Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لفظوں کا استعمال ،تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

نقطہ نظر
dr shahid m shahid

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں قریبا سات سے آٹھ ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں قریبا 7139 زبانیں زندہ ہیں۔ جب کہ ایک ہزار زبان ایسی ہے جس سے لسانی اور دیگر خطرات لاحق ہیں۔ ان کی معنویت کھونے کا خطرہ موجود ہے۔ دنیا میں بے شمار ایسے ممالک ہیں۔ جہاں سیکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان ممالک میں امریکہ ، چین بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک موجود ہیں۔ ہر زبان کا اپنا لب و لہجہ ، تاثیری رنگ ، مٹھاس ، کشش اور اپنائیت کا احساس موجود ہے۔زبانیں اپنے اندر ، الفاظ ، جملے ، ترکیبیں ، محاورے ، مرکبات ، امثال ، نثری و شاعری تاثیر رکھتی ہیں۔انسان روز مرہ زندگی میں جس بھی خطے کا باسی ہو اس کی زبان ، ثقافت اور تہذیب کو اپنا کر زندگی کے معمولات سرانجام دیتا ہے۔ انسان اپنی زبان سے ہزاروں الفاظ ، سینکڑوں جملے اور کئی ایسے محاورے اور مثلیں کہتا ہے، جن کی اثر انگیزی دوسروں کے اذہان و قلوب تک رسائی کے ساتھ ساتھ فضا میں بھی اپنا تاثر قائم کرتی ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں اربوں لوگ اپنی زبان سے گفت و شنید کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے احساسات و جذبات منتقل کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ عقیدت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ اپنی پیش ورانہ سرگرمیاں فروغ دیتے ہیں۔مثلا اگر کوئی استاد ہے تو وہ طلبہ و طالبات کو درس و تدریس سے مستفید کرے گا ، اسی طرح اگر کوئی وکالت کے شعبہ سے منسلک ہے تو وہ حق سچ کی جنگ لڑنے کے لیے دلائل کا بھرپور استعمال کرے گا۔ جج کے سامنے وہ تمام اثباب پیش کرے گا جو انصاف کی پیش رفت میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر شعبہ جات میں یہی طریقہ رائج الوقت ہے، جسے بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کے اندر تبدیلی کی لہر پیدا کی جاتی ہے۔لفظ اپنے اندر مثبت تاثیر بھی رکھتے ہیں اور کانٹوں کی چھبن جیسا مزاج بھی۔جب یہ ہماری زبان سے صادر ہوتے ہیں تو دوسروں کی شخصیت پر یہ خاص تاثر چھوڑتے ہیں۔یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ لفظوں کا جیسا مزاج ہوگا، وہ ویسا ہی انسان کی شخصیت پر اپنا اثر چھوڑیں گے۔ لہذا الفاظ کا استعمال ، چناؤ ، ادائیگی ، لب و لہجہ متاثر کن ہونی چاہیے تاکہ شخصیت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں۔مبادا ان کی اثر انگیزی کڑواہٹ میں تبدیل ہو کر بدظن کرے گی۔انسان کی شخصیت کا خوب صورت پہلو انداز گفتگو ہے ، جس سے اس کے تصورات ، تجربے اور مشاہدے کی جھلک نظر آتی ہے۔اس سلسلے میں انسانی سوچ کا بڑا عمل دخل ہے۔اگر انسان مثبت سوچ کا پیروکار ہے تو قدرت اس کا ساتھ دیتی ہے۔ فہم و فراست عطا کرتی ہے۔ دکھوں اور آزمائشوں میں ساتھ دیتی ہے۔ خوابوں کی تعبیر کا دروازہ کھولتی ہے۔جیسے جیسے اسے اپنائیت کا احساس ملتا ہے یہ اسی تیزی سے پھل دار ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ عموما انسانوں کے اندر اس وقت تکلیف کا احساس بڑھتا ہے، جب ان کا استعمال منفی طور پر کیا جاتا ہے۔قریبا دنیا کی ہر زبان میں ایسے الفاظ رائج ہیں جو اپنے اندر زندگی کا احساس بھی رکھتے ہیں اور موت کا تصور بھی۔ان ساری باتوں کا خلاصہ ہماری گفتگو کے چوگرد گھومتا ہے۔انسان کی گفتگو جتنی زیادہ سحر انگیز ہوگی۔وہ اپنی طاقت سے قلب و ذہن کو اسی قدر خوش گوار رکھے گی۔ دوسروں کو اپنی قدر و قیمت کا احساس مہیا کرے گی۔ایک ان پڑھ اور تعلیم و تربیت یافتہ انسان کے درمیان یہی فاصلے اور حدیں ہیں جو اسے مقبول بھی بناتے ہیں اور رد کیے جانے کا احساس بھی فراہم کرتے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے اپنی زندگی پر غور و خوض کیا ہے؟ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے؟ ہماری زبان ثقافت اور تہذیب کس طرح اپنے گہرے نقوش مرتب کرتی ہے۔ بچپن ، جوانی اور بڑھاپے میں کون سا ماحول اور زبان ہماری تعلیم و تربیت میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے ہر والدین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو شگفتہ بیانی سکھائیں۔ ان کی شخصیت کے اندر ایک ایسی روح داخل کریں جو زبان اور کردار کے حوالے سے ان کی خاص رہنمائی کرے۔ اسی حقیقت کی تلاش میں ہر والدین ایک ایسے ماحول کو ڈھونڈتا ہے ، جہاں بازاری گفتگو کا تصور نہ ہو بلکہ علم و ادب کا گہرا احساس اور پرچار ہو جو جسم و روح پر ایسا تاثر چھوڑے ، جہاں اپنائیت اور روح پرور ماحول خوشیوں کو فروغ دے۔

روز مرہ زندگی میں اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔قدروں کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے لفظوں کا استعمال اس انداز سے کرنا چاہیے تاکہ جب وہ دوسرے کے کانوں کو جا کر ٹکرائیں تو انھیں خوش گوار احساس فراہم کریں۔ ایک دوسرے کے قریب لانے کا موقع فراہم کریں۔ ہمدردی اور پیار کی زبان فراہم کریں۔ اس سے نہ صرف زندگی مستحکم ہوگی بلکہ معاشرے پر بھی قائلیت کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ روح پرور ماحول کو فروغ ملے گا۔ اطمینان کی فضا پیدا ہوگی۔ محبت بڑھے گی۔ چنانچہ یہ کہنا حق بجانب ہے کہ لفظوں کا استعمال روح کو خوشی بھی فراہم کر سکتا ہے اور غم کے بادلوں کی تاریکی سے بھی بھر سکتا ہے۔