ہم آن لائن ہیں ! مگر کہاں ہیں؟ تحریر: مریم خان
نقطہ نظر
ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں انسان نے دنیا سے رابطہ رکھنے کے لیے اتنے ذرائع پیدا کر لیے ہیں کہ اب تنہائی کے لیے بھی جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے۔ موبائل کی اسکرین پر انگلی پھیرتے ہی دنیا ہمارے سامنے آ جاتی ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ دنیا جتنی قریب آئی ہے، انسان اپنے آپ سے اتنا ہی دور ہوتا گیا ہے۔
صبح آنکھ کھلنے سے پہلے موبائل جاگ جاتا ہے اور رات آنکھ بند ہونے کے بعد بھی اس کی روشنی ہمارے ذہن میں جلتی رہتی ہے۔ کسی کے گھر میں خوشی ہو تو ہمیں تصویر سے معلوم ہوتا ہے، کسی کی موت ہو تو اس کی خبر بھی اسٹیٹس سے ملتی ہے، کسی کی ناراضی کا اندازہ بھی آخری بار آن لائن دیکھ کر لگایا جاتا ہے۔ تعلقات اب صرف نبھائے نہیں جاتے، اپ ڈیٹ بھی کیے جاتے ہیں۔
ہم نے زندگی کو محفوظ کرنے کے لیے تصویریں اتنی بنا لیں کہ بعض اوقات زندگی خود تصویر بن کر رہ جاتی ہے۔
آج ہمارے پاس معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر غور کرنے کا وقت کم ہے۔ ہم ہر خبر پڑھتے ہیں، مگر کم ہی کسی بات پر ٹھہرتے ہیں۔ ہر موضوع پر رائے رکھتے ہیں، مگر ہر رائے کے پیچھے سوچ موجود ہو، یہ ضروری نہیں۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو ہماری توجہ چرا لیتی ہے اور چند سطروں کا تبصرہ ہماری پوری شخصیت کا فیصلہ سنا دیتا ہے۔
یہ وہ دور ہے جہاں انسان کو جواب دینے میں دیر ہو جائے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ مصروف ہے، لیکن اگر کسی کے دکھ کو سمجھنے میں دیر ہو جائے تو شاید کوئی اسے مسئلہ ہی نہیں سمجھتا۔
مصنوعی ذہانت نے ہماری دنیا میں ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ مشینیں لکھ سکتی ہیں، تصویریں بنا سکتی ہیں، معلومات تلاش کر سکتی ہیں اور ہماری بہت سی مشکلیں آسان کر سکتی ہیں۔ مگر ایک سوال اب بھی انسان کے سامنے کھڑا ہے: کیا مشین ہماری جگہ سوچ سکتی ہے، یا صرف ہماری سوچ کا عکس بنا سکتی ہے؟
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔
قلم کا کام صرف الفاظ پیدا کرنا نہیں، احساس پیدا کرنا بھی ہے۔ ایک مشینی جملہ خوب صورت ہو سکتا ہے، مگر ایک انسانی جملہ کسی کے دل میں اتر کر اسے بدل بھی سکتا ہے۔ اسی لیے موجودہ دور میں لکھنے والے کی ذمہ داری شاید پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب صرف لکھنا کافی نہیں، اپنی آواز کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی ہماری سہولت ہے یا ہماری عادت۔ کیونکہ سہولت وہ ہوتی ہے جسے ہم استعمال کرتے ہیں، اور عادت وہ ہوتی ہے جو ہمیں استعمال کرنے لگے۔
ہم نے دنیا کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے لیے موبائل تھاما تھا، مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ اب موبائل نے ہماری مٹھی بند کر دی ہے؟
ہم آن لائن ہیں، ہر وقت آن لائن ہیں؛ مگر کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ چند لمحوں کے لیے “لاسٹ سین” بھی غائب ہو، نوٹیفکیشن بھی خاموش ہوں اور انسان صرف انسان کے سامنے بیٹھا ہو۔
شاید ہمیں اس تیز رفتار زمانے میں کسی نئی ایجاد کی نہیں، صرف چند پرانے ہنر واپس سیکھنے کی ضرورت ہے
بات سننے کا ہنر، خاموشی سمجھنے کا ہنر، اختلاف برداشت کرنے کا ہنر، کتاب پڑھنے کا ہنر اور سب سے بڑھ کر انسان کو انسان سمجھنے کا ہنر۔
کیونکہ آنے والا زمانہ ہمیں یہ نہیں پوچھے گا کہ ہمارے پاس کتنی معلومات تھیں شاید یہ پوچھے گا کہ ان معلومات کے باوجود ہم نے انسانیت کے لیے کیا بچایا۔
اور شاید یہی موجودہ دور کا سب سے بڑا سوال ہے:
ہم نے دنیا سے رابطہ تو بہت بڑھا لیا، مگر کیا ہم اب بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؟
مزید پڑھیں




