Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فکر کا دریچہ،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ


کہتے ہیں ہر گھر میں ایک کھڑکی ایسی ضرور ہوتی ہے جو صرف باہر کا منظر نہیں دکھاتی، اندر کے موسموں کا بھی پتا دیتی ہے۔ کبھی اس کھڑکی سے دھوپ اترتی ہے، کبھی بارش کی بوندیں شیشے پر اپنی انگلیوں سے کچھ لکھتی ہیں اور کبھی شام کا دھندلکا آ کر خاموشی سے بیٹھ جاتا ہے۔ انسان کا ذہن بھی ایسا ہی ایک دریچہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گھر کی کھڑکی باہر کھلتی ہے اور فکر کا دریچہ اندر بھی کھلتا ہے اور باہر بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس دریچے پر مدت سے پردے ڈال رکھے ہیں۔


صبح جب شہر جاگتا ہے تو سڑکوں پر قدموں کی ایک لمبی قطار چل پڑتی ہے۔ دکانیں کھلتی ہیں، گاڑیاں دوڑتی ہیں، موبائل فون روشن ہوتے ہیں اور ہر شخص کسی نہ کسی منزل کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر زندگی رواں دواں ہے مگر کبھی کسی راہ گیر کو رک کر یہ سوچنے کی فرصت نہیں ملتی کہ وہ جس سمت جا رہا ہے، وہ واقعی اس کی منزل ہے بھی یا نہیں۔ شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے رفتار کو مقصد سمجھ لیا ہے۔ ہم تیز چلنے پر تو فخر کرتے ہیں مگر سمت کے بارے میں سوال کرنے سے گھبراتے ہیں۔

فرض کیجئے۔۔۔ ایک بوڑھا درخت شہر کے کنارے کھڑا ہے۔ اس کی شاخوں پر موسموں کے کئی قصے لکھے ہیں۔ ایک دن ایک نوجوان اس سے پوچھتا ہے، "تم اتنے برسوں سے یہاں کھڑے ہو، تم نے آخر کیا حاصل کیا؟” درخت نے کچھ نہیں کہتا۔ ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے سرسراتے ہیں۔ نوجوان پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہوتی ہے۔ درخت نے اپنی جگہ نہیں بدلی مگر اس نے ہر موسم کو بدلتے دیکھا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ بہار ہمیشہ نہیں رہتی، خزاں آخری حقیقت نہیں ہوتی اور تیز ہوا بھی جڑوں کو تباہ نہیں کر سکتی لیکن شرط یہ ہے کہ زمین سے رشتہ مضبوط ہو۔

ہماری زندگی میں بھی ایسے ہی درخت موجود ہیں۔۔۔ بزرگ، کتابیں، تجربات، ناکامیاں اور وہ خاموش لمحے جنہیں ہم بےکار سمجھ کر گزار دیتے ہیں مگر ہم نے سننے کی صلاحیت کم اور بولنے کی عادت زیادہ پیدا کر لی ہے۔ ہر شخص اپنی بات کہنا چاہتا ہے، کوئی دوسرے کی بات سمجھنا نہیں چاہتا۔ اختلاف اب مکالمے کا دروازہ نہیں کھولتا بلکہ دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ہم نے اپنے اندر کے دریچے بند کر دیے ہیں۔ جس دل میں سوال زندہ نہ رہے، وہاں جواب بھی بےمعنی ہو جاتے ہیں۔

فکر کا دریچہ دراصل سوال کا دریچہ ہے۔ سوال کرنا محض اعتراض کرنا نہیں بلکہ سوال کرنا اپنے آپ سے ملاقات کی ابتدا ہے۔ ایک بچہ جب پوچھتا ہے کہ آسمان نیلا کیوں ہے؟، دریا بہتا کیوں ہے؟ اور پرندہ اڑتا کیسے ہے؟ تو وہ صرف دنیا کے بارے میں نہیں جاننا چاہتا، وہ دنیا کو سمجھنے کی پہلی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ پھر عمر بڑھتی ہے اور ہم سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں یقین ہونے لگتا ہے کہ جو کچھ ہمیں بتایا گیا ہے، وہی مکمل سچ ہے۔ یوں علم کی جگہ عادت لے لیتی ہے اور سوچ کی جگہ تقلید۔

کتابیں بھی اسی دریچے کی طرح ہوتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب ہمیں دنیا سے باہر نہیں لے جاتی بلکہ اسی دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا سکھاتی ہے۔ وہی گلی، وہی لوگ، وہی رشتے اور وہی مسائل اچانک مختلف دکھائی دینے لگتے ہیں۔ شاید مطالعے کی اصل برکت یہی ہے کہ انسان دوسروں کے تجربات سے گزر کر اپنے تجربے کو وسیع کر لیتا ہے۔ جو شخص صرف اپنی آنکھ سے دنیا دیکھتا ہے، اس کی دنیا اس کی نظر کی حد تک ہوتی ہے مگر جو دوسروں کی آنکھ سے بھی دیکھنا سیکھ لے، اس کے لیے دنیا بہت وسیع ہو جاتی ہے۔

آج ہماری گفتگو کا بڑا حصہ شور میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خبروں کی یلغار ہے، تبصروں کی بھرمار ہے، رائے کی فراوانی ہے مگر غور و فکر کے لیے وقت کم ہے۔ ہر واقعہ فوری ردِعمل مانگتا ہے۔ ہم سوچنے سے پہلے بولتے ہیں اور سمجھنے سے پہلے فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ شاید ہمیں کبھی کبھی اپنی آواز سے تھوڑا فاصلہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسروں کی آواز سنائی دے سکے۔ خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی، بعض اوقات خاموشی ذہن کا وہ کمرہ ہوتی ہے جہاں خیالات اپنی اصل شکل اختیار کرتے ہیں۔

فکر کا دریچہ کھلا ہو تو آدمی اپنے مخالف میں بھی انسان دیکھ لیتا ہے، اپنی ناکامی میں بھی سبق تلاش کر لیتا ہے اور اپنی کامیابی میں بھی عاجزی کی کوئی وجہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی سیدھی لکیر نہیں بلکہ کئی موڑوں کا سفر ہے۔ ہر موڑ پر منظر بدلتا ہے، مگر مسافر وہی رہتا ہے۔ اصل سفر شاید راستوں کا نہیں، انسان کے اندر بدلتی ہوئی نگاہ کا سفر ہے۔

ہم میں سے ہر شخص کے اندر ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جہاں کوئی دوسرا داخل نہیں ہو سکتا۔ اسی کمرے میں ہمارے خوف، خواب، سوال، پچھتاوے اور امیدیں رہتی ہیں۔ کبھی کبھار اس کمرے کی کھڑکی کھولنی چاہیے۔ تازہ ہوا کو اندر آنے دینا چاہیے۔ اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کیا بن گئے ہیں؟، کیا بننا چاہتے تھے؟ اور کیا بن سکتے ہیں؟ شاید کچھ سوال ہمیں پریشان کریں مگر ہر پریشانی نقصان نہیں ہوتی۔ بعض بےچینیاں انسان کو جمود سے نکال کر سفر پر روانہ کر دیتی ہیں۔

شام ڈھل رہی ہو تو کھڑکی سے باہر دیکھنے کا اپنا لطف ہے۔ پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹتے ہیں، سڑکوں کا شور آہستہ آہستہ مدھم پڑتا ہے اور آسمان اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لمحوں میں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ہر روز ہمیں کچھ نہ کچھ سمجھانے کی کوشش کرتی ہے مگر ہم اپنی مصروفیات میں اتنے گم ہیں کہ اشارے پڑھ نہیں پاتے۔ شاید زندگی کی بڑی سچائیاں کسی بلند آواز میں نہیں آتیں، وہ ہلکی سی دستک دیتی ہیں، پھر انتظار کرتی ہیں کہ کوئی اپنے اندر کا دریچہ کھولے۔

ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ دنیا کے درمیان رہتے ہوئے سوچنے کی صلاحیت محفوظ رکھیں۔ سوال زندہ رکھیں، مطالعہ جاری رکھیں، اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں، خاموشی سے گھبرائیں نہیں اور کبھی کبھی اپنے اندر جھانکنے کی زحمت بھی کریں کیونکہ جس دن انسان اپنے اندر کے دریچے بند کر دیتا ہے، اس دن باہر کی دنیا کتنی ہی روشن کیوں نہ ہو، اس کے اندر اندھیرا اترنے لگتا ہے

اور شاید زندگی کا حسن یہی ہے کہ ہر صبح ہمیں ایک نیا موقع دیتی ہے۔ پردہ ہٹانے کا، کھڑکی کھولنے کا، روشنی کو اندر آنے دینے کا۔ باہر کی دنیا کو بدلنا ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا مگر اپنی نگاہ کا دریچہ کھولنا ہمارے ہاتھ میں ضرور ہے۔ کبھی اسے کھول کر دیکھیے، ممکن ہے وہی پرانی دنیا اچانک ایک نئے معنی کے ساتھ آپ کے سامنے کھڑی ہو۔