Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کالی بھیڑیں،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

نقطہ نظر
raees anayat

ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں، کچھ لوگ اپنے کردار سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر اپنوں کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر ہی اندر انہی لوگوں کی جڑیں کمزور کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی وہ کردار ہیں جنہیں عام زبان میں ’’کالی بھیڑیں‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی پہچان لباس، شکل یا ظاہری حلیے سے نہیں ہوتی بلکہ ان کے رویے، سوچ اور مسلسل عمل سے ہوتی ہے۔ یہ لوگ بھیڑ میں اس طرح گھلے ملے رہتے ہیں کہ انہیں پہچاننا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کالی بھیڑیں کسی ایک خاندان، ادارے یا طبقے تک محدود نہیں ہوتیں۔ کبھی یہ خاندان کے افراد کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں، کبھی دوستوں کے درمیان بداعتمادی کا بیج بوتی ہیں، کبھی اداروں میں سازشوں کو جنم دیتی ہیں اور کبھی معاشرے میں جھوٹ، مفاد پرستی اور حسد کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ اکثر اجنبی بن کر نہیں بلکہ اپنے بن کر نقصان پہنچاتی ہیں۔ اجنبی کے وار سے انسان پہلے ہی محتاط ہوتا ہے، مگر اپنوں کی طرف سے ملنے والا زخم انسان کو دیر تک سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسے لوگ سامنے بیٹھ کر خیرخواہی کی بات کرتے ہیں، ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور بظاہر بڑے مخلص دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے الفاظ کے پیچھے چھپی نیت وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ کسی کی کامیابی انہیں بے چین کرتی ہے، کسی کی عزت انہیں گراں گزرتی ہے اور کسی کی ترقی انہیں اپنی محرومی محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ سامنے مسکرا کر مبارک باد دیتے ہیں، مگر پیچھے سے اسی شخص کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی ایک معمولی سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور کبھی ایسی بات کسی کے کان میں ڈال دیتے ہیں جو دو دلوں کے درمیان برسوں کی محبت کو لمحوں میں بدگمانی میں بدل دیتی ہے۔ تاہم یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر اختلاف کرنے والا شخص کالی بھیڑ نہیں ہوتا۔ تنقید، اختلافِ رائے اور اصلاح کی نشاندہی کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ جو شخص ہماری غلطی کی طرف توجہ دلاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہمارا دشمن ہو۔ اصل خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ذاتی مفاد، حسد، انتقام اور بدنیتی اجتماعی بھلائی پر غالب آ جائیں۔ اس لیے کسی کو محض شک یا سنی سنائی بات کی بنیاد پر کالی بھیڑ قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ معاشرے کی اصلاح صرف دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے ممکن نہیں۔ ہمیں کبھی نہ کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ ممکن ہے ہم انجانے میں کسی کی حق تلفی کر رہے ہوں، کسی کے بارے میں بدگمانی پھیلا رہے ہوں یا کسی کی کامیابی سے دل ہی دل میں ناخوش ہوں۔ کردار کا اصل امتحان یہی ہے کہ انسان دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنے کی کوشش کرے۔ وقت ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان کا اصل چہرہ ضرور دکھائی دیتا ہے۔ عارضی طور پر جھوٹ، چالاکی اور منافقت کامیاب ہو سکتی ہے، مگر ہمیشہ نہیں۔ سچائی کو راستہ بنانے میں وقت ضرور لگتا ہے، لیکن جب وہ سامنے آتی ہے تو بہت سے نقاب خود بخود اتر جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم کالی بھیڑوں کو تلاش کرنے سے پہلے اپنے کردار کو دیکھیں اور کوشش کریں کہ ہماری وجہ سے کسی کا گھر، رشتہ، عزت یا حق متاثر نہ ہو۔ کیونکہ معاشرہ صرف قانون، اداروں اور دعووں سے نہیں بنتا؛ معاشرہ اچھے کردار، سچی نیت اور ذمہ دار رویوں سے بنتا ہے۔