اگر نواز شریف قابلِ احترام ہیں تو مریم نواز ناقابلِ قبول کیوں؟ سیاسی وفاداری یا ذاتی پسند و ناپسند؟,تجزیہ نگار: شہزاد قریشی

نواز شریف محسنِ پاکستان، دوستوں کے دوست؛ تو مریم نواز شریف کی قیادت سے انکار کیوں؟
نواز شریف سے وفاداری کے دعوے، مریم نواز کے ساتھ کام کرنے سے انکار مسلم لیگ ن کے منحرف رہنماؤں سے چند سوالات
اگر نواز شریف قابلِ احترام ہیں تو مریم نواز ناقابلِ قبول کیوں؟ سیاسی وفاداری یا ذاتی پسند و ناپسند؟
تجزیہ نگار شہزاد قریشی
میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن سے راہِ فرار اختیار کرنے والے بعض رہنما ایک طرف میاں نواز شریف کو محسنِ پاکستان قرار دیتے ہیں، انہیں دوستوں کا دوست کہتے ہیں اور ان کی سیاسی جدو جہد،قربانیوں اور احسانات کا اعتراف بھی کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف جب انہی کی صاحبزادی مریم نوا ز شریف کی قیادت میں کام کرنے کی بات آتی ہے تو بعض لوگ یہ کہہ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ ہم مریم نواز کے ماتحت کام نہیں کر سکتے۔ آخر یہ کیسا سیاسی تضاد ہے؟-
اگر میاں نواز شریف واقعی محسنِ پاکستان ہیں، اگر وہ دوستوں کے دوست ہیں اور اگر ان کی شخصیت اور خدمات قابلِ احترام ہیں، تو پھر ان کی بیٹی کے ساتھ کام کرنے میں آخر ایسی کون سی رکاوٹ حائل ہے؟ کیا محض اس وجہ سےکہ قیادت اب مریم نواز شریف کےہاتھ میں ہےماضی کی وفاداریاں اور تعلقات بے معنی ہوجاتے ہیں؟ اس رویے کو کیا نام دیا جائے، اس کا فیصلہ تو وہی لوگ بہتر جانتے ہیں۔ مریم نواز شریف کی پنجاب میں کارکردگی کا جائزہ لیاجائےتو ان کی حکومت نےعوامی فلاح و بہبود، عوامی خدمات اور مختلف ترقیاتی و فلاحی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی ہے۔
انہوں نے عوامی خدمت کے میدان میں اپنی ایک الگ شناخت بنانے کی کوشش کی ہے اور پبلک سروس کو نئی جہت دینےکے لیےمتعدد اقدامات کیےہیں انکےان اقدامات کومحض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نظرانداز کرنا بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگا۔ بلاشبہ کوئی بھی حکمران غلطیوں سے بالاتر نہیں ہوتا۔ انتظامی معاملات میں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں، فیصلوں پر اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور کارکردگی پر تنقید کرنا ہر شہری اور سیاسی رہنما کا حق ہے۔ لیکن کسی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بجائے یہ کہنا کہ ہم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف کے ماتحت کام نہیں کر سکتے، ایک ایسا سوال ضرور پیدا کرتا ہے جس کا جواب متعلقہ رہنماؤں کو دینا چاہیے۔ میری مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماؤں سے گزارش ہے کہ اگر میاں نواز شریف کی شخصیت، سیاسی خدمات اور احسانات کا اعتراف کرتے ہیں تو پھر مریم نواز شریف کے ساتھ کام کرنے سے انکار کی اصل وجہ بھی واضح کریں۔ کیا اختلاف پالیسیوں سے ہے، طرزِ حکمرانی سے ہے یا محض قیادت کی تبدیلی قبول نہیں؟
سیاسی وفاداری کا اصل امتحان صرف کسی شخصیت کی تعریف کرنا نہیں، بلکہ اصولوں، نظریات اور اپنی جماعت کے جمہوری فیصلوں کا احترام کرنا بھی ہے۔ اختلاف ضرور کیجیے، تنقید بھی کیجیے، مگر دلیل اور کارکردگی کی بنیاد پر۔ اگر مریم نواز شریف کی کارکردگی میں خامیاں ہیں تو انہیں سامنے لائیں، اور اگر ان کے اقدامات عوام کے لیے مفید ہیں تو ان کا اعتراف بھی کیجیے۔ محض اس بنیاد پر ان کی قیادت قبو ل نہ کرنا کہ وہ نواز شریف کی صاحبزادی ہیں، ایک ایسا طرزِ عمل ہے جس پر سنجیدہ سیاسی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ آخر میں سوال وہی ہے اگر نواز شریف محسنِ پاکستان اور دوستوں کے دوست ہیں، تو ان کی بیٹی کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرنے والے مسلم لیگی رہنما اپنے اس مؤقف کی کیا توجیہ پیش کر یں گے؟ یہ سوال کسی کی مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ سیاسی اصولوں، وفاداریوں اور قیادت کے بارے میں ایک واضح مؤقف جاننے کے لیے ہے۔





