Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قربت کے راز و نیاز اور دیرینہ دشمنی،تحریر:مرزا عارف رشید

نقطہ نظر

دوستی دشمنی میں بدل گئی ایران اور اسراہیل کبھی جو اچھے دوست ہوا کرتے تھے اج ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے کبھی گفٹ کی شکل میں تحفہ دینا راز نیاز کی باتیں کرنا ایک دوسرے کے ساتھ مشورے کرنا سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک دوستی دشمنی میں بدل گئی اج دونوں ایک دوسرے کا وجود بھی برداشت نہیں کر رہے بہت سی خفیہ باتیں ایک دوسرے کے درمیان ہوتی تھی دنیا ان کی دوستی کی مثالیں دیا کرتی تھی کل کے دوست اج کے دشمن بن گئے ہیں حیرانی کی بات یہ ہے جس نیوکلیئر پروگرام کی مخالفت اج امریکہ اور اسرائیل کر رہا ہے یہ تب کی بات ہے جب یہاں سب سے پہلے سلطنت عثمانیہ کا راج تھا جوکہ ولڈ وار کے بعد 1922 میں ختم کر دیا گیا اب یہاں برٹیش حکومت کا راج تھا سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے وہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی جوکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو گفٹ کیا تھا عرب ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی آزاد ہوئے تھے اور عرب نے خود کو عرب گلف کہنا شروع کردیا تھا عرب اپنا علیحدہ ملک بننا چاہتا تھے عرب نے اندر ہی اندر بریٹش کا ساتھ دیا تھا اس وعدہ پر ان کو اپنا ملک بنانے دیا جائے گا بریٹش اور عرب کے علاوہ ایک طاقت اور بھی تھی جس سے عرب کو مسئلہ تھا وہ تھا ایران اس وقت ایران ایک پاور وار ملک تھا اس وقت یہاں کے لوگ عرب کے لوگوں کو کمتر سمجھتے تھے ایران کے شاہ کو لگتا تھا اگر تمارے عرب کے تمام ملک ایک ہوگئے تو اس سے ایران کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جس کی وجہ سے ایران کمزور ہو جائے گا ایران میں شیعہ زیادہ تھے جبکہ اور عرب میں سنی تعداد میں زیادہ تھے اگر دیکھا جائے تو ان دونوں کے درمیان خاموش مقابلہ رہا ہے اس وقت کے شاہ ایران رضا بہلوی کو ڈر تھا کہ کہیں عرب کے لوگ ان سے ایران کا تخت تاج چھین نہ لیں کوئی نہیں جانتا تھا میڈلیسٹ میں اکیلا ہوجانے والے ایران کو ایک بہترین دوست ملنے والا ہے پھر آیا سال 1948 یونیٹینیشن کے اعلان کے بعد اسرائیل کا قیام ہوا اسرائیل کے بننے کے بعد پڑوسی ملک یعقنی تھا کہ عرب ممالک کو لگا کہ فلسطین کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور عرب نے اسرائیل پر حملہ کر دیا یہ جنگ جہاں اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بنی وہیں ایران کے شاہ کو اب عرب ملکوں سے جان چھوٹ جائے گی حقیقت کچھ اور تھی شاہ ایران کو اسرائیل سے اتنا خطرہ نہیں تھا جتنا خطرہ عرب ملکوں سے تھا عرب کے لوگوں کا اثر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا جب عرب کے لوگ اسرائیل سے جنگ کر رہیں تھے تب ایران کی ہمدردیاں اسرائیل کے ساتھ تھی دوسرے طرف اسرائیل نے بھی ایران کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا کیوں کے اسرائیل کو بھی عرب ملکوں کے علاوہ اور ممالک کے ساتھ دوستی بنانا تھی جن میں عرب میں عربی شامل نہ ہو اس طرح اسرائیل اور ایران ایک دوسرے کے جگری دوست بن گے اور اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈایوٹبین کرون نے ایک پالیسی بنائی جس میں اس کو کامیابی ملی اسرائیل کے پہلے وزیراعظم کو اس بات کا بھی علم تھا کہ اسرائیل ایک چھوٹی سی اسٹیٹ ہے اس اسٹیٹ کے چاروں اطراف میں عرب ممالک ہیں تو کیوں نہ ہم اپنے سب سے پہلے اپنے دشمن کے دوستوں کے ساتھ دوستی کر لیں عرب ملکوں کے لوگ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ ایران ہمارے ساتھ اندر ہی اندر سے اسرائیل نے ایران کو اپنے ساتھ شامل کیا اور دونوں بہترین دوست بن گئے اسرائیل کے پہلے وزیراعظم نے جس طرح پالیسی بنائی تھی اس میں وہ کامیاب ہوگیا ایران اسرائیل دوستی کا پہلا نتیجہ 1950 میں سامنے آیا ٹرکی کے بعد ایران دوسرا ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ایران نے سوئزر لینڈ کی حکومت کے ذریعے تسلیم بھی کیا اور اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا دنیا کو لگتا تھا کے ایران اسرائیل کو نہیں مانتا مگر حقیقت کچھ اور تھی شاہ ایران نے اسرائیل کو تہران میں مشن اسرائیل کو کامیاب کرنے کے لیے اجازت دے دی اور اس طرح تہران میں اسرائیل کا بہت بڑا آفس بنایا گیا جو ایک ایمبیسی کی طرح کام کرنے لگ گیا تھا اسرائیل کی بلڈنگ کے اوپر نہ ہی کوئی جھنڈا لگایا گیا تھا اور نہ ہی اس بلڈنگ کو ایمبیسی کا نام دیا گیا تھا جبکہ کے ایران کے لوگوں کو اچھی طرح علم تھا کہ اسرائیل بلڈنگ میں کیا کام ہو رہا ہے شاہ ایران نے اپنے ملک کے عوام کو بتایا کہ اس بلڈنگ میں ٹریڈز کا کام ہے شاہ ایران ایک مسلم ملک کا بادشاہ تھا پھر اس نے یہودیوں کا ساتھ دیا کیونکہ شاہ ایران خود کو اور زیادہ مضبوط کرنا چاہتے تھے ایران کو پاورفل ماڈرن انڈسٹریل اسٹیٹ بھی بنانا چاہتے تھے اسکے لیے ایران کو جدید ٹیکنالوجی اور زہین لوگوں کی بھی ضرورت تھی جوکہ اسرائیل ایران کو دے سکتا تھا دوسری طرف ایران کے شاہ کو جمال عبدالناصر سے بھی ڈر لگتا تھا جوکہ عرب نیشنل عزم کا پرچم بلند کیے ہوئے تھا شاہ ایران کو لگتا تھا جمال عبدالناصر کا عرب کے بعد دوسرا نشانہ کہیں ایران کو ہی بنا لے اس ڈار اور خوف کی وجہ سے شاہ ایران کو اسرائیل کی طرف جھکنے پر مجبور کر دیا شاہ ایران کی جو سب سے بڑی خواہش تھی وہ تھی امریکہ کے قریب جانا 1953 میں ایران کے وزیراعظم موسئ دھیک نے شاہ ایران کی پاور کم کرنا چاہی لیکن امریکہ نے سی آئی اے کی مدد کی اور شاہ ایران کے تختہ کو بچا لیا گیا اس کے بعد تو پھر شاہ ایران امریکہ کے احسان مند تھے شاہ ایران کو امریکہ کی طرف سے کوئی بھی حکم نامہ جاری ہوتا اس پر فوری طور پر عمل درآمد ہوتا امریکہ بھی یہ یہی چاہتا تھا ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے اچھے دوست بن کر رہیں گے ادھر شاہ ایران کو اپنے ملک کی عوام سے اتنا ڈار تھا کے انہوں نے ایران میں ایک خفیہ پولیس بھی بنائی جس کانام ساونگ رکھا گیا تھا اگر شاہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش میں کوئی پایا جائے یا پھر شاہ ایران کے خلاف باتیں کرتا پایا جائے تو اس کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے خفیہ پولیس کی ٹریننگ کسی اور نے نہیں بلکہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے کی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے روزانہ کی بنیاد پر تفتیش کا عمل کو شروع کیا ایران کی خفیہ ایجنسی اور موساد دونوں نے مل کر عرب اور ایران کے گروپوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ادھر ایرانی ایئرفورس کو بھی اسرائیل میں ٹریننگ دی گئی تھی اسرائیل نے ایران کو ایڈوانس ٹیکنالوجی بھی دی اسرائیل نے ایڈوانس ہتھیار بھی دے دیے جس ٹیکنالوجی کے پیچھے اج امریکہ اسرائیل پڑے ہوئے ہیں یہ ٹیکنالوجی امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے ایران نے شروع کیا تھا 1957 میں اس وقت کے امریکی صدر دنیا بھر کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی دیکھانا چاہتا تھا تاکہ اس ٹیکنالوجی سے دنیا بھر میں سستی بجلی تیار کر سکے امریکہ نے ایران کو پہلا نیوکلیئر ریسرچ پروگرام 1967 میں دیا تھا جوکہ تہران یونیورسٹی میں لگایا گیا تھا اس وقت نیوکلیئر سائنٹیسٹ کو ٹرینگ بھی اسرائیل نے دی تھی جن کو آج چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے اسرائیل کو تیل کی بہت زیادہ ضرورت تھی تب عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کیا ہوا تھا ادھر ایران کے پاس تیل تو بہت تھا لیکن کوئی راستہ نہ تھا جس سے اسرائیل کو تیل پہنچایا جاتا اگر تیل کے کینٹنر پرشین گلف سے ریڈ سی اور سیوس کینال سے اسرائیل جانے کی کوشش کرتے تو یہاں سے بھی نہ ممکن تھا اگر زمینی راستہ سے بھی کچھ عرب ممالک ایسے تھے جس سے اسرائیل کو تیل پہنچانا ممکن تھا ایران کی طرف سے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے خصوصی پائپ لائن بچھائی گئی جس سے اسرائیل تک تیل رسائی ممکن ہوئی ایران کا تیل یورپ ممالک کو ملنا شروع ہوگیا اسرائیل اور ایران ففٹی ففٹی کے پاٹنر بن گے دونوں نے مل کر پیسہ بنایا جس سے عرب ملکوں کو شدید دھچکا لگا شاہ ایران اور اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈایوٹبین کی ملاقاتیں چھپ چھپ کر ہوا کرتی تھی جب بھی اسرائیلی وزیراعظم ڈایوٹبین تہران کےایرانی ائرپورٹ پر اترتے تو ایرانی میڈیا سے بچ کر نکلتے 1970 میں اسرائیل ٹریڈز سے بنائی جانے والی ایمبیسی کا اصلی چہرہ سامنے اگیا اس ایمبیسی میں اسرائیلی انجینیر ڈاکٹر اور ملٹری ایڈوائزر موجود ہوتے شاہ ایران نے 1971 میں دینا کی سب سے بڑی برتھ ڈے پارٹی رکھی اس پارٹی میں دنیا بھر سے مہمانوں کو مدھو کیا گیا تھا پیرس کے ہوٹلوں سے پرائیویٹ جہازوں میں کھانا منگوایا گیا تھا برتھ ڈے پارٹی میں اسرائیلی وزیراعظم کو نہیں بلایا گیا تھا شاہ ایران اسرائیل اپنی لازوال دوستی کو کسی کے سامنے نہیں لانا چاہتے تھے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر تمام پلان تیار کیا تاکہ کوئی حملہ نہ ہو سکے کچھ سالوں تک یہ دوستی بہت اچھی طرح چلتی رہی آخر کار ایک دن ایسا بھی آگیا کے ایران اسرائیل دوستی دشمنی میں بدل گئی 1979 میں آیت اللہ خامنی نے شاہ کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا آیت اللہ خامنی نے سب سے پہلے ایران کو اسلامی ریپبلیک ملک بنا دیا آیت اللہ خامنی نے سب سے بڑا اعلان کیا کہ اسرائیل اسلام کا دشمن اور شاہ ایک غدار ہے کچھ دونوں بعد اسرائیلی ٹریڈز پر حملہ کر کے وہاں فلسطین کا جھنڈا لہرا دیا فلسطینی رہنما یاسر عرفات بھی ایران پہنچ گئے آیت اللہ خامنی نے یاسر کی موجوگی میں اعلان کیا اج سے ایمبیسی اسرائیل کی نہیں بلکہ فلسطین کی ایمبیسی ہوگی یہاں سے ایران اور اسرائیل کی دوستی ختم تو ہوگئی لیکن دفن نہ ہوئی ایک سال بعد ایران عراق کی جنگ شروع ہوئی تو ایران کو ہتھیاروں کی سخت ضرورت پڑگئی تب ایران اور اسرائیل کو دوبارہ اکٹھا کر دیا اسرائیل نے خفیہ طور پر ایران کی مدد کی اور ہتھیار کی سپلائی بھی دی آیت اللہ خامنی کی سربراہی میں اٹھ سال یہ جنگ جاری رہی اسرائیل اپنے پڑوسی ملک عراق کو کمزور کرنا چاہتا تھا اسلامی ریپبلیک شاہ کے تمام پرانے نظام کو ختم کر دیا تھا خفیہ پولیس اور اسرائیل ایران پائپ لائن کو بھی ختم کردیا ایک چیز کو آیت اللہ خامنی نے ختم نہ کیا وہ تھا نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا پروگرام جس کو ایرانی سپریم لیڈر نے جاری رکھا 1990 میں جب ایران عراق جنگ کا اختتام ہوا تو اسرائیل کو لگا اب ہمیں عراق سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ ایران نیوکلیئر پروگرام ہے جو کبھی امریکہ اور اسرائیل نے گفٹ کیا تھا اب اسرائیل کو ایران سے سب سے زیادہ خطرہ ہے اس پروگرام کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے ایک بار پھر ایران اور اسرائیل کی دوستی دفن ہوگی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک اب بھی جنگ کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایک بار پھر عالمی جنگ ہو سکتی ہیں

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL