی طرع لگتا تھا ہر کوئی ہماری دوستی پر رشک کرتا تھا مجھے یاد ہے وہ میرے آنے پر سب کچھ چھوڑ کر بنا چپل پہنے بنا ڈوپٹہ لیے کمرے سے بھاگتی آتی تھی اور مجھ سے لیپٹ جاتی تھی
کتنے خوبصورت لمحے تھے زندگی کے
جب میں جانے کا کہتی تو اُس کی آنکھوں سے لمحہ لمحہ اترتی اداسی کے منظر چھا جاتے
بہت معصومیت سے میرے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں تھام کر کہتی مت جاؤ
آسماں پر گہرے بادل چھاتے تو ہم اپنی دوستی کا رنگ جماتے وہ میرے گھر آ جاتی یا میں اس کے گھر کھلی چھت کے نیچے ہم چاہے اور پکوڑوں سے لطف اندوز ہوتے
ہاتھوں میں ہاتھ تھامے آسماں کی طرف دیکھنا آسماں کی وسعتوں میں گہرے بادلوں کا تیز تیز بھاگتے ایک پل ٹھہر جانا ہلکی ہلکی رم جھم میں وہ ہمارا بے خبر ہو کر بھیگتے رہنا
ہماری دوستی میں کبھی کوئی تیسری دوست موجود نہیں تھی ہم دونوں ایک دوسرے سے دل کی ہر بات بہت باکی سے شئیر کرتیں فیملی ایشوز اپنی سٹڈی سے وابستہ یہاں تک کہ کس وقت کیا کھایا کیا پیا سب شئیر کرتے وہ پل بھولے سے بھی بھولنے والے تو نہ تھے
مجھے اردو ادب سے لگاؤ تھا اور منتہا کو فزکس سے جو میری سمجھ سے بہت دور بلکہ نہ ممکن تھیں وہ ایک ذہن ترین اسٹوڈنٹ تھی
میڑک کے بعد میں لاہور تعلیم کے لیے اپنی سسٹر کے پاس چلی گئی جس پر منتہا مجھ سے بے حد خفا تھی جس سے ملے بنا ایک پل نہ گزرتا تھا اب اس سے ملنا بہت مہینوں بعد ہونا تھا میں بھی اس کے بنا خوش نہیں تھی جانے کے لیے
آنٹی کو بہت کہا اسکی پوری فیملی سے گزارش کی کہ ہم دونوں لاہور جاتے ہیں مگر اس کی فیملی دقیانوسی سوچ کی مالک تھی انہوں نے کہا میڑک سے آگے نہیں پڑھنا بس بہت ہے
لاہور آنے کے بعد میرا منتہا سے رابطہ خط و خطابت تک ہی ممکن تھا میں ہر ہفتے خط لکھتی مگر اس کی طرف سے جواب ایک دو بار ہی آیا دل میں ہزاروں سوال تھے میں نے لاہور دروان تعلیم کسی سے بھی دوستی نہ کی کیوں کہ میرے لیے وہ ہی ایک دوست میری اور جب تک زندگی تب تک اسے ہی دوست کہوں گی
فرسٹ ائیر کے امتحانات سے فری ہو کر گاؤں گئی تو گھر میں بیگ رکھتے ہی منتہا کے گھر پہنچ جاتی ہماری باتیں ختم ہی نہ ہوتی ہم دیر تک ایک دوسرے سے دھیمی دھیمی آواز میں باتیں کرتی ہنستی مسکراتی ہاتھوں میں ہاتھ لیے اور جب میں گھر جانے کا کہتی تو وہ اُن تھامے ہوئے ہاتھوں کو بہت حسرت سے دیکھتی ہو اس کی آنکھوں پر اُداسیوں کے موسم رقص کرنے لگ جاتے وہ ایک دم خاموش گم سم ہو جاتی
وہ اکثر مجھے کہتی کہ تم بہت ہمت والی ہو اور تمہاری فیملی بھی بہت اچھی ہے وہ تمہیں سمجھتےہیں
میں نے کہا منتہا میں اتنے خط لکھے تم نے بس دو کے جواب دیے
اس کا حافظہ اس قدر اچھا تھا کہ اسے میرے لکھے سبھی خط زبانی یاد تھے
اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے یہ آخری ملاقات تھی
میں لاہور واپس چلی گئی اور سٹڈی میں مصروف ہو گئی اردو ادب سے لگاؤ تھا اکثر منہتا کو یاد کرتے شعر لکھنے لگی
ایف اے مکمل کیا تو شعری مجموعہ بھی شائع کرا لیا
اب چھٹیاں ذرا طویل تھیں بہت خوشی خوشی گاؤں واپس آئی بیگ رکھتےہی اپنا شعری مجموعہ نکالا جس کا انتساب ہی منتہا کے نام تھا
کتاب لیےاسکے گھر کی جانب گئی تو اُس کی امی نے ملنے سے روک دیا
کہ میری بیٹی کا دماغ خراب کرنے والی تم ہو جاؤ یہاں سے دوبارہ کبھی مت آنا
ہماری سچی دوستی انا اور دقانوسی سوچ کی نظر ہو چُکی تھی وہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے جُدا ہو چُکی تھی ہماری دوستی ہنسی خوشی سب کو نظریں کھا گئی تھیں
میرے لیے اس سے دوستی کے حسین منظر ہمیشہ ذہن و دل پر رہیں گے میں اُسے کبھی بھول نہیں سکتی
مزید پڑھیں





