شاہی فرامین اور عوام کی خالی ٹوکری،تحریر: نعیم خان
نقطہ نظر
حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ سے بڑھ کر معاشی تدبیر ، بحران کی حکمت اور عوامی تحفظ کی کوئی شاندار تمثیل تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ مصر پر جب سات سالہ شدید قحط اور خشک سالی کا سایہ لہرایا تو حکومتِ مصر کا پہلا ردِعمل یہ نہیں تھا کہ عوام کے دیے بجھا دیے جائیں یا ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جائے۔ اس بحران پر قابو پانے کے لیے جو حکمتِ عملی اپنائی گئی وہ آج کے ہر حکمران اور پالیسی ساز کے لیے ایک زریں مشعلِ راہ ہے۔
اس عظیم تمثیل کا پہلا اور سب سے بڑا سبق 'پیشگی منصوبہ بندی' تھا۔ حضرت یوسفؑ نے قحط آنے سے پہلے فراوانی کے سات سالوں میں غلے کو بچایا اور اسے محفوظ کیا۔ انہوں نے بحران کا انتظار نہیں کیا بلکہ آنے والے طوفان کا پہلے سے راستہ روکا۔ موجودہ دور میں ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم ہر بار بحران آنے کے بعد جاگتے ہیں اور اضطراری اعلانات کا سہارا لیتے ہیں۔ اگر تین ماہ کی بچت کی بجائے پہلے سے ایک مستقل انرجی سیکیورٹی فریم ورک اور ذخائر کا انتظام موجود ہوتا تو آج عالمی مارکیٹ کے ایک جھٹکے سے پوری معیشت نہ ڈگمگاتی۔
اس تمثیل کا دوسرا اور سب سے حکمت آمیز راز 'وسائل کی منصفانہ اور براہِ راست تقسیم' تھا۔ قحط کے دنوں میں جب مصر اور ارد گرد کے علاقوں سے لوگ غلہ لینے آتے تو حضرت یوسفؑ کا نظامِ عدل ایسا تھا کہ انہوں نے ذخیرہ اندوزی ، بلیک مارکیٹ اور درمیانے طبقے کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے غلہ براہِ راست ضرورت مند انسان تک پہنچایا۔ آج جب پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کی سبسڈی اگر کسی ایک طبقے کو دی جائے یا پٹرول سستا کرنے کا نااہل طریقہ اپنایا جائے تو اس کا فائدہ امیر اور غریب دونوں اٹھاتے ہیں۔ حقیقی حکمت یہی ہے کہ جیسے مصر میں راشن سیدھا غریب خاندان تک پہنچا ویسے ہی سبسڈی پٹرول کے بجائے براہِ راست موٹر سائیکل سوار ، رکشہ ڈرائیور ، چھوٹے کسان اور کم آمدنی والے گھرانے کے ڈیجیٹل والٹ تک پہنچے۔
تیسرا اہم ترین پہلو 'شاہی ایوانوں کی کفایت شعاری اور عوامی اعتماد' تھا۔ حضرت یوسفؑ کے دور میں خزانے کے سربراہ نے خود کو عوام کا امین سمجھا۔ شاہی محلوں کی شاہ خرچیاں ختم کر کے پورا نظام عوامی بقا کے لیے وقف کر دیا گیا۔ جب عوام نے دیکھ لیا کہ حاکمِ وقت ان کا محافظ اور امین ہے تو انہوں نے خوش دلی کے ساتھ نظم و ضبط کی پاسداری کی اور یہ قحط باوقار طریقے سے گزر گیا۔
آج بھی اگر حکومت چاہتی ہے کہ عوام معاشی سختی کو برداشت کریں اور 9 بجے دکانیں بند کرنے یا ایندھن بچانے جیسے اقدامات میں تعاون کریں تو اس کا علاج صرف سرکاری احکامات جاری کرنا نہیں ہے۔ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ شاہی اصطبل کا راشن واقعتاً آدھا ہوا ہے۔ جب حکمران طبقات کے اپنے ایندھن ، پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات میں حقیقی اور قابلِ دید کمی آئے گی اور جب عام آدمی یہ دیکھے گا کہ اس کی قربانی کا نتیجہ ملک کی ایندھن سے آزادی کی صورت میں نکل رہا ہے تو قوم ہر بحران کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسفؑ کی تمثیل ہمیں سکھاتی ہے کہ بحران کا مقابلہ خوف سے نہیں بلکہ عقل ، تدبیر ، پیشگی تیاری اور سب سے بڑھ کر "منصفانہ تقسیم" سے کیا جاتا ہے۔ اگر آج بھی پٹرول اور ڈیزل کے بحران کو وقتی نوٹیفکیشن کی بجائے یوسفی تدبیر کے تحت دیکھا جائے تو پاکستان نہ صرف اس وقتی معاشی قحط سے باآسانی نکل سکتا ہے بلکہ آنے والے ہر عالمی جھٹکے سے خود کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکتا ہے
مزید پڑھیں





