Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انتظار کی پٹڑی پر کھڑا ایک بوڑھا آدمی...تحریر :انجینئر شیراز حسین رونگھا

نقطہ نظر

کبھی کبھی ایک معمولی سا ریلوے اسٹیشن پوری قوم کی داستان بن جاتا ہے۔ ایک زنگ آلود پٹڑی، ایک ٹوٹی ہوئی بنچ، مکڑی کے جالوں میں لپٹا ہوا ٹکٹ گھر اور ایک بوڑھا آدمی… بظاہر یہ سب ایک خاموش منظر ہے، مگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو اس خاموشی میں صدیوں کی چیخیں، بچھڑنے والوں کی آہیں، ماؤں کے آنسو اور ادھورے خواب بولتے سنائی دیتے ہیں۔

رحیم بخش بھی شاید اسی خاموشی کا محافظ تھا۔

لوگ اسے پاگل کہتے تھے۔ وہ ہر صبح ایک ویران ریلوے اسٹیشن پر آتا، ٹوٹی ہوئی لکڑی کی بنچ پر بیٹھتا، اپنی جیب سے ایک پرانا ٹکٹ نکالتا، دیر تک اسے دیکھتا اور پھر احتیاط سے واپس جیب میں رکھ لیتا۔ کسی نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کس کا انتظار کر رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ ہماری دنیا میں جو شخص ماضی سے سوال کرتا رہے، اسے عموماً پاگل سمجھ لیا جاتا ہے۔

مگر کیا ہر انتظار پاگل پن ہوتا ہے؟

کیا اپنے کسی بچھڑے ہوئے شخص کے لوٹ آنے کی امید رکھنا پاگل پن ہے؟

کیا ان لوگوں کو یاد رکھنا پاگل پن ہے جو وقت کی گرد میں کہیں گم ہوگئے؟

یا پھر اصل پاگل پن یہ ہے کہ ہم سب کچھ بھول کر اپنی زندگی معمول کے مطابق گزارنے لگیں؟

رحیم بخش کے پاس ایک ٹکٹ تھا، مگر حقیقت میں وہ صرف ٹکٹ نہیں تھا۔ وہ ایک وعدہ تھا۔ ایک بیٹے کی آواز تھی۔ ایک باپ کی امید تھی اور ایک ایسی شام کی یاد تھی جس کے بعد آنے والی ہر شام ادھوری رہ گئی۔

بیٹا جاتے ہوئے کہہ گیا تھا کہ شام تک واپس آکر ٹکٹ لے لوں گا۔

شام گزر گئی۔

پھر ایک اور شام آئی۔

پھر کئی سال گزر گئے۔

مگر بیٹا واپس نہ آیا۔

رحیم بخش نے انتظار نہیں چھوڑا۔

یہاں سے اس کہانی کا اصل المیہ شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ انسان کسی شخص کے جانے کا دکھ شاید سہہ لیتا ہے، مگر اس انتظار کو نہیں سہہ پاتا جس کی کوئی آخری تاریخ نہ ہو۔

ہماری اجتماعی زندگی بھی کچھ ایسی ہی پٹریوں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

ہم دہائیوں سے بہت سی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ترقی آئے گی، انصاف آئے گا، خوشحالی آئے گی، روزگار آئے گا، تعلیم کا حق ملے گا، صحت کی سہولتیں بہتر ہوں گی، نوجوانوں کو مواقع ملیں گے، کسان کو اس کی محنت کا معاوضہ ملے گا، غریب کے گھر کا چولہا جلتا رہے گا اور قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔

ہمیں ہر دور میں کوئی نہ کوئی ٹکٹ تھما دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے:

بس تھوڑا سا انتظار اور…

مگر انتظار کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔

ایک قوم اگر مسلسل انتظار ہی کرتی رہے تو ایک وقت آتا ہے جب انتظار خود اس کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر لوگ منزل کا سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور صرف اگلی امید کے سہارے زندہ رہتے ہیں۔

رحیم بخش کے ریلوے اسٹیشن پر کوئی ٹرین نہیں آتی تھی، مگر وہ پٹڑی سے نظریں نہیں ہٹاتا تھا۔ شاید اس لیے کہ اس کے لیے ٹرین کا آنا ضروری نہیں تھا، ضروری یہ تھا کہ اس کا انتظار زندہ رہے۔

یہی انتظار کبھی کبھی انسان کو زندہ رکھتا ہے۔

اور یہی انتظار کبھی پوری قوم کو تھکا بھی دیتا ہے۔

اس کہانی میں سب سے گہری بات شاید وہ مٹھی بھر ریت ہے جسے بوڑھا اپنی انگلیوں سے گراتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان جھوٹ بول سکتا ہے، کاغذ بدل سکتے ہیں، تاریخیں مٹائی جا سکتی ہیں، مگر زمین جھوٹ نہیں بولتی۔

کتنی بڑی حقیقت ہے!

عمارتیں گرائی جا سکتی ہیں، فائلیں غائب ہوسکتی ہیں، سرکاری بیانات بدل سکتے ہیں، اخبارات کے صفحات وقت کے ساتھ زرد پڑ سکتے ہیں، مگر زمین اپنے سینے میں سب کچھ محفوظ رکھتی ہے۔

وہ جانتی ہے کہ کہاں کسی ماں نے اپنے بیٹے کو آخری بار دیکھا تھا۔

وہ جانتی ہے کہ کس راستے پر کسی باپ نے اپنے بچے کا انتظار کیا تھا۔

وہ جانتی ہے کہ کس کھیت میں کسی کسان نے اپنی زندگی کی آخری امید بوئی تھی۔

وہ جانتی ہے کہ کن پگڈنڈیوں پر وہ لوگ چلے تھے جو کبھی واپس نہیں آئے۔

اور شاید زمین یہ بھی جانتی ہے کہ کتنے خواب ایسے تھے جنہیں کسی گولی نے نہیں مارا، بلکہ بے حسی، ناانصافی، غربت اور مسلسل نظرانداز کیے جانے نے خاموشی سے دفن کردیا۔

کہانی کا وہ چھوٹا بچہ بھی ہمارے لیے ایک علامت ہے۔

وہ پٹڑی پر کان رکھ کر خوشی سے کہتا ہے:

"دادا! ٹرین آ رہی ہے۔"

بوڑھا کان لگاتا ہے تو کوئی ٹرین نہیں ہوتی۔ صرف زمین کی دھڑکن ہوتی ہے۔

کیا عجب منظر ہے!

بچے کو ٹرین سنائی دیتی ہے، بوڑھے کو زمین کی دھڑکن۔

شاید یہی زندگی ہے۔ نئی نسل آنے والی تبدیلی کی آواز سننا چاہتی ہے، جبکہ پچھلی نسل جانتی ہے کہ تبدیلی اور امید کے درمیان کتنے موسم گزر چکے ہیں۔

مگر اس کہانی کا اختتام موت نہیں، ایک سوال ہے۔

رحیم بخش مر جاتا ہے۔

اس کی جیب سے وہی پرانا ٹکٹ نکلتا ہے اور اس کی پشت پر کانپتے ہاتھوں سے لکھا ہوتا ہے:

"اگر میں نہ رہوں تو میرے انتظار کو زندہ رکھنا، کیونکہ جن قوموں کا انتظار مر جائے، ان کی تاریخ بھی مر جاتی ہے۔"

یہ جملہ صرف ایک بوڑھے کی وصیت نہیں۔ یہ ہر اس انسان کے نام پیغام ہے جو ناامیدی کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔

مگر یہاں ایک سوال ہم سب سے بھی بنتا ہے:

آخر انتظار کب تک؟

کسی قوم کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنے طویل عرصے تک انتظار کرسکتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ ایک دن انتظار سے نکل کر اپنے خوابوں کی طرف سفر شروع کرے۔

پرانے ٹکٹ سنبھال کر رکھنا ضروری ہے تاکہ ہمیں یاد رہے کہ ہم کہاں سے چلے تھے، مگر نئی نسل کو صرف ٹکٹ نہیں دینا چاہیے، اسے منزل بھی دینی چاہیے۔

ویران ریلوے اسٹیشن صرف رحیم بخش کا قصہ نہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا استعارہ ہے۔ وہ پٹریاں جو کبھی منزلوں کو ملاتی تھیں، وہ اسٹیشن جہاں کبھی رونق ہوا کرتی تھی، وہ بنچ جس پر کبھی مسافر بیٹھتے تھے—سب ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے سفر کیوں روک دیا؟

اور شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم آنے والی نسل کو بھی انتظار دیں گے یا انہیں سفر کا راستہ دکھائیں گے؟

رحیم بخش کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ یاد رکھنا ضروری ہے، سوال کرنا ضروری ہے، امید رکھنا ضروری ہے، مگر انتظار کو زندگی کا مستقل مقدر بنا دینا خطرناک ہے۔

ریت گواہ ہے۔

زمین گواہ ہے۔

پٹڑیاں گواہ ہیں۔

اور تاریخ بھی گواہ رہے گی کہ ہم نے اپنے حصے کا سفر کیا یا صرف کسی آنے والی ٹرین کا انتظار کرتے رہے۔

کیونکہ آخرکار ہر ویران اسٹیشن ایک سوال بن جاتا ہے:

ٹرین نہیں آ رہی تو کیا ہم ہمیشہ پلیٹ فارم پر ہی بیٹھے رہیں گے؟

یا کبھی خود اٹھ کر اپنی منزل کی طرف چل پڑیں گے؟

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL