کہتے ہیں کہ سنہ 1930 کے آس پاس، جب البرٹ آئن سٹائن امریکہ میں اپنے علمی سفر کے دوران غیر معمولی شہرت حاصل کر چکے تھے، ایک دولت مند امریکی شخص نے ایک شاندار دعوت کا اہتمام کیا۔ اس دعوت میں بڑے بڑے صنعت کار، کاروباری شخصیات، اداکار اور معاشرے کے بااثر لوگ شریک تھے۔یہاں آئن سٹائن سے ایک مقبول حکایت منسوب کی جاتی ہے ۔
کہانی یہ ہے کہ جب آئن سٹائن اس محفل میں پہنچے تو ان کا حلیہ کسی شاہانہ دعوت کے مطابق نہیں تھا۔ سادہ لباس، بکھرے ہوئے بال اور چہرے پر وہی بے نیازی جو ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی تھی۔محفل میں موجود لوگوں نے انہیں دیکھا، مگر پہچانا نہیں۔کسی نے انہیں ایک عام سا بوڑھا سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ایک مشہور اداکار ان کے پاس سے گزرا اور آگے بڑھ گیا۔ ایک کاروباری شخص نے سرسری نگاہ ڈالی۔ کسی کو یہ خیال تک نہ آیا کہ جس شخص کو وہ محفل کے کنارے پر بیٹھا ہوا ایک گمنام بوڑھا سمجھ رہے ہیں، وہی شخص انسانی تاریخ میں وقت، روشنی اور کائنات کے تصور کو بدل چکا ہے۔
آئن سٹائن خاموش بیٹھے رہے۔وہ شاید اس صورتِ حال سے حیران نہیں تھے۔آخر انہیں زندگی نے بہت پہلے سکھا دیا تھا کہ دنیا اکثر انسان کو اس کے اندر سے نہیں، باہر سے پڑھتی ہے۔اسی دوران ایک دولت مند خاتون ان کے قریب آئی۔اس نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ پھر قدرے طنزیہ لہجے میں پوچھا:''آپ آخر کرتے کیا ہیں؟''آئن سٹائن سے منسوب اس مقبول حکایت کے مطابق انہوں نے خاتون کی طرف دیکھا، مسکرائے اور جواب دیا:''میں پہلے سوچتا ہوں، پھر سوچتا ہوں، اور پھر سوچتا ہوں۔ اور جب سوچ سوچ کر تھک جاتا ہوں تو ایک چھوٹی سی مساوات لکھ دیتا ہوں، جسے دنیا برسوں سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔''
خاتون شاید پہلے تو اس جواب کا مطلب نہ سمجھ سکی۔پھر اسے معلوم ہوا کہ وہ کس شخص سے بات کر رہی ہے۔وہ آئن سٹائن تھے۔وہی آئن سٹائن جن کے نظریات نے طبیعیات کے صدیوں پرانے تصورات کو نئے سوالات سے دوچار کر دیا تھا۔وہی آئن سٹائن جنہیں کبھی دنیا ایک عام سا طالب علم سمجھ سکتی تھی۔وہی آئن سٹائن جنہوں نے بچپن میں چیزوں کو محض قبول کرنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپے سوالات کو دیکھنا سیکھا تھا۔
……………………
البرٹ آئن سٹائن کی کہانی دراصل اسی مقام سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔میونخ میں ایک بچے کے طور پر وہ دنیا کو دوسرے بچوں کی طرح نہیں دیکھتا تھا۔وہ چیزوں کو دیکھ کر رک جاتا۔سوچتا۔پھر سوال کرتا۔ایک مقناطیسی قطب نما اس کے ہاتھ میں آیا تو وہ حیران رہ گیا کہ سوئی کو آخر وہ کون سی پوشیدہ قوت حرکت دے رہی ہے جسے آنکھ دیکھ نہیں سکتی؟وہ سوال اس کے اندر کہیں گہرا اتر گیا۔اسے رٹنے سے زیادہ سمجھنے میں دلچسپی تھی۔ روایتی تعلیم کا سانچہ اسے ہمیشہ پوری طرح راس نہیں آیا۔ جہاں دوسرے طالب علم سبق یاد کرتے، وہاں البرٹ سوچتا کہ اس سبق کے پیچھے اصل اصول کیا ہے۔ایک استاد کے لیے ایسا بچہ مشکل ہو سکتا تھا۔مگر سائنس کے لیے ایسا ذہن نعمت تھا۔
وقت گزرتا گیا۔زندگی نے اسے بھی آزمائشوں سے گزارا۔ تعلیم، روزگار اور معاشی مشکلات کے درمیان وہ اپنے سوالوں سے جڑا رہا۔ بالآخر برن کے پیٹنٹ آفس میں اسے ملازمت مل گئی۔دن میں وہ دوسروں کی ایجادات کے کاغذات دیکھتا تھا۔رات میں وہ کائنات کے رازوں کے کاغذات اپنے ذہن میں لکھتا تھا۔دنیا اسے ایک معمولی ملازم سمجھ سکتی تھی۔مگر اس معمولی میز کے پیچھے ایک غیر معمولی ذہن بیٹھا تھا۔
پھر 1905 آیا۔وہ سال جسے بعد میں آئن سٹائن کے ''معجزاتی سال'' کے طور پر یاد کیا گیا۔روشنی، مادے، حرکت اور وقت کے بارے میں اس کے خیالات نے طبیعیات کو ایک نئی سمت دی۔اور پھر نسبیت کا نظریہ(Theory of Relativity )آیا۔اب وہ شخص جسے کبھی عام سمجھا جا سکتا تھا، دنیا کے عظیم ترین مفکرین میں شمار ہونے لگا۔مگر عجیب بات یہ تھی کہ شہرت نے اس کے بال نہیں سنوارے۔اس کے لباس میں شاہانہ پن نہیں لایا۔اس کی گفتگو میں تکبر نہیں پیدا کیا۔البرٹ وہی رہا:سادہ۔…………بے نیاز۔…………سوچ میں ڈوبا ہوا۔
---
اور شاید یہی وجہ ہے کہ آئن سٹائن سے منسوب یہ حکایت آج بھی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنے ایک دوست کو خط میں، یا کم از کم اسی مفہوم کے ساتھ، یہ خیال ظاہر کیا کہ دنیا انسان کے ذہن سے پہلے اس کے لباس کو دیکھتی ہے۔یہ جملہ بھی آئن سٹائن کی طرف منسوب ایک مقبول قول کے طور پر گردش کرتا ہے:''میں نے سیکھا ہے کہ اس دنیا میں لوگ آپ کے کپڑوں کو دیکھتے ہیں، آپ کے دماغ کو نہیں۔ اس لیے میں کبھی اچھے کپڑے نہیں پہنوں گا، تاکہ صرف وہی لوگ میرے پاس آئیں جو میرے دماغ کی قدر کرتے ہیں۔''
یہ الفاظ مستند تاریخی حوالہ ہونے سے زیادہ ایک ادبی اور فکری حکایت کے طور پر اہم ہیں۔کیونکہ ان میں آئن سٹائن کی پوری شخصیت کا ایک عکس دکھائی دیتا ہے۔انسان کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں۔ایک وہ جو آنکھ سے شروع ہوتا ہے اور لباس پر ختم ہو جاتا ہے۔دوسرا وہ جو سوال سے شروع ہوتا ہے اور ذہن تک پہنچتا ہے۔پہلا طریقہ بھیڑ کا طریقہ ہے۔دوسرا طریقہ مفکر کا۔
---
اس رات، اس شاندار امریکی محفل میں، جب لوگ اپنے قیمتی لباس، زیورات اور تعلقات کے ساتھ ایک دوسرے کو متاثر کرنے میں مصروف تھے، ایک سادہ لباس بوڑھا شخص خاموش بیٹھا تھا۔لوگوں نے اس کے کپڑے دیکھے۔انہوں نے اس کے بال دیکھے۔انہوں نے اس کی ظاہری وضع قطع دیکھی۔مگر وہ اس کے اندر چلنے والی کائنات نہ دیکھ سکے۔اور شاید یہی اس حکایت کا سب سے بڑا طنز ہے۔
جن لوگوں کے پاس دولت تھی، انہوں نے ایک غریب دکھائی دینے والے آدمی کو نظر انداز کیا۔جن کے پاس شہرت تھی، انہوں نے ایک غیر معروف شخص کو معمولی سمجھا۔اور جن کے پاس دنیا کے بارے میں بے شمار رائے تھیں، وہ اس شخص کو پہچان نہ سکے جس نے دنیا کو نئے سرے سے سوچنے کا ہنر دیا تھا۔آئن سٹائن نے شاید اسی لیے مسکرا کر کہا ہوگا:''میں پہلے سوچتا ہوں … پھر سوچتا ہوں … اور پھر سوچتا ہوں۔''کیونکہ اصل دولت وہ نہیں جو الماری میں رکھی ہو۔اصل دولت وہ ہے جو ذہن میں پیدا ہو۔اصل حسن وہ نہیں جو آئینے میں دکھائی دے۔اصل حسن وہ ہے جو خیال میں جنم لے۔اور اصل پہچان وہ نہیں جو لباس بناتا ہے۔اصل پہچان وہ ہے جو وقت کے گزر جانے کے بعد بھی انسان کے خیال کو زندہ رکھتی ہے۔
صدیاں گزر جائیں گی۔فیشن بدل جائیں گے۔محلات مٹی ہو جائیں گے۔دولت کے نام بدل جائیں گے۔مگر ایک سچا خیال، اگر وہ انسانی ذہن کو بدل دے، تو وہ اپنے خالق سے کہیں زیادہ طویل عمر پاتا ہے۔شاید اسی لیے آئن سٹائن کے بکھرے ہوئے بال آج بھی ہمیں یاد ہیں۔مگر اس لیے نہیں کہ وہ بکھرے ہوئے تھے۔بلکہ اس لیے کہ ان کے پیچھے ایک ایسا ذہن تھا جو پوری کائنات کو ترتیب دینے میں مصروف تھا۔
مزید پڑھیں






