Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سفر کے دوران 16 سالہ لڑکے سے اجتماعی زیادتی، 6 کم عمر ملزمان زیرِ حراست

crime
مصنف:

پیرو میں اسکول کے طلبہ کی جانب سے 16 سالہ ہم جماعت لڑکے کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔


امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق واقعہ 15 ستمبر کو پیش آیا، جب پیرو کی بحریہ کے زیرِ انتظام سیکنڈری اسکول کے طلبہ اپنی فٹبال ٹیم کے ساتھ ایک ٹورنامنٹ سے واپس آ رہے تھے۔ متاثرہ طالب علم کا الزام ہے کہ دورانِ سفر بس میں اس کے ہم جماعتوں نے دن کی روشنی میں اور دیگر افراد کی موجودگی میں اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔پیرو کے پراسیکیوٹر آفس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے ابتدائی طور پر اسکول کے 10 طالب علموں کو حراست میں لیا تھا، جن میں سے عدالت نے 6 کو مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک چار ماہ کے لیے کم عمر ملزمان کی اصلاحی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔پیرو کی بحریہ نے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک متعدد ملازمین اور انتظامی عہدیداروں کو معطل کر دیا ہے۔ بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد، بدسلوکی اور ان کی عزت و سلامتی کی خلاف ورزی کو مسترد کرتی ہے۔



پیرو کی وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران طلبہ میں جنسی تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد 1198 رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 885 تھی۔ اس طرح واقعات میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ان واقعات میں نازیبا چھونا، جنسی نوعیت کی دیگر حرکات، ہراسانی، سائبر بُلنگ اور زیادتی کے واقعات شامل ہیں۔صنفی امور اور مردانگی کے تصورات پر تحقیق کرنے والے ماہر ایڈورڈو کارکامو نے واقعے کو ایک بڑے مسئلے کی محض جھلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں اور حکومت کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔


ماہرین نے جنسی تعلیم کے نصاب میں حالیہ تبدیلیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مئی میں پیرو کی وزارتِ تعلیم نے کانگریس میں منظور ہونے والے قانون کے تحت جنسی تعلیم کے لیے نئی ہدایات متعارف کرائی تھیں، جن پر ناقدین کا کہنا ہے کہ ان میں جنسی حقوق، صنفی شناخت، مساوات اور جنسی رجحان جیسے موضوعات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔



پیرو کی صدر کیکو فوجیموری نے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے شفاف، سخت اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرم ثابت ہونے پر ذمہ داروں کو قانون کے مطابق مکمل سزا ملنی چاہیے۔متاثرہ لڑکے کے اہل خانہ کے وکیل جارج پیٹروزی کے مطابق کم عمر ملزمان کو نابالغوں کے فوجداری نظام کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں 6 سے 8 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔دوسری جانب زیرِ حراست ایک طالب علم کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بس میں بچے کھیل رہے تھے اور معاملہ ان کے قابو سے باہر ہوگیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔متاثرہ لڑکے کی والدہ نے بھی انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مذاق یا معمولی جسمانی بدسلوکی نہیں بلکہ جنسی زیادتی کا واقعہ ہے، جس پر نفرت یا انتقام کے بجائے انصاف ہونا چاہیے۔


لیما کے علاقائی محکمہ تعلیم کے سربراہ کورنیلیو گونزالز نے اسکول انتظامیہ پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی اطلاع پولیس اور متعلقہ حکام کو مقررہ ضابطے کے مطابق نہیں دی گئی۔پیرو کے وزیرِ تعلیم ہوزے انتونیو چانگ کے مطابق مذکورہ اسکول میں گزشتہ دو برس کے دوران طلبہ کے درمیان تشدد کے 50 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 12 مبینہ جنسی بدسلوکی، ہراسانی، نازیبا چھونے اور حملوں سے متعلق تھے۔اسکول انتظامیہ نے والدین کے نام جاری بیان میں کہا ہے کہ واقعے پر فوری کارروائی کی گئی اور تحقیقات میں متعلقہ اداروں سے تعاون کیا جا رہا ہے۔ ذمہ داری ثابت ہونے پر مناسب تادیبی اقدامات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ اسکول کا انتظام گزشتہ ہفتے تک پیرو کی بحریہ کے پاس تھا، تاہم حکومت نے انتظامی ذمہ داریاں وزارتِ تعلیم کو منتقل کر دی ہیں۔