جنرل اسمبلی اجلاس، شاہ عبداللہ دوم کی اسرائیل پر کڑی تنقید، فلسطین تنازع پر عالمی برادری کی خاموشی کو دانستہ انتخاب قرار

اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری نے کئی دہائیوں تک فلسطینی-اسرائیلی تنازع کا سامنا کرنے کے بجائے اسے صرف منظم کرنے کی کوشش کی۔ 81ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے جنرل اسمبلی کے سامنے کھڑے ہوکر فلسطینی،اسرائیلی تنازع کو حل نہ کرنے کے خطرات سے خبردار کرتے رہے ہیں، لیکن عالمی برادری نے تنازع کا سامنا کرنے کے بجائے اسے منظم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
شاہ عبداللہ دوم نے اسرائیلی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسرائیلی حکومت توجہ کی طاقت کو سمجھتی ہے اور حالیہ عرصے میں اسے ملنے والی توجہ پسند نہیں آرہی۔
انہوں نے کہا کہ جب اسرائیلی حکومت کو غلط اقدامات کے شواہد کا سامنا ہوتا ہے تو راستہ تبدیل کرنے کے بجائے وہ توجہ ہٹانے اور اپنے ناقدین کو بدنام کرنے کا طریقہ اختیار کرتی ہے۔
اردن کے بادشاہ نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف عالمی برادری کی کارروائی میں ناکامی نے ایک ایسی ریاست پیدا کردی ہے جس پر کوئی مؤثر روک نہیں ہے۔ ان کے مطابق سیاسی عدم کارروائی ایک سوچا سمجھا انتخاب ہے۔ شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ دیگر معاملات میں پابندیاں، سفارتی تنہائی اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات کیے گئے، لیکن اسرائیل کے معاملے میں ایسے اقدامات بارہا قراردادوں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے معاملے میں قراردادیں وہیں ختم ہوجاتی ہیں جہاں سے شروع ہوئی تھیں، یعنی کاغذ پر۔ ان کے مطابق یہ ایک دانستہ انتخاب ہے اور اس کا نتیجہ ایسی ریاست کی صورت میں نکلا ہے جس پر کوئی مؤثر روک نہیں، جبکہ استثنیٰ کا یہ احساس خوفناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
شاہ عبداللہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے عزائم کو صرف فلسطین تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسرائیل کے عزائم فلسطین پر رک جاتے ہیں، آج شام وہ تنبیہ ہے جسے عالمی برادری دیکھنے سے گریز کررہی ہے۔
شاہ عبداللہ دوم نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والی پیش رفت کو ایک دوسرے سے الگ قرار دینے کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی-اسرائیلی تنازع کے حل کے لیے دنیا کو بعض غلط تصورات ترک کرنا ہوں گے، جن میں پہلا یہ ہے کہ غزہ اور مغربی کنارہ دو الگ معاملات ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارہ اسرائیلی حکمت عملی کے دو محاذ ہیں اور دونوں مقامات پر فلسطینیوں کو قتل کیا جارہا ہے۔
اردن کے فرمانروا نے مغربی کنارے میں جاری صورتحال کو سابقہ آباد کاری اور تشدد کے تسلسل کے بجائے ایک بنیادی تبدیلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی بے دخلی ایک ایسی واحد پالیسی کا حصہ ہے جس کے ذریعے پوری آبادی کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ اس عمل کا نام جبری نقل مکانی ہے اور یہ جنگی جرم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے طور پر بیان کیے گئے پہلے 300 دنوں کے دوران کم از کم 300 فلسطینی بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ اردن کے فیلڈ ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ شاہ عبداللہ دوم نے بین الاقوامی قانون کی مؤثریت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے کئی دہائیوں تک فلسطینی-اسرائیلی تنازع کا سامنا کرنے کے بجائے اسے منظم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے جنرل اسمبلی کے سامنے فلسطینی-اسرائیلی تنازع کو حل نہ کرنے کے خطرات سے خبردار کرتے رہے ہیں، لیکن عالمی برادری نے تنازع کا سامنا کرنے کے بجائے اسے منظم کرنے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر بین الاقوامی قانون کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے اور اس پر عمل درآمد کیسے ہوسکتا ہے اگر اس کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی تک نہ کی جائے۔
شاہ عبداللہ نے کہا کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کو بارہا عارضی قرار دیا گیا، یہاں تک کہ عارضی صورتحال مستقل ہوگئی اور مستقل صورتحال پالیسی بن گئی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا اسرائیل کی مستقل پالیسی بن چکا ہے، جبکہ غزہ کی صورتحال کو اب عارضی فوجی اقدامات یا محض جنگ کے نتیجے کے طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ احتساب اس وقت شروع ہوتا ہے جب معاملات کو ان کے اصل نام سے پکارا جائے۔ ان کے مطابق غزہ میں فلسطینی زندگی کو مٹانے اور ایک نئی علاقائی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔





