Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک روٹی کے لیے لڑتا ہوا معاشرہ،تحریر:دانش رحمان

نقطہ نظر
danish rehmna

ایک وقت تھا جب گھر کی چولہے سے اٹھنے والی روٹی کی خوشبو پورے محلے میں پھیل جاتی تھی لوگ مسکراتے ہوئے کہتے تھے کہ آج روٹی اچھی بنی ہے آج وہی خوشبو لاشوں کی بو بن چکی ہے

پاکستان میں آج لاکھوں لوگ ایک روٹی کے لیے لڑ رہے ہیں نہ صرف لڑ رہے ہیں بلکہ اس لڑائی میں اپنا وقار اپنی عزت نفس اور اپنی انسانیت بھی کھو رہے ہیں صبح اٹھتے ہی سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آج روٹی کا بندوبست کیسے ہوگا؟

مہنگائی نے سب کچھ نگل لیا ہے آٹا دال تیل چاول ہر چیز آسمان کو چھو رہی ہے ایک عام مزدور جو پہلے پورے خاندان کا پیٹ بھر لیتا تھا آج خود اپنا پیٹ بھرنے کے بعد بھی بچوں کو خالی ہاتھ لے کر لوٹتا ہے ماں بچوں سے کہتی ہے "بیٹا آج تھوڑا کم کھا لو کل انشاءاللہ بہتر ہوگا" مگر کل کبھی نہیں آتا

یہ صرف بھوک نہیں ہے یہ انسانی وقار کا قتل ہے

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہوٹلوں میں کھانا ضائع کر دیتے ہیں دوسری طرف وہ بچے ہیں جو کوڑے کے ڈھیروں سے روٹی کے ٹکڑے اٹھا رہے ہیں ایک طرف شادیوں میں کھانا پھینکا جا رہا ہے دوسری طرف غریب ماں اپنے بچے کے لیے ایک روٹی کے ٹکڑے پر آنسو بہا رہی ہے یہ معاشرہ نہیں یہ ظلم کا کھلا بازار ہے

سب سے دردناک بات یہ ہے کہ ہم اسے قدرتی عمل کہہ کر تسلیم کر چکے ہیں ہم کہتے ہیں معاشی حالات خراب ہیں مہنگائی ہے حکومت کچھ نہیں کر رہی مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم سب اس لڑائی میں شامل ہیں جو شخص ایک روٹی کے لیے لڑ رہا ہے وہ ہمارا بھائی ہمارا پڑوسی اور ہمارا ہم وطن ہے

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جب ایک شخص بھوک سے مر رہا ہو تو ہمارا "اچھا معاشرہ" کہاں ہے؟

اس معاشرے نے غریب کو صرف زندہ رہنے کا حق دیا ہے زندگی گزارنے کا حق نہیں دیا وہ زندہ تو ہے مگر خوشی وقار اور امید کے بغیر ایک طرف وہ نوجوان ہے جو ڈگری لے کر گھر بیٹھا ہے اور کہتا ہے سر ایک روٹی بھی نہیں مل رہی دوسری طرف وہ ماں ہے جو اپنے بچوں کو سونے سے پہلے کہتی ہے بیٹا خواب میں بھی روٹی مانگنا

یہ صرف غربت نہیں یہ قومی شرم ہے

حکومت سیاستدان اربابِ اختیار اور ہم سب ہم سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جب تک غریب کا بچہ بھوکا سوئے گا ہم سب کی ترقی جھوٹی ہے جب تک ایک روٹی کے لیے لڑائی جاری رہے گی ہمارا معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس لڑائی کو ختم کریں

اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جب تک غریب کے بچے کو روٹی نہیں ملے گی ہم سب کی ترقی جھوٹی ہے جب تک ایک ماں اپنے بچے کے لیے روٹی کے ٹکڑے پر آنسو نہ بہائے ہم سب کے دعوے جھوٹے ہیں

ایک روٹی کا معاشرہ تبھی ختم ہوگا جب ہم سب مل کر اسے ختم کرنے کا عزم کریں جب ہر شخص یہ سوچے کہ آج میں اپنے بھائی کا پیٹ بھرنے میں بھی حصہ ڈالوں جب ہمارا معاشرہ "میں" سے نکل کر "ہم" بن جائے جب ہر امیر شخص یہ احساس کرے کہ غریب کی بھوک اس کی ذمہ داری ہے

کیونکہ جب تک غریب کے بچے کو روٹی نہیں ملے گی ہم سب کی ترقی جھوٹی ہے

جب تک ایک روٹی کے لیے لڑائی جاری رہے گی ہم سب کے خواب ادھورے رہیں گے

اب انتخاب ہمارا ہے

یا تو ہم ایک روٹی کے لیے لڑتے رہیں یا مل کر اس لڑائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں