Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم احسان فراموش کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہمیں کسی سے کوئی کام ہوتا ہے تو ہم اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں۔ وہ شخص ہماری دنیا بن جاتا ہے۔ ہم اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کا خیال رکھتے ہیں، اس کے پیغام کا فوراً جواب دیتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہم سے ناراض نہ ہو۔


مگر جیسے ہی ہمارا مطلب پورا ہوتا ہے، ہمارے رویے بدلنے لگتے ہیں۔ جو شخص کل تک ہماری توجہ اور اپنائیت کا محور تھا، آج ہماری مصروفیات میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔ جس کے ایک پیغام پر ہم سب کچھ چھوڑ کر حاضر ہو جاتے تھے، اب اس کی کال اور پیغام ہمیں بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔


آخر ہم اتنی جلدی لوگوں کو کیوں بھول جاتے ہیں؟


کیا کسی کی اہمیت صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ہمارے کام آ رہا ہو؟ کیا ہم لوگوں کو انسان نہیں، اپنی ضرورت کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں؟


یہ سوال صرف دوسروں سے نہیں، ہمیں خود سے بھی کرنا چاہیے۔


احسان ہمیشہ پیسوں یا کسی بڑے کام کی صورت میں نہیں ہوتا۔ کبھی کسی نے ہماری پریشانی میں ہماری بات سنی، کبھی کسی نے ہمارے آنسو پونچھے، کبھی کسی نے ہماری ہمت بندھائی، کبھی کسی نے ہمارے برے وقت میں ہمارا ہاتھ تھاما۔


کسی کا دیا ہوا وقت، توجہ اور خلوص بھی ایک بہت بڑا احسان ہے۔


مگر افسوس کہ ہم اکثر دوسروں کی محبت اور مدد کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ فلاں نے ہمارے لیے جو کیا، وہ تو اسے کرنا ہی چاہیے تھا۔ ہم کسی کے خلوص کو فرض سمجھ لیتے ہیں اور اس کی قربانیوں کو معمولی جان کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔


حالانکہ انسان کی شرافت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے احسانات کو کتنی دیر تک یاد رکھتا ہے۔


آج بہت سے تعلقات محبت اور خلوص کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ضرورت کی بنیاد پر قائم ہیں۔ ہم کسی سے اس لیے قریب ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔ کوئی مالی مدد کر سکتا ہے، کوئی سفارش، کوئی رہنمائی یا مشکل وقت میں سہارا دے سکتا ہے۔


لیکن جب یہی شخص خود کسی مشکل میں مبتلا ہو جائے تو ہم اپنی مصروفیات کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔


ہم بھول جاتے ہیں کہ زندگی ایک دائرے کی مانند ہے۔ آج جسے ہماری ضرورت ہے، کل ہمیں بھی اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مگر اس سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ انسانیت کا تقاضا صرف ضرورت کے وقت اچھا بننا نہیں، بلکہ ضرورت ختم ہونے کے بعد بھی خلوص قائم رکھنا ہے۔


ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں رابطے کے ذرائع بہت بڑھ گئے ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔


ہم سینکڑوں لوگوں کی پوسٹس دیکھتے ہیں، ہر تصویر پر تبصرہ کرتے ہیں، مگر کبھی اس شخص کا حال پوچھنے کی فرصت نہیں ملتی جس نے ہمارے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا تھا۔


ہمیں یاد رہتا ہے کہ کس نے ہماری کامیابی پر مبارک باد دی، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ ہماری ناکامی میں کون ہمارے ساتھ کھڑا تھا۔


مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، ہماری ترجیحات ہیں۔ ہم چاہیں تو انہی ذرائع سے کسی کا دکھ بانٹ سکتے ہیں، کسی کو حوصلہ دے سکتے ہیں اور کسی پرانے خلوص کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔


یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ احسان کرنا اور پھر اسے بار بار جتانا بھی تعلقات کو زخمی کرتا ہے۔


احسان وہی خوبصورت ہے جس میں خلوص ہو، بدلے کی طلب نہ ہو اور دوسرے کی عزتِ نفس محفوظ رہے۔


لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ احسان جتانا غلط ہے، مگر احسان بھول جانا بھی درست نہیں۔


کسی کے خلوص کو یاد رکھنا اس کے سامنے خود کو کمتر سمجھنا نہیں، بلکہ اپنے ظرف کا ثبوت دینا ہے


ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ لوگ بدل گئے ہیں، اب کسی میں خلوص نہیں رہا۔ مگر کیا ہم نے کبھی خود سے پوچھا کہ کہیں ہم بھی تو کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر رہے؟


کیا ہم نے کسی ایسے دوست کو نظر انداز نہیں کیا جس نے کبھی ہماری تنہائی دور کی تھی؟


کیا ہم نے کسی کی مدد کو معمولی سمجھ کر اس کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا؟


ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تعلقات صرف لینے سے نہیں، دینے سے بھی قائم رہتے ہیں۔ محبت صرف توجہ حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ توجہ دینے کا ہنر بھی ہے۔


زندگی بہت مختصر ہے۔ آج ہم جن لوگوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، ممکن ہے کل ان کی آواز سننے کے لیے ترس جائیں۔


اس لیے کسی کے احسان کو اپنی کمزوری نہ سمجھیں، اسے اپنے کردار کی روشنی بنائیں۔ کسی کے خلوص کو وقتی ضرورت کی نذر نہ ہونے دیں۔


احسان فراموشی انسان کو دوسروں سے نہیں، پہلے اپنے ضمیر سے دور کرتی ہے۔


آئیے، ہم اپنے رویوں کا احتساب کریں اور یہ عہد کریں کہ لوگوں کو ان کی افادیت سے نہیں، ان کی انسانیت سے پہچانیں گے۔ کیونکہ معاشرے الفاظ سے نہیں، رویوں سے بدلتے ہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL