جو ہمسفر نہ ہو، اسے جانے دیجیے،شاعرہ:سائرہ علی
نقطہ نظر
مصنف:
سائرہ علی
جو ہمسفر نہ ہو، اسے جانے دیجیے
رستے سے اس کے نقش مٹانے دیجیے
دل صاف رکھیے، دورِ مطلب میں مگر
ہر ایک کو اپنا نہ بنانے دیجیے
کچھ رابطے خاموش ہی اچھے لگیں گے
ہر بات کو لفظوں میں نہ لانے دیجیے
جو قدر نہ جانے آپ کے احساس کی
اس شخص کو دل سے بھی بھلانے دیجیے
غیروں کے غم کا بوجھ کیوں سر پر رکھیں
بے وجہ دل کو غم نہ کھانے دیجیے
جو آپ کے مان و وقار کو نہ سمجھیں
ان کے لیے خود کو نہ گنوانے دیجیے
گر چاہتے ہیں زیست میں کچھ چین و سکوں
ہر شخص سے امید نہ باندھے دیجیے
سائرہؔ جو چھوڑ گئے، چھوڑیں انہیں
دل کو نئے رشتوں سے سجانے دیجیے
مزید پڑھیں





