پاکستان میں ایل پی جی کی سپلائی بحال، قیمتوں میں کمی کاامکان

ملک بھر میں درپیش ایل پی جی کے شدید بحران اور بلند ترین قیمتوں کے بعد پاک ایران سرحد پر پھنسے باؤزرز کی کلیئرنس اور پورٹ قاسم پر بحری جہازوں کی آمد سے گیس کی قلت دور ہونے اور قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے-
میڈیا رپورٹس کے مطابق گبد ریمدان بارڈر پر پھنسے ایل پی جی کے 200 سے زائد باؤزرز کی کلیئرنس سے مارکیٹ میں تقریباً 3 سے 4 ہزار ٹن گیس شامل ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد فی کلو قیمت میں 50 سے 70 روپے تک کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب پورٹ قاسم پر 4 ہزار 520 میٹرک ٹن ایل پی جی کا حامل جہاز لنگر انداز ہو چکا ہے جبکہ 3 ہزار 83 میٹرک ٹن کارگو منتقل کرنے والا ایک اور جہاز روانہ ہو گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران سے گیس کی آمد معطل ہونے کے باعث پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کی تھی، تاہم ادارہ شماریات اور ایل پی جی ڈیلرز کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں گیس 550 سے 610 روپے فی کلو جبکہ 11.67 کلو کا گھریلو سلنڈر 4500 روپے سے بڑھ کر 7000 روپے تک فرو خت ہوتا رہا۔
پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق بلوچستان میں 12 کلو کا سلنڈر 7000، لاہور میں 7500 اور اسکردو میں 8200 روپے تک پہنچ گیا تھا پاکستان روزانہ ایران سے تقریباً 7 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتا ہے، جس میں سے 4 ہزار ٹن سے زائد سپلائی صرف گبد ریمدان کے راستے داخل ہوتی ہے۔
سرحد پر تجارتی تعطل سے نہ صرف گیس کی قلت پیدا ہوئی بلکہ پاکستانی برآمدات کے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز بھی پھنس گئے تھے، تاہم بعد میں جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی برآمد بحال کر دی گئی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی حال ہی میں تہران کے دورے کے دوران ایرانی قیادت سے تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے سرحدی تجارت معمول پر آگئی ہے۔





