ماں باپ کی زندگی اور ہمارا کردار،تحریر: نور فاطمہ
نقطہ نظر
ماں باپ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا وجود ہمارے لیے رحمت، ان کی دعا کامیابی کی ضمانت اور ان کی خدمت جنت کا راستہ ہے۔ افسوس کہ آج ہم اس نعمت کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب وہ ہم سے جدا ہو جاتے ہیں۔اسلام نے ماں باپ کے حقوق کو انتہائی اہمیت دی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔
احادیث کی روشنی میں ہمارا کردار جنت کا دروازہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تو اسے ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کر لے۔" (ترمذی: 1900)
اور ایک اور حدیث میں فرمایا: "ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔" (نسائی: 3104) اس سے پتہ چلتا ہے کہ ماں کی خدمت اور باپ کی اطاعت دونوں جنت کے حصول کا ذریعہ ہیں۔
سب سے افضل عمل
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: "والدین کے ساتھ حسن سلوک۔" (بخاری: 527)
ان کی زندگی میں قدر کریں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور پھر جنت میں داخل نہ ہو سکا۔" (مسلم: 2551) یعنی بڑھاپے میں ان کی خدمت کا موقع گنوانا سب سے بڑی محرومی ہے۔
ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟
ہمارا کردار یہ ہے کہ ہم ان کی زندگی میں ان کا سہارا بنیں۔ ان سے نرمی سے بات کریں، کبھی "اُف" تک نہ کہیں، ان کی ضروریات کو ان کے کہنے سے پہلے پورا کریں، ان کے لیے دعا کریں: "رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا" اور ان کی بیماری اور کمزوری میں صبر کے ساتھ خدمت کریں۔
یاد رکھیں، والدین کی دعا عرش تک جاتی ہے اور ان کی بددعا سے بچنا چاہیے۔
مزید پڑھیں





