Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حرفِ حقیقت ، تحریر: محمد عثمان

نقطہ نظر
m usman blog

گاؤں سے ذرا فاصلے پر واقع ایک سفید حویلی (جو درحقیقت ایک محل کا منظر پیش کرتی تھی) کو آج خصوصی طور پر دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ سولہ کشادہ کمروں پر مشتمل.. یہ عمارت اپنے حسن، ہیبت اور نایاب فن پاروں کے باعث بےنظیر تھی۔ دیواروں پر ”کلاڈ مونے“ اور ”وین گوہ“ کی اصل پینٹنگز، فرش پر ”قم کے ریشمی قالین اور چھتوں پر لٹکتے ہوئے ”سوارووسکی فانوس“ جن کی روشنی یوں دمک رہی تھی جیسے سونا چِھنک رہا ہو۔ حویلی کی فضا میں قیمتی ’عود‘ کی مہک بسی ہوئی تھی۔ مہمانوں کے لیے ”شاہانہ نشستوں اور مرغوب الطبع“ کھانوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ تقریب کے انتظامات میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی تھی۔ یہ سب انتظام اور تزئین و آرائش اس لیے تھا کہ! آج مرزا ایاز بیگ کے اکلوتے بیٹے؛ مرزا تیمور بیگ کی شادی کی تقریب تھی۔

مرزا تیمور بیگ... اونچا قد، گندمی رنگت، تراشیدہ داڑھی اور غرور سے لبریز نگاہیں۔ اُس کی پیشانی پر خاندانی وقار کا عکس اور آنکھوں میں اقتدار و تعلیم کا تکبر جھلکتا تھا۔ اُس نے بیچلر آف بزنس آرٹس، ایم بی اے اور قانون کی ڈگریاں ہارورڈ، ییل اور مڈلٹن اسکول آف لاء جیسے امریکن اداروں سے حاصل کی تھیں۔ اسے اپنے خاندانی پس منظر پر فخر تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے اپنی اعلیٰ اور عالمی اداروں کی ڈگریوں کا بھی بڑا زعم تھا۔ وہ چلتی پھرتی ڈگریوں کی نمائش تھا۔ اُس کی ڈگریوں نے اُسے کسی اور ہی سطح پر لا کھڑا کیا تھا جہاں عام انسانوں کی سانسیں، باتیں اور خواب؛ اُسے ایک پرانی فلم کی دھندلی ریل کی مانند محسوس ہوتے تھے۔ جب کوئی بزرگ یا رشتے دار اُس سے زندگی کے کسی سبق یا رشتوں کی نزاکت پر بات کرتا، تو وہ اندر ہی اندر مسکرا کر سوچتا:

”یہ لوگ زمانے سے پیچھے ہیں۔ انھیں کامیابی کے اصل مفہوم کا کیا پتا؟ یہ تو جذبات میں بہنے والے لوگ ہیں اور جذبات... وہ تو کمزوروں کی کرنسی ہیں!“

ایسے لوگوں کی طرف جھکاؤ اس کی ذات کا خاصہ نہ تھا، وہ اسے اپنی توہین سمجھتا تھا۔ اُس کے کمرے کی دیواروں پر اُس کی تینوں یونی ورسٹیوں کے سرٹیفیکیٹس ایسے آویزاں تھے جیسے کسی بادشاہ نے اپنی فتوحات کے پرچم گاڑ رکھے ہوں۔ وہ اکثر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے کہتا:

”میں! مرزا تیمور بیگ ہوں۔ وہی شخص جس کے پاس اعلیٰ ترین ڈگریاں ہیں اور انہی کی بدولت مجھے اُن جاہلوں پر حکمرانی کا حق حاصل ہے... اُن جاہلوں پر جو اب بھی کسی پرانی کتاب میں لکھے سنہرے اصولوں کے خواب دیکھتے ہیں۔“

لیکن شاید! وہ یہ بات بھول چکا تھا..!


”علم جب انا کے ساتھ لپٹ جائے تو روشنی نہیں دیتا۔ صرف سایا بڑھاتا ہے۔“


ماہین گو کہ اس کے مقابلے گریجویٹ تھی مگر وہ بہت خوش اخلاق، سلیقہ مند اور رکھ رکھاؤ والی لڑکی تھی۔ ذہانت اور حکمت عملی اس کو گھٹی میں ملی تھی، وہ نیلی آنکھوں والی گڑیا اس مغرور شہزادے کو بدلنے پہ مُصر (بضد) تھی۔


ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


مرزا تیمور بیگ غصے سے بپھرا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں میں شعلے اتر رہے تھے۔

”کیسے.... کیسے ہوا یہ سب؟“

(وہ خود کلامی کر رہا تھا، آواز غراتی ہوئی تھی۔)

”کیا یہ ممکن ہے! ایک معمولی سا پڑھا لکھا شخص مجھے... مجھ مرزا تیمور بیگ کو مات دے گیا..!“

اس نے بے چینی سے کوٹ اتار کر پرے اچھالا، جوتے پیروں سے نکالے اور غصے سے دیوار کی سمت پھینکے۔ گلے میں کسی بوجھ کی طرح کسی ہوئی نکٹائی (ٹائی) کی گرہ کو جھنجھلاہٹ سے کھینچتے ہوئے ڈھیلا کرنے لگا، مگر ہاتھ کانپ رہے تھے۔ لڑکھڑاتے قدموں سے بیڈ کی طرف بڑھا اور خود کو اس پر گرا دیا۔ کمرے کی چھت اسے گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ سانسیں بحال کرنے کی کوشش میں لمبے لمبے سانس لینے لگا، مگر ذہن میں گونجتے قہقہوں کی آوازیں اسے مزید بے سکون کر رہی تھیں۔

تیمور کی آنکھوں میں حیرت، غصے اور شکست کے ملے جلے تاثرات تھے۔ اُس نے کانپتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس اٹھایا مگر لبوں تک پہنچنے سے پہلے ہی پانی فرش پر پھیل گیا۔ ذہن میں اب صرف ایک شبیہہ تھی: سادہ لباس میں ملبوس، پُرعزم آنکھوں اور با اثر لہجے والا وہ عام سا شخص۔

” تیمور! پرسکون ہو جائیں۔ ایک پراجیکٹ ہی تو تھا، آپ اپنے نظریات میں تبدیلی کر کے دیکھیں ضرور آپ اگلا پراجیکٹ...“

( تیمور نے اب غصے سے ماہین کی طرف دیکھا۔)

”چٹاخ! چٹاخ! (تیمور نے دو زناٹے دار تھپڑ ماہین کی گال پر جڑ دیے) تمھاری جرات کیسے ہوئی میرے فیصلوں سے اختلاف کرنے کی؟“

(وہ دھاڑا۔ ماہین نے درد کے باوجود قدرے مستحکم لہجے میں کہا:)

”میں تمھارے فیصلوں سے اختلاف کرتی رہوں گی تیمور! جب تک تمھاری انا اور ضد ہار نہیں جاتی، میں تمھیں حقیقت کا عکس دکھاتی رہوں گی۔“

”خاموش۔“

(وہ چیخا)

”نہیں تیمور! (ماہین کے لہجے میں روانی برقرار تھی) تمھارا ہر فیصلہ درست نہیں ہو سکتا، تمھاری بات حرفِ آخر نہیں ہو سکتی، تمھیں اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی؛ تمھیں اس جعلی چمک دمک سے نکلنا ہو گا، عملی میدان میں کچھ کر کے دکھانا ہو گا..!“

”کیا مطلب ہے تمھارا... کیا مطلب میں کچھ بھی نہیں ہوں..؟“

(تیمور کا لہجہ حیرت اور غصے کا مجموعہ تھا)

”ہاں...! (ماہین نے بات کاٹتے ہوئے کہا) آپ کچھ بھی نہیں ہیں، کچھ بھی نہیں... (برسوں کی خاموشی آج ٹوٹی تھی۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ آج آئینہ دکھا کے رہے گی) مجھے یہ بتائیں کون ہیں آپ؟ مرزا ایاز بیگ کے نام کے سوا آپ کی اپنی شناخت کیا ہے؟ دولت... جس پر آپ اتنا گھمنڈ کرتے ہیں وہ بھی آپ کی کمائی ہوئی نہیں ہے بل کہ آپ کے آبا کی وراثت ہے اور یہ ڈگریاں جن پر آپ کو بڑا ناز ہے، دیا ہی کیا ہے آپ کو ان ڈگریوں نے؟ ان ڈگریوں سے آپ نے کیا حاصل کیا ہے؟ اکڑ، ضد، دوسروں سے نفرت...!“

”کیا مطلب ہے تمھارا؟“

(وہ دوبارہ دھاڑا۔ ماہین نے اپنی نیلی گہری آنکھیں پوری کھول کر تیمور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:)

”میرا مطلب بڑا واضح ہے تیمور! سوچو! وہ شخص جسے آپ معمولی سمجھتے ہیں وہ کس بنا پر آپ سے جیت گیا؟ حالاں کہ اس کے پاس نہ کوئی دولت کے انبار ہیں اور نہ ہی ڈگریوں کی بہتات..!“

”اس شخص کا نام مت لو میرے سامنے! (وہ ایک بار پھر دھاڑا) وہ شخص! میں اسے کبھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“

تیمور کے دماغ میں ایک خاکہ ابھرا... پستہ قد، سانولی رنگت، عام سادہ سے لباس اور معمولی تعلیم والا وہ شخص جس کا نام اسد میر تھا۔ جو اس کے لیے مسلسل چیلنج بنا ہوا تھا۔

”آخر کیا تھا اس شخص کے پاس؟ جسے وہ پراجیکٹ ملا..! آؤ تمھیں بتاتی ہوں، اس شخص کے پاس اعلیٰ ڈگریاں بھلے ہی نہ ہوں لیکن وہ مارکیٹنگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ اس کا اخلاق، اس کی وسیع نظر، ایمان داری اور محنت اسے ہر بار آپ سے آگے لے جاتی ہے۔ میرا خیال ہے آپ کو بھی یہی اقدار اپنانے کی ضرورت ہے۔“

”یہ دقیانوسی خیالات ہیں۔ آج کی دنیا میں جدت اور آزادی اہم ہے۔ مذہب ذاتی معاملہ ہے۔“

(اس نے مٹھیاں بھینچیں)

”اسد میر، (وہ پھر بولنے لگی) مصنوعات کی تیاری، ان کے خریدنے اور بیچنے کے جو اصول بتاتا ہے، وہ عین مقامی اور اسلامی اقدار کے مطابق ہوتے ہیں جو کمپنی کو ایک منفرد پہچان دیتے ہیں۔“

”ماہین! میرا ان روایتی چیزوں پر یقین نہیں ہے۔ عالمی کاروبار کو ”بین الاقوامی معیاروں پر چلنا چاہیے۔ مذہب کو مارکیٹنگ میں لانا درست نہیں ہے۔“

”لیکن! ہماری ایک بڑی تعداد ثقافتی اور مذہبی اقدار کو اہمیت دیتی ہے۔ ان کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہم ایک وسیع مارکیٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ (ماہین نے نرم لہجے میں کہا) جدت ضروری ہے، لیکن کیا ہم اپنی بنیادوں کو نظر انداز کر دیں؟ کیا جدت کے ساتھ اقدار کو نہیں اپنا سکتے؟ کامیاب برانڈز مقامی ثقافتوں کا احترام کرتے ہیں۔“

(تیمور بیگ اب خود پہ ضبط کھونے لگا تھا، اس کے نزدیک ایک کم پڑھی لکھی عورت اسے ایسے مشورے دے رہی تھی جو آج کل مارکیٹ میں بہت کامن ہو رہے تھے مگر وہ ان سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اسے لبرزم کا خبط تھا۔)

ماہین (جو وہاں موجود تھی) نے کچھ کہنا چاہا لیکن تیمور نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے روک دیا۔ ماہین ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔

”تمھارے غرور کا طلسم ایک دن ضرور ٹوٹے گا تیمور! دیکھ لینا تم ضرور ٹوٹے گا۔“

(وہ دل میں یہ عزم لیے باہر آ گئی۔)

اس کے متکبرانہ رویے سے تنگ آ کر ماہین گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔

کچھ ہی دنوں میں اس کی زندگی کی ساری روٹین خراب ہو کر رہ گئی۔ آئے روز کوئی نا کوئی ناکامی اس کی راہ تک رہی ہوتی ہے۔ گھر میں کام کرنے والے ملازمین بھی ایک ایک کر کے اسے چھوڑنے لگتے ہیں۔ حویلی، جو کبھی خوشیوں اور رونقوں کا گہوارہ تھی، اب سناٹے اور خاموشی کا شکار ہو چکی تھی۔ دیواروں پر لٹکتے قیمتی پردے اور فانوس بھی جیسے اپنی چمک کھو بیٹھے تھے۔ مرزا تیمور بیگ کے چہرے پر مسلسل تھکن اور پریشانی کے آثار گہرے ہوتے جا رہے تھے، لیکن وہ پھر بھی اپنی انا کے خول سے باہر آنے کو تیار نہ تھا۔

ایسے میں ایک دن، اس کے سب سے وفادار ملازم نے بھی جاتے جاتے کہہ دیا:

”صاحب! عزت صرف ڈگریوں سے نہیں، رویے سے ملتی ہے… اور آپ نے سب کھو دیا۔“

گامو چاچا کے یہ الفاظ کسی ہتھوڑے کی مانند اس کے دل و دماغ پر برسے۔ اس کا دماغ 1040 وولٹ کا جھٹکا کھا کر رہ گیا، جب اس نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا تو کچھ تلخ سوالات نے اسے آئینہ دکھایا۔ اس کے پاس کیا ہے؟ نہ کوئی رشتہ، نہ کوئی انسان، نہ ہی کوئی کامیابی... دولت اور ڈگریوں سے وہ کچھ بھی تو حاصل نہ کر پایا تھا۔ وہ ایک دم آگے بڑھ کر گامو چاچا کو روک لیتا ہے۔

”گامو چاچا! گامو چاچا! رک جائیں! مت جائیے مجھے چھوڑ کر..! (وہ روہانسا سا ہو کر کہتا ہے) گامو چاچا! مجھے کیا ایسا کرنا چاہیے کہ سب... سب کچھ جو میں چاہتا ہوں... عزت، شہرت، دولت اور جو کچھ میں کھو چکا ہوں وہ سب مجھے واپس مل جائے۔؟“

(وہ التجائیہ لہجے میں بولا)

”بیٹا! تمھیں خود کو بدلنا ہو گا، اپنی انا کے خول کو توڑنا ہو گا۔ ایک بار... صرف ایک بار اپنی اقدار اور روایات کے مطابق چل کے دیکھو.! پھر دیکھنا اوپر والا تمھیں کتنا نوازتا ہے۔“

مرزا تیمور بیگ جو سب کچھ کھو چکا تھا۔ وہ ایک بار اپنے سے کم پڑھے لکھے افراد کے اصولوں کو آزمانے اور ان پر عمل کرنے کی نئی سوچ لے کر اٹھتا ہے۔

وہ مغرور چال اور متکبرانہ انداز چھوڑ کر عاجزی اور انکساری اپناتا ہے۔ لوگ اس کا بدلا ہوا رویہ دیکھ کر اس کے پاس بیٹھتے ہیں۔ اس کی بات سنتے ہیں۔ ملازمین کچھ پرانے، کچھ نئے آ جاتے ہیں۔ وہ سب اس کے اخلاق سے متاثر اور خوش ہیں۔ ماہین کو بھی واپس گھر لایا جا چکا ہے۔ وہ ریسرچ کرتا ہے، مواد سے نتیجہ لیتا ہے اور ماہین کے ساتھ مل کر مصنوعات کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے۔ ترقی کرتا ہے۔ عزت و شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔ وہی کمپنی جس کا ایک پراجیکٹ بھی اسے ملنا محال تھا، آج تیمور بیگ اپنی سچائی، محنت، لگن اور کام سے محبت کی بدولت اسی کمپنی کا سی ای او بن چکا ہے اور وہی اسد میر جو کبھی اس سے پراجیکٹ لے اڑتا تھا آج اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا نظر آتا ہے۔


”علم جب انا کے ساتھ لپٹ جائے تو روشنی نہیں دیتا۔ صرف سایا بڑھاتا ہے۔“


اور اب یہ بات وہ؛ اسد میر، ماہین اور چاچا گامو کی وجہ سے اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔