کسی شہرِ بے نام کی داستاں چھوڑ آئے،شاعرہ:یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
غزل
کسی شہرِ بے نام کی داستاں چھوڑ آئے
جہاں دل دھڑکتا تھا، وہ آسماں چھوڑ آئے
ہمیں شوق تھا راستوں کو بدلنے کا لیکن
جہاں موڑ آیا وہیں کارواں چھوڑ آئے
وہ اک شخص جس نے ہمیں آئینہ کر دیا تھا
اسی کے لیے اپنا سارا گماں چھوڑ آئے
کبھی دھوپ میں بھی جو سایہ بنا تھا ہمارا
اسی پیڑ کے نیچے اپنا نشاں چھوڑ آئے
نہ منزل کی خواہش، نہ حسرت نئے راستوں کی
ہم اپنے سفر میں کئی امتحاں چھوڑ آئے
کسی کی نظر میں جو دیکھا نشانِ محبت
وہاں ہم اشاروں کی اپنی زباں چھوڑ آئے
یہ دل بھی عجب چیز ہے، لوٹ آیا مگر ہم
وہاں اپنی ہستی کے دلکش نشاں چھوڑ آئے
کسی کی نظر میں محبت کی خوشبو بسی تھی
ہم اس شہر میں اپنا اک گلستاں چھوڑ آئے
وہ دریا جو پیاسوں کو ساحل دکھاتا رہا تھا
اسی کے کنارے کئی تشنگاں چھوڑ آئے
ہمیں یاد ہے وہ بھی اک دور تھا زندگی میں
جہاں ہم ملے تھے وہ دل کا مکاں چھوڑ آئے
وہ رستہ کہ جس پر قدم رک گئے تھے اچانک
وہیں ہم محبّت میں حاصل خزاں چھوڑ آئے
کسی بزم میں جب محبت کا چرچا ہوا تو
بشکلِ غزل ہم بھی اک داستاں چھوڑ آئے
ابھی تک شبِ ہجر آنکھوں میں زندہ ہے طوبیٰ
کہ ہم ایک شب میں کئی کہکشاں چھوڑ آئے
یاسمین اختر طوبیٰ
مزید پڑھیں





