آنسو، آنکھ میں ٹھہری ہوئی ایک خاموش دعا،تحریر: شمسہ رانی
نقطہ نظر
کبھی ایک آنسو پوری داستان کہہ دیتا ہے۔ ایسی داستان جسے زبان بیان نہیں کر پاتی، جسے الفاظ کا لباس نہیں ملتا اور جسے انسان اپنے قریب ترین لوگوں سے بھی چھپا لیتا ہے۔ پھر نہ جانے دل کے کس گوشے سے ایک کیفیت اٹھتی ہے، پلکیں بوجھل ہوتی ہیں، آنکھ میں نمی اترتی ہے اور ایک شفاف قطرہ خاموشی سے رخسار پر بہہ جاتا ہے۔ ہم اسے آنسو کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آنسو صرف آنکھ سے نکلنے والا پانی نہیں، یہ انسانی وجود کی ایک ایسی خاموش زبان ہے جس میں جسم کی سائنس بھی پوشیدہ ہے اور دل کی پوری کائنات بھی۔
ہم نے آنسو کو ہمیشہ غم سے منسوب کیا ہے۔ کسی اپنے کی جدائی، کسی خواب کے بکھرنے، کسی رشتے کے ٹوٹنے یا کسی محرومی کی شدت میں بہنے والے آنسو ہمیں دکھ کی علامت دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن آنسو صرف غم میں نہیں آتے۔ کبھی خوشی کی شدت بھی آنکھوں کو نم کر دیتی ہے، کبھی برسوں بعد کسی اپنے کا چہرہ سامنے آ جائے تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں، کبھی کوئی دعا قبول ہو تو آنکھیں بے اختیار جھک جاتی ہیں اور کبھی کسی مقدس مقام کا تصور ہی دل کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور آنسو دعا بن جاتے ہیں۔
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ آنسو ہمارے جسم کا ایک نہایت اہم حیاتیاتی نظام ہیں۔ آنکھوں میں موجود Lacrimal Glands مسلسل آنسو پیدا کرتے ہیں اور آنکھ کی سطح پر ایک باریک تہہ قائم رہتی ہے جسے Tear Film کہا جاتا ہے۔ یہ تہہ آنکھ کو خشک ہونے سے بچاتی ہے، پلکوں کی حرکت کو آسان بناتی ہے اور آنکھ کی سطح کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آنسو صرف پانی نہیں ہوتے بلکہ ان میں مختلف نمکیات، پروٹینز، انزائمز اور دوسرے اجزا شامل ہوتے ہیں۔ یوں ایک چھوٹا سا شفاف قطرہ دراصل ہمارے جسم کے ایک پیچیدہ اور حسین نظام کی علامت ہے۔
ذرا غور کیجیے، ہم جس آنکھ سے دنیا کے رنگ دیکھتے ہیں، اسی آنکھ کے اندر قدرت نے ایک ایسا خاموش انتظام قائم کر رکھا ہے جس کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔ ہم صبح آنکھ کھولتے ہیں، اپنے پیاروں کے چہرے دیکھتے ہیں، کتاب پڑھتے ہیں، موبائل کی اسکرین دیکھتے ہیں، کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں اور زندگی کی بے شمار مصروفیات میں گم رہتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی سوچتے ہوں کہ ہماری آنکھ ہر لمحہ قدرت کی ایک نازک حفاظتی تہہ کے سہارے یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس ہمیں خالق کی قدرت کے سامنے خاموش کر دیتی ہے۔
آج کا انسان اسکرینوں کے حصار میں زندگی گزار رہا ہے۔ موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ مسلسل اسکرین دیکھنے سے پلکیں کم جھپک سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں آنکھوں میں خشکی اور تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ ایسے میں آنکھوں کی قدرتی نمی کی اہمیت اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔ اگر انکھوں کی یہ نمی مسلسل کم ہو جائے تو خشکی، جلن اور بے ارامی جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
مگر انسان کی عجیب فطرت ہے کہ وہ نعمت کی قدر اکثر اس وقت کرتا ہے جب وہ کم ہونے لگتی ہے۔
ہم سانس لیتے ہیں۔ مگر ہوا کی قیمت نہیں جانتے ہم دیکھتے ہیں مگر بصارت کی عظمت پر غور نہیں کرتے۔ ہم پلکیں جھپکاتے ہیں۔ مگر اس معمولی سے عمل کے پیچھے چھپی قدرت کی حکمت سے بے خبر رہتے ہیں اور جب انکھ سے انسو نکلتا ہے تو ہم اسے صرف غم کا نام دے کر اگے بڑھ جاتے ہیں۔
حالانکہ بعض آنسو انسان کی کمزوری نہیں اس کے اندر باقی رہ جانے والی انسانیت کی دلیل ہوتے ہیں۔
انسان دنیا کے سامنے اپنے دکھ چھپا سکتا ہے، چہرے پر مسکراہٹ سجا سکتا ہے، لہجے میں اطمینان پیدا کر سکتا ہے، اپنی پریشانیوں کو لفظوں کے پردے میں چھپا سکتا ہے، مگر انکھیں ہمیشہ اتنی اچھی اداکار نہیں ہوتیں دل میں جمع کوئی دکھ کبھی نہ کبھی انکھوں تک پہنچ جاتا ہے اور پھر ایک انسو ان تمام باتوں کا ترجمان بن جاتا ہے۔ جنہیں زبان کہنے سے قاصر رہتی ہے۔
شاید اس لیے انکھ کو دل کا ائینہ کہا جاتا ہے۔
کچھ انسو کس انسان کی یاد میں بہتے ہیں ،کچھ کسی بچھڑنے والے کے لیے، کچھ کسی ناکام خواہش پر، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو دنیا سے اٹھا کر اپنے رب کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں ۔وہ انسو جن میں شکوہ کم اور سپردگی زیادہ ہوتی ہے۔ انسان سجدے میں جاتا ہے ،الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔
دعائیں بھی کبھی کبھی ترتیب بھول جاتی ہیں اور پھر انکھیں بولنے لگتی ہیں وہاں انسو دعا بن جاتے ہیں دنیا کے سامنے بہنے والا انسو شاید ہمیں کمزور دکھائے مگر رب کے سامنے بہنے والا انسو انسان کو اپنے رب کے قریب کر دیتا ہے ۔وہاں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی، وہاں دل کی کیفیت بیان کرنے کے لیے طویل الفاظ نہیں چاہیں ۔ایک نم انکھ کافی ہوتی ہے کیونکہ وہ رب جو دلوں کے بھید جانتا ہے انکھوں کی خاموش زبان بھی سمجھتا ہے۔
یہی تو انسو کا صو فیا نہ حسن ہے ۔
وہ جسم کی ضرورت بھی ہے اور روح کی ترجمانی بھی۔ اور وہ انکھ کو نمی بھی دیتا ہے، اور دل کو اظہار کا راستہ بھی، وہ کبھی جدائی کی یاد بن کر بہتا ہے، کبھی محبت کی شدت بن کر ،کبھی خوشی کی خبر بن کر، کبھی توبہ کے احساس میں خاموشی سے رخسار پر اتر اتا ہے۔
شاید قدرت نے انسان کو رونے کی صلاحیت اسی لیے عطا کی ہے کہ ہر درد کو الفاظ میں بیان کرنا ضروری نہیں ۔کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، کچھ دعائیں ایسی ہوتی ہیں، جنہیں صرف انکھ پڑ ھ سکتی ہے۔ ہم ہنستے ہوئے دنیا کو نظر اتے ہیں ،مگر روتے ہوئے خود کو نظر اتے ہیں۔
اس لیے اگلی بار جب کوئی انسو اپ کی انکھ میں ٹھہرے تو اسے صرف کمزوری نہ سمجھے ممکن ہے وہ کسی پرانی یاد کا دروازہ ہو، کسی بچھڑے ہوئے شخص کی خوشبو ہو، کسی دعا کی قبولیت کا احساس ہو ،یا رب کی طرف سے دل کو ہلکا کرنے کا ایک خاموش وسیلہ ،اخر انسو بھی تو اللہ کی بنائی ہوئی ایک نعمت ہے ایک ایسا قطرہ جو بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے اندر جسم کی سائنس، دل کے جذبات، یادوں کی پوری دنیا اور روح کی ایک خاموش پکار سمائی ہوئی ہے۔ انسو شاید وہ خاموش زبان ہیں جسے رب نے انسان کے دل اور انکھ کے درمیان رکھ دیا جب لفظ ختم ہو جائے تو یہی قطرہ بولتا ہے۔ جب دل بوجھل ہو جائے تو یہی اسے ب ہلکا کرتا ہے۔ اور جب انسان اپنے رب کے سامنے بے زبان ہو جائے تو یہی انسو دعا بن کر بہنے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے کچھ انسو رخسار پر بہہ کر ختم نہیں ہوتے وہ دل میں ٹھہر جاتے ہیں اور کچھ انسو تو ایسے ہوتے ہیں جو انکھ سے نکلتے ضرور ہیں مگر دل کو اپنے رب تک پہنچا کر ہی لوٹتے ہیں۔
مزید پڑھیں





