سگے رشتوں کا درد،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
شام کی اداس اور سرمئی رنگت آہستہ آہستہ در و دیوار پر پھیل رہی تھی، اور گھر کے سنسان دالان میں بیٹھی وہ بوڑھی ماں اکیلی، ماضی کے دھندلے جھروکوں میں جھانک رہی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سا جمود، بے حسی اور سرد مہری کا راج تھا، جو اس مکان کی چاردیواری میں پھیلے ہوئے اپنوں کے دیے گئے درد کا واضح پتا دیتی تھی۔ صحن کے عین وسط میں پڑی وہ پرانی، بوسیدہ لکڑی کی کرسی صرف ایک ضعیف وجود کو نہیں، بلکہ سگے رشتوں کی دی ہوئی بے اعتنائیوں، طعنوں اور بے رخی کے گہرے، ناپید بوجھ کو سنبھالے ہوئے تھی۔ باہر تو خزاں کا روایتی موسم دستک دے ہی رہا تھا، مگر گھر کے اندر سگے رشتوں کی بے حسی نے ایک مستقل اور ہولناک خزاں کو جنم دے دیا تھا، جہاں خلوص اور محبت کے شاداب پتے ایک ایک کر کے جھڑ چکے تھے اور اب صرف یادوں کا ملبہ باقی رہ گیا تھا۔
دالان کے دائیں جانب بچوں کے بچپن کا وہ تاریک کمرہ تھا جہاں کبھی قہقہے گونجتے تھے، عید کی خوشیاں منائی جاتی تھیں اور سگے بھائیوں کی معصوم مسکراہٹیں بکھرتی تھیں، مگر آج وہاں صرف ایک گہرا، اداس اور خوفناک سکوت ماتم کر رہا تھا۔ وقت کی بے رحم لہر اور دنیاوی طمع نے ان خون کے پاکیزہ رشتوں میں انا، حسد اور مصلحتوں کی ایسی اونچی اور ناقابلِ عبور دیواریں کھڑی کر دی تھیں جنہیں پھلانگنا اب کسی کے بس میں نہ تھا۔ دالان کے بائیں گوشے میں لگی وہ پرانی خاندانی تصویر اب بالکل دھندلا چکی تھی، جس کے شیشے پر جمی مٹی کی موٹی تہہ رشتوں پر پڑی غفلت اور دوری کی واضح گواہی دے رہی تھی۔ وہ بھائی، وہ بہنیں جو کبھی ایک دوسرے کے لیے ڈھال ہوا کرتے تھے، آج دنیاوی فائدوں، مال و دولت اور زمین کے چند بے جان ٹکڑوں کی خاطر ایک دوسرے سے اجنبی، بلکہ بیزار ہو چکے تھے۔ سب ایک ہی چھت تلے سانس تو لے رہے تھے، مگر دلوں میں صدیوں کی مسافتیں اور نفرتیں حائل ہو چکی تھیں، جہاں سامنے بیٹھے ہوئے بھی سب ایک دوسرے سے کوسوں دور دکھائی دیتے تھے۔
اس خاموش اور سحر انگیز منظر میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات سگے رشتوں کا وہ کھوکھلا پن تھا جو اندر ہی اندر انسان کی روح کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ پرائے جب زخم دیتے ہیں تو دل بہل جاتا ہے، زمان و مکان بدلنے سے وہ درد مٹ جاتا ہے، مگر جب اپنے ہی خون کے رشتے بھیڑیوں اور آدم خوروں کی طرح اپنے رویوں، تلخ جملوں اور منافقت سے انسان کا گوشت نوچنے لگیں، تو روح تڑپ اٹھتی ہے اور جینے کی تمنا دم توڑ دیتی ہے۔ صحن کے کونے میں بنے چولہے سے اٹھتا ہوا ہلکا اور بے جان سا دھواں شاید اس خاندانی محبت کی آخری نشانی تھا جو اب وقت کی سرد مہری کے باعث ہمیشہ کے لیے بجھ چکی تھی۔ وہ تنہا، ناتواں وجود اسی اکھڑتے دالان میں بیٹھا رشتوں کی اس ویران، سنسان پگڈنڈی کو تک رہا تھا جہاں اب اپنوں کے لوٹ آنے کی، محبت سے گلے لگانے کی کوئی موہوم امید باقی نہ تھی، مگر سگے رشتوں کا وہ طویل، پردرد اور لامتناہی سفر بوجھل یادوں کی شکل میں ساتھ ساتھ چل رہا تھا جو کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ یہ شام جیسے رشتوں کے زوال کی ایک ابدی داستان بن کر اس گھر پر مسلط ہو چکی تھی۔
مزید پڑھیں





