اسناد کی رت اور "پہلی نسل" کا نوحہ،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر گلی کے موڑ پر ایک درسگاہ، ہر گھر میں دو چار تعلیمی اسناد اور ہر دل میں ایک گہرا سناٹا بسا ہوا ہے۔ اگر آپ روزنامہ اخبارات اٹھا کر دیکھیں، تو تعلیمی اداروں کے اشتہارات، نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کی ہنستی مسکراتی تصویریں اور اعلیٰ ملازمتوں کے دعوے تو کثرت سے ملیں گے، لیکن اس کے پیچھے چھپی ایک پوری نسل کی "تخلیقی موت" کا ماتم کوئی نہیں کرتا۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس روزگار نہیں، بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اب وہ انسان ہی نہیں رہے جو سوچنے، سمجھنے اور کچھ نیا تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ہم نے بچوں کو میکانیکی آلہ بنا دیا ہے اور اب ہم ان سے معجزات کی امید کر رہے ہیں۔ماضی میں جب کوئی بچہ پڑھ لکھ جاتا تھا، تو وہ اپنے محلے، اپنے خاندان کے لیے روشنی کی علامت بنتا تھا کیونکہ تعلیم اس کی روح کو وسیع کرتی تھی۔ آج کا پڑھا لکھا نوجوان نوکری کی دوڑ میں اس حد تک ہانپ رہا ہے کہ اسے یہ یاد ہی نہیں رہا کہ زندگی کا اصل مقصد کیا تھا۔ ہمارے تعلیمی نظام نے ایک ایسا کارخانہ لگا دیا ہے جہاں صرف اور صرف "نمبروں" اور "درجوں" کی پوجا ہوتی ہے۔ جو بچہ انوکھا اور تخلیقی ذہن رکھتا ہے، جو لکیر کا فقیر بننے سے انکار کرتا ہے، اسے یہ نظام ناکام کر کے باہر پھینک دیتا ہے۔ ہم نے محض حافظے کو ذہانت کا نام دے دیا ہے اور اس رٹے بازی کے نتیجے میں جو نسل تیار ہو رہی ہے، وہ سند یافتہ تو ہے لیکن فہم و ادراک سے بالکل عاری ہے۔
اس تحریر کے ذریعے میں معاشرے کے ان والدین سے مخاطب ہوں جو اپنے بچوں کے کاندھوں پر اپنی ادھوری خواہشات کا بوجھ لاد دیتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ ہم بچوں کو وہ بنانے کی کوشش میں تباہ کر دیتے ہیں جو ہم خود نہیں بن پائے تھے۔ ہر سال لاکھوں معالج اور شاندار اسناد لے کر نکلتے ہیں، لیکن ان میں سے کتنے ہیں جو کوئی نیا تحقیقی کام کرتے ہیں؟ کتنے ہیں جو دنیا کو کوئی نئی سمت دیتے ہیں؟ جواب انتہائی مایوس کن ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے، ان کے اندر کی تخلیقی صلاحیت کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب انہوں نے پہلی بار مصوری یا شاعری کا خواب دیکھا تھا، لیکن انہیں زبردستی سائنسی علوم کی کتابوں کے آگے بٹھا دیا گیا۔اخبار کے صفحات روزانہ جرائم اور معاشرتی بگاڑ کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اس بگاڑ کی جڑیں ہمارے تعلیمی ڈھانچے سے جڑی ہیں؟ جب ایک نوجوان سولہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد منڈی میں آتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعلیمی سند کی قیمت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں، تو اس کا پورا وجود بکھر جاتا ہے۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر یا تو ملک چھوڑنے کی فکر میں لگ جاتا ہے یا پھر اپنے ہی معاشرے سے انتقام لینے پر اتر آتا ہے۔ ہم نے اسناد کے رتبے تو بلند کر دیے، لیکن کردار سازی پر تالا لگا دیا۔
آج دنیا بدل چکی ہے۔مصنوعی ذہانت کا دور آ چکا ہے جہاں وہ تمام کام جو انسان رٹ کر کرتے تھے، اب ایک اشارے پر برقی دماغ کر دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہماری یہ رٹا مار نسل دنیا کا مقابلہ کیسے کرے گی؟ برقی دماغ تو ہم سے بہتر حافظہ رکھتا ہے۔ اگر ہمارے پاس کوئی چیز اس سے بہتر ہے، تو وہ ہماری "سوچ اور تخلیق" ہے۔ لیکن افسوس، اسی چیز کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیمی نظام کے اس روایتی بت کو توڑ دیں۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سند صرف روزگار کا ذریعہ ہے، زندگی کا معیار نہیں۔ زندگی کا معیار انسان کی سوچ، اس کی ہمدردی اور اس کی تخلیقی صلاحیت سے ناپا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے اسکولوں میں فلسفہ، فن اور اخلاقیات کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، ورنہ چند سالوں بعد ہمارے معاشرے میں انسان نہیں، بلکہ صرف کاغذی اسناد گھومتی پھرتی نظر آئیں گی۔ کالم کے اختتام پر، میں ہر قاری سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کیا آپ اپنے بچے کو ایک کامیاب مشین بنانا چاہتے ہیں یا ایک سوچتا ہوا انسان؟ فیصلہ بدلنے کا وقت یہی ہے۔
مزید پڑھیں





