ایک کچوری، دو سموسہ،ان مردوں پر کیا بھروسہ؟تحریر:شمسہ رانی
نقطہ نظر
بظاہر یہ چند لفظوں پر مشتمل ایک ایسا نعرہ ہے جسے سن کر شاید ہنسی آ جائے، دوستوں کی محفل میں قہقہہ بلند ہو جائے یا سوشل میڈیا کی اسکرین پر انگلی روک کر ہم اسے محض ایک مزاحیہ جملہ سمجھ کر آگے بڑھ جائیں۔ مگر کبھی کبھی چند ہنستے ہوئے الفاظ کے پیچھے ایک پورا معاشرتی سوال چھپا ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ نعرہ کیوں وائرل ہوا، سوال یہ ہے کہ آخر ’’مردوں پر بھروسہ نہیں‘‘ سے مراد کون سے مرد ہیں؟
کیا وہ مرد جنہوں نے ہمیں بچپن میں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا؟
کیا وہ باپ، جس نے اپنی بیٹی کی ایک مسکراہٹ کے لیے اپنی کئی خواہشیں خاموشی سے دفن کر دیں؟ کیا وہ بھائی، جو اپنی بہن کے لیے دنیا کے سامنے مضبوط دیوار بن کر کھڑا ہوتا ہے؟ کیا وہ شوہر، جو اپنی بیوی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے؟ یا وہ بیٹا جو اپنی ماں کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے؟
اگر جواب ہاں ہے تو پھر ہمیں اپنے الفاظ پر ذرا ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ تلخ ہے کہ معاشرے میں ایسے مرد بھی موجود ہیں جنہوں نے عورت کو تحفظ دینے کے بجائے اس کے لیے خوف پیدا کیا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے رشتوں کی حرمت پامال کی، اعتماد توڑا، عورت کی عزت کو مجروح کیا اور اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا۔ ایسے جرائم کی مذمت میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ جو شخص کسی عورت پر ظلم کرتا ہے، اس کے اعتماد کو روندتا ہے یا اپنی طاقت کو اس کی کمزوری کے خلاف استعمال کرتا ہے، وہ اپنے کردار سے انسانیت کی بنیادی اقدار سے دور ہو جاتا ہے۔
لیکن کیا چند برے کرداروں کی وجہ سے ہر مرد کو ایک ہی ترازو میں تول دینا انصاف ہے؟
کیا ایک مجرم کے کردار کا بوجھ اس باپ کے کندھوں پر بھی رکھ دیا جائے جو ساری عمر اپنی اولاد کے لیے محنت کرتا رہا؟ کیا اس بھائی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے جس نے اپنی بہن کی خوشی کے لیے اپنی خواہش قربان کی؟ کیا اس بیٹے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جائے جو بڑھاپے میں اپنی ماں کا سہارا بنتا ہے؟
معاشرہ صرف عورتوں سے نہیں بنتا، مرد اور عورت دونوں مل کر اسے تشکیل دیتے ہیں۔ عورت کی عزت کا تحفظ بھی مشترکہ ذمہ داری ہے اور مرد کے اچھے کردار کی قدر بھی اسی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
ذرا اس گھر میں جائیے جہاں کوئی مرد موجود نہیں۔ اس ماں سے پوچھیے جس نے اکیلے اپنے بچوں کی پرورش کی۔ اس بیوہ سے پوچھیے جس نے شوہر کے بعد زندگی کی سختیوں کا سامنا کیا۔ اس بیٹی سے پوچھیے جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ اس بہن سے پوچھیے جس کے پاس بھائی کا سہارا نہیں۔ تب شاید ہمیں اندازہ ہو کہ ایک ذمہ دار مرد کی موجودگی محض ایک رشتے کا نام نہیں، کبھی کبھی وہ زندگی کے کئی مشکل راستوں پر ایک مضبوط سہارا بھی ہوتی ہے۔
وہ باپ جو صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے اور شام کو تھکا ہارا واپس آتا ہے، صرف روٹی نہیں کماتا؛ وہ اپنے بچوں کے خوابوں کی قیمت ادا کر رہا ہوتا ہے۔
وہ بھائی جو کم عمری میں ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیتا ہے، گرمی، سردی اور بارش کی پروا کیے بغیر محنت کرتا ہے، صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتا؛ اس کی محنت میں گھر کے کئی چہروں کی خوشی شامل ہوتی ہے۔
وہ شوہر جو اپنی بیوی کے احترام کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، اس کے خوابوں کو جگہ دیتا ہے اور مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھامتا ہے، وہ اس رشتے کا حقیقی حسن سمجھتا ہے جسے صرف معاشرتی رسم نہیں بلکہ امانت سمجھ کر نبھایا جاتا ہے۔
اور وہ سپاہی، جو اپنے گھر سے دور سرحد پر کھڑا ہوتا ہے، اس کے پیچھے بھی ایک ماں، ایک باپ، ایک بیوی، ایک بہن یا ایک بچہ ہوتا ہے جو اس کی سلامتی کی دعا کر رہا ہوتا ہے۔ اس کی قربانی کو سمجھنے کے لیے صرف نعرہ نہیں، دل کی گہرائی بھی چاہیے۔
مردانگی کسی کمزور پر اپنی طاقت آزمانے کا نام نہیں۔
مردانگی کسی عورت کو خوف زدہ کرنے کا نام نہیں۔
مردانگی بلند آواز، سخت لہجے یا اختیار جتانے میں بھی نہیں۔
اصل مردانگی تو وہاں دکھائی دیتی ہے جہاں طاقت کے باوجود انسان نرمی اختیار کرے، اختیار کے باوجود انصاف کرے اور غصے کے باوجود کسی کمزور کی عزت محفوظ رکھے۔
ایک اچھا مرد عورت کو زیر نہیں کرتا، اسے برابر کا انسان سمجھتا ہے۔
وہ اس کی آواز سنتا ہے، اس کے وجود کا احترام کرتا ہے، اس کی حدود کی حفاظت کرتا ہے اور رشتے کو ملکیت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا ہے۔
اسی لیے ہمیں اپنے معاشرے میں ایک فرق واضح کرنا ہوگا: مرد ہونا اور مردانگی دکھانا دو الگ چیزیں ہیں۔
ہر وہ شخص جو عورت پر ظلم کرتا ہے، اسے محض ’’مرد‘‘ کہہ کر مردانگی کی نمائندگی نہیں دی جا سکتی۔ مردانگی کردار سے ثابت ہوتی ہے، جنس سے نہیں۔
لیکن اسی طرح چند ظالم کرداروں کی وجہ سے ان لاکھوں مردوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جو اپنے گھروں کے لیے خاموشی سے زندگی بھر محنت کرتے ہیں، جو اپنی ماؤں کی دعاؤں کا سہارا بنتے ہیں، اپنی بہنوں کی عزت کا خیال رکھتے ہیں، اپنی بیٹیوں کے خواب پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی بیویوں کے ساتھ زندگی کا بوجھ بانٹتے ہیں۔
ہمیں عورت کے تحفظ کی بات ضرور کرنی چاہیے، مگر مرد کی نفی کیے بغیر۔
ہمیں ظلم کے خلاف ضرور بولنا چاہیے، مگر اچھے کردار کو بدنام کیے بغیر۔
ہمیں بیٹی کو یہ ضرور سکھانا چاہیے کہ اگر کوئی اس کی حدود پامال کرے تو وہ خاموش نہ رہے، مگر بیٹے کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ کسی عورت کی عزت اس کی اپنی عزت سے کم نہیں۔
شاید معاشرے کی اصل ضرورت ’’مردوں پر بھروسہ‘‘ یا ’’مردوں سے بے اعتمادی‘‘ کے نعروں سے آگے بڑھنے کی ہے۔ ہمیں ایسے انسان بنانے کی ضرورت ہے جن پر بھروسہ کیا جا سکے؛ ایسے باپ، ایسے بھائی، ایسے بیٹے، ایسے شوہر اور ایسے شہری جو طاقت کو حفاظت بنائیں، خوف نہیں۔
آخر میں پھر وہی جملہ یاد آتا ہے:
’’ایک کچوری، دو سموسے، مردوں پر کیا بھروسہ؟‘‘
ہنسی اپنی جگہ، مگر اس سوال کے جواب میں اتنا ضرور کہنا چاہیے کہ بھروسہ جنس پر نہیں، کردار پر ہونا چاہیے۔
غلط کرنے والے کا احتساب ہونا چاہیے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ اور اچھا کرنے والے کی قدر بھی ہونی چاہیے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
کیونکہ ایک معاشرہ تب ہی محفوظ بنتا ہے جب عورت کو خوف سے آزادی ملے اور مرد کو اس کے اچھے کردار کی پہچان۔
چند نامردوں کے کردار کو پوری مرد ذات کا تعارف نہ بنائیے؛
کیونکہ دنیا آج بھی ان باپوں، بھائیوں، بیٹوں، شوہروں اور محافظوں کی وجہ سے قائم ہے جن کی خاموش محبت کا کوئی وائرل نعرہ نہیں بنتا۔
مزید پڑھیں





