Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پانی: قدرت کی نعمت سے کاروبار تک،تحریر: سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

پانی زندگی کی بنیاد، قدرت کی عظیم نعمت اور انسانی بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔ چند دہائیاں پہلے تک ہمارے معاشرے میں لوگ کنوؤں، ہینڈ پمپ، نلکوں اور موٹر پمپ کے ذریعے پانی حاصل کرتے تھے۔ دریاؤں، چشموں اور دیگر قدرتی ذرائع سے بھی پانی میسر آتا تھا۔ مگر وقت بدلا، آبادی بڑھی، شہر پھیلے، آبی ذخائر پر دباؤ بڑھا اور صاف پانی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بنتی چلی گئی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پانی، جو کبھی زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا تھا، اب ایک بڑی تجارتی صنعت بھی بن چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ پانی جیسی قدرتی نعمت کو خریدنا ہماری روزمرہ زندگی کا معمول بن گیا؟

حقیقت یہ ہے کہ بوتل بند پانی کی تیاری، فلٹریشن، معیار کی جانچ اور ترسیل پر اخراجات آتے ہیں۔ لہٰذا پانی کی ہر تجارتی فروخت کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن جب صاف پانی عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہونے لگے تو یہ محض کاروبار نہیں، ایک اہم سماجی مسئلہ بن جاتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کی 2025 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، 2024 میں دنیا کے تقریباً 2.1 ارب افراد کو محفوظ طریقے سے فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی میسر نہیں تھا۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ صاف پانی تک رسائی آج بھی دنیا کا ایک بڑا انسانی مسئلہ ہے۔

پاکستان میں بھی صورتِ حال توجہ طلب ہے۔ زیرِ زمین پانی ہماری گھریلو ضروریات اور زراعت کے لیے انتہائی اہم ہے، مگر اس کے غیر محتاط استعمال، آلودگی اور بڑھتی ہوئی طلب نے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز بوتل بند پانی کے معیار کی نگرانی اور متعلقہ رپورٹس کی اشاعت کا کام کرتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پانی کے معیار، قیمتوں اور قدرتی ذخائر کے استعمال پر مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو محفوظ پانی قابلِ برداشت قیمت پر میسر آ سکے۔

اسلام اس معاملے کو ایک مختلف اخلاقی زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ

ترجمہ: ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔“

(سورۃ الانبیاء، آیت 30)

یہ آیت پانی کی اہمیت اور زندگی سے اس کے بنیادی تعلق کو واضح کرتی ہے۔ اسی طرح قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:

وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

ترجمہ: ”اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“

(سورۃ الاعراف، آیت 31)

رسول اللہ ﷺ نے بھی پانی پلانے کی فضیلت بیان فرمائی۔ سنن ابی داؤد، حدیث 1679 میں پانی پلانے کو پسندیدہ صدقے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری، حدیث 2363 میں پیاسے کتے کو پانی پلانے والے شخص کے لیے اجر و مغفرت کا واقعہ بھی موجود ہے۔ یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ پیاسے کی ضرورت پوری کرنا محض ایک سماجی خدمت نہیں بلکہ ثواب کا ذریعہ بھی ہے۔

تاہم پانی پلانے کی فضیلت کا مطلب یہ نہیں کہ پانی صاف کرنے اور لوگوں تک پہنچانے کے اخراجات کی نفی کر دی جائے۔ اصل ضرورت کاروباری مفاد اور اجتماعی ذمہ داری میں توازن قائم کرنے کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر صاف پانی کی فراہمی، آلودگی کی روک تھام اور آبی ذخائر کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ نجی ادارے معیار اور قیمتوں میں شفافیت اختیار کریں، جبکہ مخیر حضرات پانی کی سبیلوں اور فلٹریشن منصوبوں کے ذریعے معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں۔

پانی کی بوتل پر قیمت لکھی جا سکتی ہے، لیکن انسانیت، زندگی اور پیاس کی اہمیت کسی قیمت کے ٹیگ میں محدود نہیں کی جا سکتی۔ پانی کو محفوظ رکھنا، ضائع ہونے سے بچانا اور ضرورت مند تک پہنچانا ریاست سمیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

کیونکہ پانی صرف ایک کاروباری شے نہیں، زندگی کی امانت اور انسانیت کی ضرورت بھی ہے۔