پیسے کی دوڑ اور کھوئی ہوئی صحت،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
انسان بھی عجیب ہے، وہ ساری زندگی ان خوابوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے جن کا کوئی انت نہیں۔ ہم صبح سے لے کر رات تک بس پیسے کمانے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ دل میں بس یہی ایک بات ہوتی ہے کہ ابھی خوب محنت کر لیں، بعد میں آرام کریں گے، گھومیں پھریں گے اور اپنوں کے ساتھ وقت گزاریں گے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ آرام کرنے کے لیے آگے بہت وقت پڑا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آنے والے کل کے چکر میں ہم اپنا آج برباد کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی نیند، اپنا سکون، اپنے رشتے اور سب سے بڑھ کر اپنی صحت کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
آج کل ہر شخص کامیابی کا مطلب صرف یہ سمجھتا ہے کہ بینک میں کتنا پیسہ ہے، گاڑی کیسی ہے اور گھر کتنا بڑا ہے۔ اس دوڑ میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر صحت ہی نہ رہے تو یہ ساری چیزیں کسی کام کی نہیں رہتیں۔ آپ پیسوں سے مہنگا اور آرام دہ بستر تو خرید سکتے ہیں، لیکن پرسکون نیند نہیں خرید سکتے۔ دسترخوان پر اچھے سے اچھا کھانا سجا سکتے ہیں، لیکن اسے کھانے کی بھوک اور ہضم کرنے کی طاقت بازار میں نہیں ملتی۔
پیسہ کمانا کوئی بری بات نہیں۔ خوب کمائیں، محنت کریں، اپنے اور اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے بچت کریں اور اپنے خواب پورے کریں۔ یہ سب بہت ضروری ہے۔ لیکن نقصان تب ہوتا ہے جب انسان پیسہ تو کما لیتا ہے مگر اس پیسے سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس کے جسم میں جان ہی باقی نہیں رہتی۔ یہ کتنا بڑا نقصان ہے کہ انسان پہلے جوانی اور تندرستی گنوا کر پیسہ کمائے، اور پھر بڑھاپے یا بیماری میں وہی سارا پیسہ ڈاکٹروں اور دوائیوں پر لٹا دے تاکہ چند دن کا سکون مل سکے۔
جب تک انسان تندرست رہتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ بیماری تو صرف دوسروں کے لیے ہے۔ لیکن جب جسم جواب دے دیتا ہے اور ہسپتال کے چکر شروع ہوتے ہیں، تب سمجھ آتی ہے کہ اصل دولت کیا تھی۔ اس وقت دنیا کی کوئی بڑی گاڑی یا مہنگا موبائل انسان کو وہ خوشی نہیں دے سکتا جو بیماری کے بغیر گہرا سانس لینے یا اپنے پیروں پر چلنے میں ہوتی ہے۔ تب انسان پچھتاتا ہے کہ کاش اس نے اپنی صحت کا بھی خیال رکھا ہوتا۔
اصل دولت صرف پیسے کا ڈھیر نہیں ہے۔ اصل دولت یہ ہے کہ جب آپ صبح اٹھیں تو جسم میں کوئی درد نہ ہو، دل خوش ہو اور اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا وقت ہو۔ اصل دولت یہ ہے کہ شام کو جب گھر لوٹیں تو ذہن پر کوئی غیر ضروری بوجھ نہ ہو۔ اگر اتنی محنت کے بعد حاصل ہونے والی نعمتوں کو استعمال کرنے کی ہی ہمت نہ رہے، تو پھر ایسی کمائی کا کیا فائدہ؟
ہمیں وقت رہتے سنبھل جانا چاہیے۔ کام ضرور کریں، حلال رزق کے لیے محنت کریں، لیکن اپنے جسم پر ظلم نہ کریں۔ جب تھکن ہو تو آرام کریں، جب جسم درد کرے تو رک جائیں، اور اپنے گھر والوں کو بھی وقت دیں۔ اس دنیا میں سب سے قیمتی چیز وہ وقت ہے جو آپ نے تندرستی اور خوشی کے ساتھ گزار لیا۔ پیسہ کھو جائے تو دوبارہ آ سکتا ہے، لیکن ایک بار اگر صحت اور گزرا ہوا وقت ہاتھ سے نکل جائے، تو دنیا کی ساری دولت دے کر بھی واپس نہیں ملتا۔ اس لیے زندگی کی دوڑ میں خود کو اتنا مت تھکائیں کہ جینے کا مزہ ہی ختم ہو جائے۔
مزید پڑھیں





