ربیع الاول کے حوالے سے چھوٹا سا نذرانہ عقیدت آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام
پہلی بہار( ربیع الاول) جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند،،ربیع الاول عربی زبان کا ایک خوبصورت لفظ ہے جس کے زبان پر آتے ہی ھم مسلمانوں کی زبان تو کیا روح تک میں مٹھاس اور اک سرشاری سی اتر آتی ہے اور دل و دماغ میں( تصور کی آنکھ سے) اپنے آقائے دوجہاں حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلکش و خوبصورت، بےمثال سے بھی بے مثال باکمال شخصیت اور محبت پوری روح کا احاطہ کر لیتی ہےـ ربیع الاول کے معنی ہیں پہلی بہار،اور اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ہم مسلمانوں کی زندگی میں پہلی بہار ہی تب آئی جب اس موسم بہار میں محمد(ص) کے نام کا خوبصورت ترین پھول کھلا جس کی خوشبو نے،مہک نے پورے عالم کو معطر و منور کردیا۔جیسے ہی اس مبارک ماہ کی آمد آمد ہوتی ہے تمام عاشقان رسول(ص) پروانوں کی مانند اس ماہ مقدسہ کی لذتوں،خوشیوں اور برکات کو سمیٹینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ویسے تو ہم عاشقان مصطفی ساری زندگی ہی اک اک لمحہ لمحہ اس عشق میں ڈوبے رہتے ہیں دن ہو کہ رات۔مگر اس ماہ میں یہ جوش،جنون بن جاتا ہے ہر طرف عید میلادالنبی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور کیوں نہ ہو ھم اپنے آقا کی پیدائش کے دن کو خوشیوں سے کیوں نہ منایئں جس نے ہمیں گمراہی کے گڑھوں سے نکالا۔آپ کی پیدائش سے پہلے کے کیا حالات تھے؟ پوری دنیا بد اعمالیوں کا گڑھ بن چکی تھی کونسی ایسی برائی تھی جو اس وقت معاشرے میں موجود نہ تھی۔انسان کو انسان کہنا اس کی توہین تھی،کفر کی کالی گھٹایئں ہر طرف چھائی ہوئی تھیں،ہر طرف گناہوں کی بجلیاں کوند رہی تھیں،نیکی نفس کی برایئوں میں گھری کانپ رہی تھی وہ متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ کہیں سے روشنی کی کوئی کرن پھوٹے وہ کفر کے اندھیروں میں ڈر ،ڈر کر قدم اٹھا رہی تھی اور یہ دعا مانگ رہی تھی! "اے پرودگار!! اپنے کرم سے اس نور کا ظہور کر جو زمانے کے اندھیرے کو روشن کر دےـ" یکا یک رحمت الہی جوش میں آئی اور بی بی آمنہ کے بطن مبارک سے وہ لعل جہاں تاب پیدا ہوا کہ جس نے ظلمت کے اندھیروں کو مٹایا وہ نومولود محمد(ص) جب مسکرایا تو ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑ گئی،دلوں کو نور کی روشنی ملی،کفر سجدے میں گر گیااور طیبہ کا چاند 12 ربیع الاول کی سہانی صبح میں چمکا (سبحان اللہ) اس روز صبح کس غرور،کس شان سے طلوع ہوئی ہو گی کیا خوبصورت گھڑی تھی جس میں آقائے دوجہاں،تاجدار حرم،شفیع الامم،امام الانبیاء،رحمت للعا لمین بن کر اس دنیا میں تشریف لائے۔آپ پوری دنیا کے لئے رحمت للعالمین تھے آپ کو رب کائنات نے جن وانس اور دیگر مخلوقات کی ہدایت اور فلاح کے لئے مبعوث فرمایا۔بیواءوں،یتیموں ،ناداروں اور لاچاروں کے دست گیر تھے آپ کی حساسیت اس حد تک تھی کہ سوئی کی چبھن کو بھی دوسروں سے زیادہ محسوس کرتے تھے آپ نے کبھی کسی دشمن کو بھی بد دعا نہ دی تھی یہ کائنات ہی آقائے دو جہاں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں وجود میں آئی،اگر آپ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا نہ زمین نہ آسمان نہ چاند نہ تارے اور نہ ہی ھم۔ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ!! اللہ پاک نے حضرت عیسی سے فرمایا، اے عیسی!! تم محمد (ص) پر ایمان لاو اور تمہاری امت میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے وہ بھی ضرور ایمان لائے کیونکہ اگر محمد نہ ہوتے تو میں آدم کو پیدا نہ کرتا،محمد نہ ہوتے تو جنت نہ بناتا اور عرش پر لکھ دیا" لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ۔اپنے آقا کی تعریف اور شان بیان کرنا کسی بھی ذی روح کے بس کی بات نہیں زندگی تمام ہو جائے مگر ھم سے مدحت سرائی بیان نہ ہو پائےـ آپ کی حیات مبارکہ کے ایک ایک پہلو کو اجاگر کرنے میں صدیاں گزر جایئں مگر پھر بھی ھم سے نہ ہو پائے آپ کی حیات طیبہ بذات خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے آپ کی آمد سے پہلے جتنے بھی انبیاء اور رسل آئے انہیں گنتی کے چند معجزات سے نوازا گیا ان انبیائے کرام کے معجزات کی تفصیل قرآن حکیم میں موجودہے مگر ھمارے آقا کے معجزات کی تفصیل و فہرست نہیں کیونکہ میرے خیال میں فہرست تو اس کی بنتی ہے جس کی کوئی تعداد ہو اور ھمارے آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو پوری کی پوری زندگی۔۔آپ کا اٹھنابیٹھنا،سوناجاگنا،چلنا پھرنا،کھانا پینا،گفتگو کرنا،خاموشی اختیار کرنا،مسکرانا،غرض ہر ہر عمل معجزہ تھا بلکہ ہے تو پھر فہرست کیسے بنتی؟
حسن یوسف،دم عیسی ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
مہد پاک میں چاند سے کھیلنا،شق صدر،شق القمر جیسے معجزات جن کو سوچتے ہوئے عقل دنگ رہ جاتی ہےاور مجھ جیسا کم فہم انسان سوچتا ہی چلا جاتا ہے کہ کیسے چند ماہ کا بچہ اپنی انگلی مبارک سے چاند کو اِدھر سے اُدھر گھماتا ہے، اس سے ہنستا ہے، باتیں کرتا ہے( سبحان اللہ) دو سالہ بچے کا یہ کہنا کہ" دو سفید لباس میں ملبوس اشخاص آئے مجھے لٹایا سینہ چاک(شق الصدر) کیا کچھ نکال کر پھینکا اور پھر سب کچھ جوڑ دیا۔"ذرا سوچئے تو یہ دنیا کی پہلی اوپن ہارٹ سرجری ہی تھی نا۔۔نہ کوئی اوزآر استعمال ہوا نہ خون بہا نہ کوئی دھاگوں سے ٹانکے لگے اور بچہ تندرست و توانا کھڑا ہو گیا( اللہ اکبر) پچھلے انبیائے کرام کے معجزات تو صرف زمین تک محدود تھے مگر قربان جایئں اپنے آقا کے معجزات تو ماورائے آسمان میں ہیں ۔براق کا آنا،معراج پر جانا،سدرہ المنتھی سے آگے جبریل کا نہ جانا اور اس سے آگے کا سفر تنہا کرنا وہ بھی نعلین مبارکہ کے ساتھ ( جبکہ حضرت موسی کلام کے لئے کوہ طور جاتے تو جوتے کی اجازت نہ تھی ننگے پاوں جاتے) اور میرے آقا کی شان دیکھیئے کہ:
عرش نے چوما ہے تلوی آپ کی نعلین کا
۔پھر شق القمر(چاند کا دو ٹکڑے ہونا) کا معجزہ کیا کوئی چھوٹا معجزہ ہے اعلان بنوت کے کوئی آٹھ سال بعد کا واقعہ ہے کہ ایک رات ابو جہل ایک بہت بڑے یہودی عالم اور چند چیلوں کے ہمراہ بہت غرور اور اکڑ سے آیا اور حکم دینے کے انداز میں تلوار لہراتے ہوئے بولا۔تم اپنا کوئی معجزہ دکھاو جیسے پہلے بنی دکھاتے تھے آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر پوچھا! کیا معجزہ دیکھ کر تم ایمان لے آوگے؟ بتاو کیا دیکھنا چاہتے ہو؟ اب اس فرمان پر غور تھوڑی سی توجہ چاہیئے( میرے خیال میں) کہ اس طرح کا دعوی کسی پیغمبر نے نہیں کیا تھا ان کے معجزات مخصوص تھے مگر چونکہ آپ کی ذات مقدسہ معجزہ ہی تھی بلکہ یوں کہنا بے جا نا ہو گا کہ معجزات کو اللہ پاک نے دست آحمد مصطفی کے تابع فرما دیا تھا بلکہ زیر نگیں کر دیا تھا کہ خود آقا پوچھ رہے ہیں بتاو کونسا معجزہ؟ وہ سب سوچنے لگے ان کی خواہش،اور دماغ میں شرارت یہ تھی کہ کوئی ایسی بات ہو جو نا ممکن ہو اور نعوذ باللہ جس کو سرکار دوعالم نہ کر سکیں مگر عقل وشعور سے بیگانہ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ یہ دربار کس شہنشاہ کا ہے بڑی سوچ بچار کے بعد یہودی عالم نے کہا کہ آسمان پر جادو نہیں چلتاتو کوئی آسمانی معجزہ دیکھتے ہیں اس وقت چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ابو جہل نے کہا کہ اس کے دو ٹکڑے کر دو ایک ٹکڑا جبل ابو قیس اور دوسرا جبل قیقعان پر آجائے ،شہنشاہ دو عالم نے انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا اور وہ دو ٹکڑے ہو کر بتائی گئی شرط کے مطابق دونوں طرف چلا گیا اور پھر دوبارہ اشارہ کیا تو دونوں ٹکڑے مل گئے یہودی عالم یہ دیکھ کر فورا مسلمان ہو گیا مگر ابو جہل تو جاہلوں کا باپ تھا کہنے لگا ! محمد نے جادو سے ھماری نظر باندھ دی ہے۔۔اس معجزے سے متعلق ایک واقعہ گوش گزار کرتی چلوں کہ اس معجزے کی رات ایک بادشاہ اپنی ملکہ کے ہمراہ چاندنی رات میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ اچانک اس نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا جو کچھ دیر میں آپس میں جڑ گئے بادشاہ کانام چیر مان پیرومل تھا اور کیرالہ کی ریاست کا بادشاہ تھا اس نے یہ دیکھا تو کچھ نا سمجھ پایا کہ کیا ہوا ہے کیسے ہوا ہے؟ بہت سے لوگوں سے دریافت کیا مگر مطمئن نا ہوا کبھی سوچتا شائد وہم تھا کچھ دنوں بعد عرب تاجروں کا قافلہ آیا تو بادشاہ نے ان سےپوچھا تو انہوں نے بتایا کہ سرزمین عرب میں ایک محمد نامی پیغمبر نے معجزہ دکھایا ہے اس نے اسی وقت آقا سے ملنے کا ارادہ کر لیا( کاش میں گناہ گار وہ بادشاہ ہی ہوتی) حکومت کی باگ دوڑ مقامی رہنماوں کے سپرد کی بادشاہت چھوڑی اور آقا کے حضور جا کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ایمان لے آیا اور مسلمان ہونے پر تاج الدین نام رکھا یہ ایسا معجزہ ہے جس پر مسلمان تو کیا غیر مسلمان بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ جب پہلی بار امریکی خلاباز چاند پر گئے تو انہوں نے ایک دراڑ دریافت کی جو چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر رہی تھی اکثر لوگ کہتے ہیں کہ یہ دراڑ معجزہ شق القمر ہے( واللہ اعلم الغیب) کون کونسا معجزہ بیان کروں کہ ذات اقدس خوبصورت معجزات سے لبریز ہے ایک بار حضرت انس(رضی) کے ہاں تشریف لے گئے وہاں آنکھ لگ گئی تو گھر والوں نے پسینہ مبارک کو شیشیوں میں بھرنا شروع کر دیا آنکھ کھلی تو پوچھا اے ام سلیم ! تو کیا کرتی ہے ؟ اس نے عرض کی یا رسول اللہ، آپ کا پسینہ خوشبو کے لئے استعمال کرتے ہیں اس کی برکت سمیٹتے ہیں( آپ کے پسینہ مبارک کی خوشبو گلاب کے پھول میں ہے) اگر کسی کے سر کے بال سفید تھے تو آپ کے دست مبارکہ کی برکت سے وہ کالے ہو گئے اور تا زندگی سفید نا ہوئے،جس صحابی کے چہرے پر دست مبارک پھیرا وہ تا دم حیات شاداب و جوان ہی رہا،کنکریوں پر دم کر کے کنویئں میں ڈالیں تو پانی روان ہو گیا اور کبھی کم نا ہوا،کھارے کنویئں میں لعاب مبارک ڈالا تو وہ میٹھا و شیریں ہو گیا جب آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم موئے مبارک ترشواتے تو صحابہ کرام بطور تبرک جمع کر لیتے حضرت خالید بن ولید نے وہ موئے مبارک اپنی ٹوپی میں رکھے ہوئے تھے جنگ یرموک میں وہ ٹوپی گم ہو گئ آپ دیوانہ وار ڈھونڈ رہے تھے سب نے وجہ پوچھی تو آپ نے بتایا کہ میں نے اس ٹوپی کو جس جس جنگ میں پہنا مجھے ہمیشہ فتح ہوئی موئے مبارکہ کی برکت سے اور یہ معجزہ کیا کم ہے کہ جس نے بھی بطور تبرک موئے مبارکہ پاس رکھا ہوا ہے وہ باقاعدگی سے آج تک بڑھتا ہے( سبحان اللہ،ماشااللہ) یہ میرے آقا کی شان وکبریائی ہے کہ دشمنوں نے کہا تھا کہ تیرا نام لیوا کوئی نا ہو گا، مگر دیکھئے آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کا نام نیست ونابود ہو گا لیکن آقائے دوجہاں کا نام تاقیامت اسی طرح سرسبزوشاداب رہے گا انشااللہ۔آیئں کہ ھم بھی اپنی پہلی بہار کو پوری عقیدت جوش اور جذبے سے منایئں درود و سلام کے تحفے بھیجیں۔۔
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایئت پہ لاکھوں سلام
ھم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ھم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام،( دامے،درمے،سخنے،کوئی غلطی کوئی چوک ہو گئی ہو تو معافی کی خواستگار ہوں،) فائزہ شہزاد۔۔۔
مزید پڑھیں






