Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سمندر کی تاریک گہرائیوں کے پراسرار باسی،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

ہماری زمین کا تقریباً ستر فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی سمندر کا ایک بہت بڑا حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہم چاند کے بارے میں سمندر کی گہرائیوں سے زیادہ جانتے ہیں۔ جب انسان سمندر کی سطح سے نیچے اترتا ہے تو اسے ایک ایسی دنیا نظر آتی ہے جو کسی فلم کی کہانی سے کم حیران کن نہیں۔


سمندر میں تقریباً دو سو میٹر کی گہرائی کے بعد سورج کی روشنی بہت کم رہ جاتی ہے اور ایک کلومیٹر کے بعد تقریباً مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔ یہاں پانی کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ عام انسان یا سطح پر رہنے والا کوئی جاندار ان حالات میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ پانی انتہائی ٹھنڈا ہوتا ہے اور ماحول بظاہر زندگی کے لیے ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود یہاں زندگی موجود ہے اور ایسی عجیب و غریب شکلوں میں موجود ہے جنہیں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔


گہرے سمندر کی مشہور مخلوقات میں ایک *اینگلر فش (Anglerfish)* بھی ہے۔ اس کے سر کے آگے ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے جس کے سرے پر روشنی پیدا ہوتی ہے۔ اندھیرے میں جب کوئی چھوٹی مچھلی اس روشنی کو دیکھ کر اس کے قریب آتی ہے تو اینگلر فش اسے اپنا شکار بنا لیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روشنی مچھلی خود براہ راست پیدا نہیں کرتی بلکہ اس کے جسم میں موجود خاص قسم کے بیکٹیریا اس میں مدد دیتے ہیں۔ جانداروں کا اس طرح روشنی پیدا کرنا *بایولومینیسنس* کہلاتا ہے۔


گہرے سمندر میں صرف اینگلر فش ہی روشنی نہیں بناتی۔ کچھ جیلی فش، سکوئڈ اور دوسری مچھلیاں بھی اپنے جسم سے روشنی پیدا کرتی ہیں۔ کوئی اس روشنی کو شکار پکڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے، کوئی دشمن سے بچنے کے لیے اور کچھ جاندار اسے اپنے ساتھی کو تلاش کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس تاریک دنیا میں روشنی ہی ان کی زبان بھی ہے اور دفاع کا ذریعہ بھی۔


پھر آتا ہے *جائنٹ اسکوئڈ (Giant Squid)* جس نے صدیوں تک انسان کو حیران کیے رکھا۔ پرانے زمانے کے ملاح سمندر میں ایک بہت بڑے عفریت کی کہانیاں سناتے تھے جسے "کریکن" کہا جاتا تھا۔ طویل عرصے تک لوگوں نے ان کہانیوں کو صرف افسانہ سمجھا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ دیوہیکل سکوئڈ واقعی موجود ہے۔ اس کی لمبائی کئی میٹر تک پہنچ سکتی ہے اور اس کی آنکھیں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ اسے اس کے قدرتی ماحول میں دیکھنا اور فلمانا سائنس دانوں کے لیے ایک بڑی کامیابی رہی ہے کیونکہ یہ مخلوق سمندر کی ایسی گہرائی میں رہتی ہے جہاں پہنچنا خود ایک مشکل کام ہے۔


گہرے سمندر میں ایک اور عجیب جگہ *ہائیڈروتھرمل وینٹس* ہیں۔ یہ سمندر کی تہہ میں موجود ایسے شگاف ہیں جہاں سے زمین کے اندر سے انتہائی گرم اور معدنیات سے بھرپور پانی باہر نکلتا ہے۔ یہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی لیکن اس کے باوجود مختلف قسم کے جاندار یہاں زندہ رہتے ہیں۔ ان کی خوراک کا انحصار سورج کی روشنی پر نہیں بلکہ ایسے بیکٹیریا پر ہوتا ہے جو کیمیائی توانائی کی مدد سے خوراک تیار کرتے ہیں۔


یہ دریافت سائنس دانوں کے لیے بہت اہم تھی کیونکہ اس نے ایک نئی سوچ کو جنم دیا۔ اگر زمین پر ایسی جگہ زندگی موجود ہو سکتی ہے جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تو ممکن ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی کے کچھ دوسرے سیاروں کے برف سے ڈھکے سمندروں میں بھی زندگی کے آثار موجود ہوں۔


سمندر کی سب سے گہری جگہوں میں *ماریانا ٹرینچ* بھی شامل ہے جو دس کلومیٹر سے زیادہ گہری ہے۔ اتنی گہرائی میں پانی کا دباؤ ناقابلِ تصور حد تک زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہاں بھی چھوٹے جاندار، بیکٹیریا اور کچھ نرم جسم والی مخلوقات پائی گئی ہیں۔ یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی صرف آرام دہ ماحول کی محتاج نہیں۔ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، زندگی اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔


ان عجیب مخلوقات کا مطالعہ صرف اس لیے نہیں کیا جا رہا کہ انسان کی تجسس کی خواہش پوری ہو۔ سائنس دان ان جانداروں سے ایسی چیزیں بھی سیکھ رہے ہیں جو مستقبل میں انسان کے کام آ سکتی ہیں۔ ان کے جسم میں موجود کچھ کیمیائی مادے نئی دواؤں کی تیاری میں مدد دے سکتے ہیں جبکہ کچھ سے مضبوط مواد اور توانائی کے نئے طریقوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔


لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جس دنیا کو ہم نے ابھی پوری طرح دیکھا تک نہیں، اسے ہم نقصان پہنچانے لگے ہیں۔ سمندر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا کچرا، آلودگی، ضرورت سے زیادہ مچھلی کا شکار اور گہرے سمندر سے معدنیات نکالنے کی کوششیں اس نازک ماحول کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ شاید ہم ابھی سمندر کی بہت سی مخلوقات کے نام بھی نہیں جانتے اور ان میں سے کچھ ہمارے جاننے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں۔


سمندر ہمیں ایک بات بہت واضح انداز میں سمجھاتا ہے کہ ہماری دنیا ابھی بھی رازوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہم جتنا جانتے ہیں شاید اس سے کہیں زیادہ ابھی جاننا باقی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سمندر کو صرف پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک ایسی زندہ دنیا سمجھیں جس میں بے شمار مخلوقات ہماری نظروں سے دور اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔


شاید سمندر کی اصل خوبصورتی اس بات میں ہے کہ اس نے آج بھی اپنے بہت سے راز انسان سے چھپا رکھے ہیں۔ اور شاید آنے والے وقت میں جب ہم ان رازوں سے پردہ اٹھائیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہماری اپنی زمین پر ابھی کتنی ایسی دنیائیں موجود ہیں جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔