سالگرہ پر خوشی کس بات کی؟ تحریر:سعید اشرف ناز
نقطہ نظر
ہم کسی کی سالگرہ پر بڑے جوش سے کہتے ہیں:
”ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!“
"ضِمْناً عرض ہے کہ دنیائے موسیقی میں آج تک سب سے زیادہ پیسہ اس گانے نے کمایا ہےاور کما رہا ہے"
مگر خیر گانا اپنی جگہ۔۔۔ سالگرہ پر
مبارک باد دیتے ہیں، کیک کاٹتے ہیں، شمعیں جلاتے اور بجھاتے تصویریں بناتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ اور بخوشی اعلان ہوتا ہے آج میری عمر میں ایک اور سال شامل ہو گیا۔
مگر کبھی رک کر یہ سوچا ہے کہ آخر خوشی کس بات کی؟
آپ کی زندگی کا ایک اور سال گزر گیا۔
جو وقت گزر گیا، وہ دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ آپ کی عمر میں ایک سال کا اضافہ نہیں ہوا، بلکہ در حقیقت آپ کی میری باقی زندگی میں سے ایک سال کم ہو گیا۔
ہر گزرتا ہوا سال ہمیں ہماری منزل کے ایک قدم اور قریب لے جاتا ہے— بقول شاعر۔۔
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کا ایک سال کم ہونے پر خوشی کیسے منا سکتے ہیں؟
شاید سالگرہ کو صرف جشن کے بجائے احتساب کا دن ہونا چاہیے۔
ایک ایسا دن جب انسان چند لمحوں کے لیے رک کر خود سے پوچھیں:
میں نے گزشتہ ایک سال میں کیا حاصل کیا؟
میں نے اپنے وقت کا کتنا حصہ صحیح کاموں میں لگایا؟
میں نے کتنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی؟
کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟
اپنے رب، اپنے والدین، اپنے خاندان اور اپنے دوستوں کے لیے میں نے کیا کیا؟
اور سب سے بڑھ کر—اگر میری زندگی کا یہ آخری سال ہوتا تو کیا میں اسے اسی طرح گزارتا؟
سالگرہ کا کیک شاید ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہو کہ وقت کٹ رہا ہے۔ شمعیں بجھاتے ہوئے ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ زندگی کی شمع میں تیل کتنا باقی رہ گیا ہے، یہ ہمیں معلوم نہیں۔
اس لیے سالگرہ پر خوشی منانی ہے تو ضرور منائیں، اپنے پیاروں کیساتھ وقت گزاریں، اللّہ کا شکر کریں مسکرائیں، دعائیں لیں اور دیں۔مگر اس خوشی کے ساتھ ایک لمحے کا احتساب بھی کر لیں۔
کیونکہ اصل خوشی صرف یہ نہیں کہ ہم ایک سال بڑے ہو گئے۔
اصل خوشی تو تب ہے جب ہم یہ کہہ سکیں:
”میری زندگی کا ایک سال کم ضرور ہوا، مگر میں نےاسے ضائع نہیں کیا۔“
مزید پڑھیں


کیا مرد ظالم ہے؟ تحریر: سید آزاد گیلانی

کاہنہ میں مبینہ پولیس مقابلہ، 2 ملزمان ہلاک


