Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان، اک بہتر مستقبل کی امید،تحریر:کاشف خان

نقطہ نظر
kashifkhan

پاکستان 1947 میں ایک عظیم خواب، بے شمار قربانیوں اور ایک بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ معرضِ وجود میں آیا۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر، زمینیں، کاروبار اور رشتے چھوڑے، قافلوں کی صورت میں ایک نئی مملکت کا رخ کیا۔ اس ہجرت کے پیچھے ایک ایسی ریاست کا تصور تھا جہاں انسان کو عزت، انصاف، مساوی مواقع اور بنیادی حقوق میسر ہوں۔


لیکن آج، آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیوں بعد، ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے: اگر دنیا کے متعدد ممالک پاکستانی شہریوں کے لیے ویزہ بالکل مفت اور سفر و رہائش کے دروازے مکمل طور پر کھول دیں تو کیا ہوگا؟


ممکن ہے کہ پاکستان سے ایک ایسی ہجرت شروع ہو جائے جو 1947 کی ہجرت کی یاد تازہ کر دے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی اپنے وطن سے محبت نہیں کرتے، بلکہ اس کے برعکس بہت سے لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے ہی ملک میں مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نوجوان روزگار، تعلیم اور محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔ متوسط طبقہ مہنگائی، محدود آمدنی اور بڑھتے اخراجات کے درمیان زندگی گزار رہا ہے، جبکہ کم آمدنی والے خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔


آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک ملک کا اپنا جھنڈا، ترانہ اور سرحدیں ہوں۔ حقیقی آزادی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب عام شہری قانون کے سامنے خود کو محفوظ سمجھے، اسے انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے، اسے روزگار کے لیے سفارش کی ضرورت نہ ہو اور اس کے بچوں کا مستقبل صرف اس کے مالی حالات کا محتاج نہ ہو۔


پاکستان میں یہ شکایت عام ہے کہ ریاستی وسائل اور مواقع تک رسائی معاشرے کے تمام طبقات میں یکساں نہیں۔ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات کے لیے نظام کے دروازے نسبتاً آسان دکھائی دیتے ہیں، جبکہ غریب شہری معمولی سہولت کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ یہی احساس محرومی معاشرے میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔


ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بیرونِ ملک جانے کو کامیابی کا راستہ سمجھنے لگی ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، ہنرمند، مزدور اور تعلیم یافتہ نوجوان بہتر مواقع کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ اگر کبھی دنیا پاکستانی شہریوں کے لیے بغیر ویزہ داخلے اور وسیع معاشی مواقع کی پیشکش کر دے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ کتنے لوگ یہاں رہنے کا فیصلہ کریں گے؟


اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ بیرونِ ملک کیوں جانا چاہتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں اپنے وطن میں ایسا ماحول کیوں نہیں مل رہا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزار سکیں؟


پاکستان کو اپنے شہریوں کو روکنے کے لیے پابندیوں کی نہیں، اعتماد، انصاف اور مواقع کی ضرورت ہے۔ اگر ایک مزدور کو عزت کی روزی، ایک طالب علم کو معیاری تعلیم، ایک نوجوان کو میرٹ پر روزگار، ایک مریض کو قابلِ رسائی علاج اور ہر شہری کو بلاامتیاز انصاف ملے تو بیرونِ ملک جانے کی خواہش اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی وطن چھوڑنے کی مجبوری کم ہوسکتی ہے۔


1947 کے بعد پاکستان نے بہت سے میدانوں میں ترقی کی، مشکلات کا مقابلہ کیا اور بے شمار کامیابیاں حاصل کیں۔ مگر حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف بڑے منصوبے، بلند عمارتیں یا معاشی اعدادوشمار نہیں؛ اصل پیمانہ عام آدمی کی زندگی ہے۔


آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ایسا ملک بنے جہاں غریب شہری خود کو بے اختیار نہ سمجھے، جہاں قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو، جہاں میرٹ سفارش پر غالب ہو اور جہاں نوجوان اپنے مستقبل کو پاکستان ہی میں محفوظ سمجھیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ہجرت کو مجبوری نہیں بلکہ پاکستان میں رہنے کو فخر سمجھیں تو ریاست اور معاشرے دونوں کو یہ سوال اپنے سامنے رکھنا ہوگا,کیا ہم نے اپنے شہریوں کو وہ پاکستان دیا ہے جس کا خواب 1947 میں دیکھا گیا تھا؟اس سوال کا جواب صرف حکمرانوں نے نہیں، پورے معاشرے نے مل کر دینا ہے۔