Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جب سچ ہی واحد راستہ ہو تو ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

اگر کسی صبح دنیا جاگے اور انسان کے وجود سے جھوٹ بولنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے چھن چکی ہو، تو شاید تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب بغیر کسی گولی کے برپا ہو جائے۔ جھوٹ محض ایک برائی نہیں بلکہ ہمارے اس پورے سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے کا وہ پیچیدہ سیمنٹ ہے جس پر صدیوں کی منافقت کی عمارت کھڑی ہے۔ اس سیمنٹ کے نکلتے ہی دنیا کی کایا پلٹ جائے گی اور انسانی تاریخ کا وہ چہرہ سامنے آئے گا جس کا تصور ہی دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔


سب سے بڑا زلزلہ سیاست کے ایوانوں میں آئے گا۔ وہ جھوٹے نعرے، فریب پر مبنی انتخابی منشور اور کرسی کی خاطر عوام کو سبز باغ دکھانے کا ہنر پل بھر میں راکھ ہو جائے گا۔ لیڈر جب مائیک پر آئیں گے تو انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ اقتدار کے بھوکے ہیں اور ان کے پاس ملک کے مسائل کا کوئی فوری حل نہیں۔ بیوروکریسی کی فائلیں کھل جائیں گی اور اربوں روپے کے کرپشن کیسز عدالتوں کے چکر کاٹے بغیر چند لمحوں میں حل ہو جائیں گے۔ عدالتیں شاید بے کار ہو جائیں گی اور پولیس کے تھانے ویران، کیونکہ چور، ڈاکو اور قاتل اپنے جرم کا اعتراف بغیر کسی تفتیش کے اپنے منہ سے کر دیں گے۔ معصوم قیدی جیلوں سے رہا ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے اور کسی غریب کو انصاف کے حصول کے لیے نسلیں قربان نہیں کرنی پڑیں گی۔


بازاروں اور معیشت کی دنیا بھی یکسر بدل جائے گی۔ وہ دودھ فروش جو پانی کو خالص کہتا تھا، وہ تاجر جو گلے سڑے پھل بہترین داموں بیچتا تھا، اور وہ کمپنیاں جو اپنے ناقص مال کی شان میں جھوٹے اشتہارات بناتی تھیں، سب کو ننگی حقیقت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ مصنوعات کی خامیاں ان کے فوائد کے ساتھ گاہک کے سامنے رکھی جائیں گی۔ اس سے سرمایہ داری کے جھوٹے طلسم کا خاتمہ ہوگا اور صرف وہی کاروبار بچے گا جس کی بنیاد واقعی دیانت پر رکھی گئی ہو۔ انسانی محنت کو اس کا اصل صلہ ملے گا اور ملاوٹ کا ناسور جڑ سے اکھڑ جائے گا۔


تاہم، اس حقیقت پسندانہ انقلاب کا ایک بھیانک اور نازک پہلو بھی ہے۔ ہمارا روزمرہ کا معاشرہ صرف بڑے جھوٹوں پر نہیں بلکہ بے شمار مصلحت آمیز، شائستہ اور سفید جھوٹ کے سہاروں پر سانس لیتا ہے۔ جب یہ پردہ ہٹے گا تو انسانوں کے درمیان ایک خونخوار سچائی آمنے سامنے ہو گی۔ گھروں میں جھوٹی تعریفیں ختم ہو جائیں گی، رشتوں کے درمیان چھپی ناپسندیدگی، حسد اور تلخیاں بے نقاب ہو کر لفظوں کی صورت باہر آئیں گی۔ دوست ایک دوسرے کے منہ پر وہ راز اگل دیں گے جو برسوں دلوں میں دفن تھے۔ شائستگی اور باہمی رکھ رکھاؤ کے نام پر جو خول چڑھا تھا، اس کے ٹوٹتے ہی خاندانی نظام شدید جھٹکے سہے گا اور وہی رشتے باقی بچیں گے جن میں خلوص کی رمق باقی ہو گی۔

عدالتوں کی دہلیز پر اگر سچائی کا سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو جائے تو صدیوں سے لٹکتے مقدمات اور انصاف کی تلاش میں گھسٹتی نسلوں کا نوحہ پل بھر میں ختم ہو سکتا ہے۔ وہ ایوان جہاں شواہد، قانونی موشگافیوں اور جھوٹے گواہوں کے سہارے مجرم باوقار بری اور معصوم تختۂ دار پر چڑھ جاتے ہیں، وہاں صرف ایک کلمۂ حق کی گونج پورا منظرنامہ بدل دے گی۔ جج کو سچ ڈھونڈنے کے لیے تاخیری حربوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا اور وکلا جھوٹ کی بنیاد پر فیسیں نہیں اینٹھ سکیں گے۔ قانون کا ترازو واقعی غیر جانبدار اور خوف و لالچ سے پاک ہو جائے گا، جہاں جیل کی سلاخیں صرف اصل قصوروار کا مقدر بنیں گی۔

اسی طرح اگر معاشرے کے دیگر شعبوں سے منافقت کا دیمک نکل جائے تو انسانوں کا باہمی لین دین شفاف ہو جائے گا۔ اقتدار کی راہداریوں میں بیٹھے حکمران قوم کے زخموں پر جھوٹے دلاسوں کا نمک نہیں چھڑکیں گے، اور دفاتر میں فائلیں سفارش اور رشوت کی محتاج نہیں رہیں گی۔ اساتذہ، تاجر اور قلم کار اپنے پیشے کے ساتھ دیانت کا رشتہ نبھائیں گے اور تعلقات کی بنیاد کھوکھلی تعریف کے بجائے باہمی خلوص پر ہو گی۔ یہ سچ کا انقلاب نظام کو بے لاگ مگر پُرامن بنا دے گا، جہاں انسانوں کو جینے کے لیے منافقت کا نقاب نہیں اوڑھنا پڑے گا۔

رفتہ رفتہ جب اس سچائی کا زلزلہ تھمے گا تو ایک ایسا معاشرہ جنم لے گا جہاں دلوں پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ کسی کو چہروں پر چہرے سجانے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ یہ دنیا سچ کی عادی ہو کر قدرے بے رحم مگر شفاف ترین دنیا بن چکی ہوگی۔ یہ ایسی زندگی ہوگی جہاں انسان کا ہر لفظ اس کے وجود کی ضمانت ہوگا، لیکن اس دنیا میں سانس لینے کے لیے انسان کو صرف سچ بولنے کی نہیں، بلکہ ناقابلِ برداشت سچ سننے کی ہمت بھی پیدا کرنی پڑے گی۔