Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جدید دور کا ابن بطوطہ اور لاہور کی سیر،تحریر: کلثوم افتخار

نقطہ نظر

کسی زمانے میں کہتے تھے چلتے ہو تو چین کو چلیے لیکن ساتھ ہی یہ بات بڑی اہم یہ رکھتی ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا سو لاہور دیکھنا اور پیدا ہونا کہنے کا تو دو الگ الگ باتیں ہیں لیکن مطلب یہ ہے کہ لاہور لاہور ہے لاہور خوبصورت باغوں کا ہے خیر راوی کا شہر زندہ دلان لاہور زندہ باد کھانے پینے کے شوقین لوگوں کا شہر ٹریفک اور ہلے گلے کا شہر کون سی ایسی چیزیں ہیں جو اپ کو لاہور میں نہیں ملتی کسی زمانے میں پطرس بخاری کا لاہور کا جغرافیہ پر مزاحیہ تحریر پڑی تھی پھر زندہ دلانے لاہور بہت سنا بھی دیکھا بھی لیکن چونکہ تعلق تھوڑا لاہور سے گہرا ہے تو اس لیے لاہور کے متعلق یہ لکھنا شروع کیا لاہور کے بارے میں صرف ایک بات کہوں گی وہ ایک شام جو ٹھہر گئی دل و نظر میں سما جاتا ہے لاہور ثقافت کا ہر رنگ نظر اتا ہے لاہور میں اور اگر زندگی دیکھنی ہو تو لاہور میں ا کر زندگی دیکھیں لاہور اور راوی کا ذکر نہ ہو یہ تو ممکن نہیں راوی جو کہ اب بڈھا راوی بن چکا ہے لیکن پچھلے سال انے والے چند سیلابوں نے لاہوریوں کی راوی سے اور راوی کی لاہور سے محبت واضح کر دی دریا لوٹ کر ایا اور اپنا راستہ خود لے لیا اس نے بڑے پیمانے پر تباہی بھی مچائی لیکن یہ بھی بتا دیا کہ لاہور اور راوی کا بڑا گہرا ساتھ ہے اور یہ یارانہ بہت گہری محبت ہے اس لیے لاہور کو راوی سے اور راوی کو لاہور سے الگ کرنے کی کوشش نہ ہی کی جائے تو بہتر ہوگا اگر بات کی جائے زندہ دلی کی تو زندہ دلی تو لاہور میں روش پر ہے بھلے ہی کوئی بھی مسئلہ ہو پریشانی ہو خوشی کا موقع ہو زندہ دلی ختم ہونے کو نہیں اتی چاہے جنگ کا سامان ہو چاہے امن کا وقت ہو زندہ دل اور زندہ باد ہاں یہ ایک بات بڑی مشہور ہے کہ اگر سیدھا راستہ پوچھو تو الٹا راستہ بتایا جاتا ہے بات یہ ہے کہ لاہور کے رہنے والے لوگ اپنی ثقافت اور اپنی تاریخ میں اس قدر الجھے رہتے ہیں کہ اس کا تعلق بھی وہ راستہ بتانے والے کو ساتھ ساتھ بتاتے جاتے ہیں مثال کے طور پر اگر کسی سے یہ پوچھا جائے کہ شاہ عالمی کس سائیڈ پر ہے تو اس کا جواب ملے گا پہلے رائٹ پر جائیں پھر اگے لیفٹ پر جائیں پھر اگلے چوک سے دائیں چلے جائیں پھر اس کے ساتھ ایک نیلا گھر ائے گا اس نیلے گھر سے بائیں مڑنا ہے پھر ایک گول چوک ہے اس گول چوک سے بائیں مڑ جانا ہے بندہ پوچھے گول گول چوک سے دائیں بائیں کیسے جانا ہے اگر خوابوں کی بات کی جائے تو اگر اپ نے لاہور سیر کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے اپ نے اپنے پیٹ کو بھی سیر کرانی ہے لسی پیڑے رس ملائیاں گول گپے چاٹ ائس کریم میں سری پائے چکن کڑائیاں مٹن کڑائیاں مجھے لگتا ہے کڑائیوں کے جتنی قسمیں ہیں لاہوریوں نے بنا لیے ہیں اتنی ہی شاید ملک ہے کسی اور حصے میں ہو کون سا کھانا ہے جو لاہور میں نہیں ملتا ہاں اور سب سے بڑی بات داتا کی نگری اس کو تو بھول گیا ہی مت جو داتا کی نگری میں گیا تو کبھی بھوکے پیٹ واپس نہیں ا سکتا ویسے وہ عمارت بھی بہت شاندار ہے داتا کی نظری جاہ و جلال سے بھرپور تھوڑا سا اگے جائیں تو اپ کو پنجاب یونیورسٹی کی پرانی عمارت جو پرانی انارکلی کے پاس ہے وہ نظر اتی ہے کیا ہی مزے کی بات ہے کہ ایک طرف پنجاب یونیورسٹی کا پرانا کیمپس اور دوسری طرف انارکلی کا بازار انارکلی کے بازار کی بڑی خاص بات ہے یہاں امیر سے امیر اور غریب سے غریب بھی اپ کو خریداری کرتا اور خریداری کر کے لے کے جاتا نظر اتا ہے اپ کو سستی سے سستی چیز اور مہنگی سے مہنگی چیز بھی سستی یہاں مل جاتی ہے اور گاؤں دیہات سے ائی ہوئی مٹیار نے اور ماڈل ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کی ائی ہوئی بیگمات بھی اپ کو ایک ساتھ یہاں شاپنگ کرتی نظر اتی ہیں اس وقت یہ ذہن میں اتا ہے کہ قدرت کے رنگ نرالے بادشاہی مسجد کہ کیا ہی کہنے اور پھر اس کے قریب ہی فوڈ سٹریٹ جو کہ منچلوں کے بیٹھنے کی جگہ اور مختلف ٹولیوں کی صورت میں گھومنے پھرنے اور رات کا کھانا کھانے جو لوگ اتے ہیں مانو لگتا ہے اپنی سوچیں فکر سب بھول بھال کے ہی ائے ہوں مجھے لگتا ہے لاہور بے فکر کر دیتا ہے کیا شاید اپ کی سوچوں پر لاہور کی ٹریفک کا شور اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ اپ اپنی سوچوں سے باہر ازاد ہو جاتے ہیں یا وقتی طور پر اپنی فکر کو غم کو دکھ کو درد کو بھول جاتے ہیں اور لاہور کی رنگینیوں میں مست نظاروں میں بڑے بڑے پلازوں میں پھرتے ہوئے اپنی فکر کو بھی گھما پھرا دیتے ہیں لاہور کسی کو بھوکا نہیں سونے دیتا اور یہ حقیقت ہے جہاں ایک طرف بڑے بڑے پلازے بڑی بڑی عمارتیں اور ان عمارتوں میں موجود بڑے بڑے لوگ نظر اتے ہیں وہیں پر دوسری طرف ریلوے اسٹیشن کی رنگینیاں نظر اتی ہیں لاہور اب جدید اور قدیم تہذیب کا مرکز بن چکا ہے ایک طرف قدیم تہذیب کے جلوے نظر اتے ہیں تو دوسری طرف جیسے ہی اپ رنگ روڈ سے نیچے اترتے ہیں تو روڈ کے ایک طرف اپ کو قدیم اور دوسری طرف جدید تہذیب کے ثقافت کے جلوے جا بجا بکھرے نظر اتے ہیں ایک طرف کافی ہاؤسز کیفے اور دوسری طرف چائے خانے یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ لاہور یہ چائے کے کتنے شوقین ہیں لاہور ادب کرنے والوں کا شہر ہے ادیب شاعر حتی کہ جس نے بھی اگر اپنے اپ کو منوانا ہو تو لاہور کا رخ کرتا ہے یہ چند سال پہلے کا نظریہ نہیں ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے پیسہ کمانا ہے تو لاہور چلے جاؤ بلکہ اج بھی چھوٹے شہروں کے گاؤں قصبوں دیہاتوں کے لوگ لاہور کا ہی رخ کرتے نظر اتے ہیں اسی لیے معصوم سا لاہور اپنے اندر بہت سے لوگوں کے دکھ خوشیاں سموئے ہوئے ہیں اور ہر ایک کو کھلی باہوں کے ساتھ خوش امدید کرنے کو تیار ہوتا ہے جیسے ہی داخل ہوتے ہیں تو ٹھوکر نیاز بیگ اور پھر ادھر سے مینار پاکستان اپ کو اپنی مینار کے سائے میں پناہ دینے کو تیار نظر اتا ہے لاہور یگانگیت اور امن کا پرچار کرنے والا شہر ہے لاہور علم و ادب کا دوست شہر ہے چاہے اپ جس بھی تعلیمی درجے پر فائز ہوں لاہور اپ کو خوش امدید کہتا ہے لاہور ایک تاریخ ہے اور جب یہ تاریخ یاد گرمی ہو تو واہگا بارڈر کے پاس چلے جائیں وہاں اپ کو ہر شخص اپنے مکمل جو ش وخروش کے ساتھ نظر ائے گا اور اپ اس حقیقت سے انکھ نہیں چرا سکیں گے کہ لاہور لاہور ہے ۔


لاہور کے رنگوں کی بات کی جائے تو یہ قوس و قزح کے خوبصورت رنگوں کی طرح ہے۔ ہر رنگ اپنے اپ میں بے مثال اور خوبصورت اور منفرد جس طرح قوس و قزاح کے سارے رنگوں سے مل کر باقی رنگ بنتے ہیں اسی طرح لاہور کے رنگوں سے مل کر میرا پورا پاکستان بنتا ہے۔ یہاں کوئی پختون ہو بلوچی ہو سندھی ہو کشمیری ہو پنجابی ہو وہ لاہور کا ہی ہو کے رہ جاتا ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ لاہور ملک کے دور دراز سے ائے ہوئے شہریوں کو اپنے اندر سمو دیتا ہے اور وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ لاہور لاہور ہے ویسے تو میرے دیس کے تمام شہر تمام صوبے بہت خوبصورت رنگ ثقافت اور اپنی اپنی تعریف رکھتے ہیں لیکن لاہور میں اپ کو ہر ثقافت سے ملاقات کرنے کا موقع مل جائے گا