Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شجر کاری ایک مہم یا فوٹو سیشن ،تحریر : حافظ ملک جمشید

نقطہ نظر
hafiz jamshed0

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو ہمارے لیے قدرت کا عظیم تحفہ ہے جہاں معدنیات، زراعت اور دیگر تمام قدرتی خزانے موجود ہیں۔ جن میں کچھ سے فائدے تو اکثریت سے حاصل کیے جاتے ہیں اور کچھ بھی بہت کمی بیشی آتی جا رہی ہے زراعت اور شجر کاری پاکستان کی خاص پہچان ہے۔ کیونکہ بیرون ملک سے سیاح بھی پاکستان اسی قدرتی حسین نظاروں کو دیکھتے آتے ہیں

جولائی اگست کا مہینہ پاکستان میں شجر کاری کے لیے بہت موزوں سمجھا جاتا ہے کیونکہ ساون کی بارشوں کی وجہ سے زمین نرم ہو جاتی ہے اور پھل دار اور پھول دار دونوں قسم کے پودے اس موسم میں کثرت سے نشوونما پاتے ہیں۔ جولائی اور اگست کا مہینہ گویا کہ شجر کاری مہم کے نام سے منایا جاتا ہے جس میں ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں تا کہ ماحول سر سبز و شاداب ہو اور خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو۔ جس کے لیے تعلیمی ادارے مختلف تنظیمیں اور سرکاری سطح پر اس مہم میں جوق در جوق حصہ لیا جاتا ہے ۔

محکمہ زراعت کثیر تعداد میں مفت پودے تقسیم کرتی ہے تا کہ عوام الناس میں شجر کاری کا شوق پیدا ہو ۔ اسی طرح مختلف تنظیمیں بھی اس کام میں بھر چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور پودے تقسیم کرتی ہیں۔ یوں بہت سے لوگ شجر کاری میں حصہ لیتے ہیں اور میڈیا والے بھی جگہ جگہ پہنچ کر ایسے حسین مناظر کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر کے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر خبروں کی زینت بناتے ہیں۔ مگر یہاں جو بات سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ان دو ماہ میں لاکھعں کی تعداد میں لگائے جانے والے پودے چند ماہ بعد غائب کیوں ہو جاتے ہیں ۔ایسی کون سی کمزوری پائی جاتی ہے جو ان پودوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن جاتی ہے تو میرے خیال میں چند باتیں آئی ہیں جو کہ حقیقت کے بالکل قریب ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں لگائے گے پودے اگلے سال تک نہیں رہتے۔

پہلی بات کی جائے تو شجر کاری مہم میں سنجیدگی کا ہونا ضروری ہے اور جہاں جہاں درخت لگانے کا ارادہ رکھتے ہوں وہاں پہلے جگہ بھی دیکھی جائے کہ آیا یہ زمین درخت لگانے کے قابل بھی ہے یا نہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ بنجر زمین میں پودا لگا دیا جائے اور فوٹو بنا کر تشہیر کی جائے پھر چار دن گزرنے کے بعد پودے کا نام و نشان باقی نہ رہے اسی طرح پودے لگاتے وقت سر سبز اور بڑا پودا لگایا جائے جس کے نشوونما پانے کی امید ہو کیونکہ اکثر تنظیمیں یا ادارے صرف نمود و نمائش کی خاطر پودے تقسیم کرتے اور شجر کاری مہم میں حصہ لیتے نظر آتے ہیں مگر ان کے عطیہ کردہ پودے حقیقت میں پودے کہلانے کے لائق نہیں بلکہ وہ تو بس کسی ٹہنی کا چوتھائی حصہ ہوتا ہے جو بمشکل لکڑی کے سہارے کھڑا ہوتا کے اور فوٹو سیشن کے چند گھنٹے بعد زمین میں سجدہ بوس ہو جاتا ہے ۔

تیسری اور سب سے اہم بات جو کہ شجر کاری کی ناکامی کا باعث بنتی ہے وہ یہ کہ جہاں جہاں پودے لگائے گے ہوں وہاں ان کی حفاظت اور پانی کا بندوبست لازمی ہو کیونکہ ابتدائی لگائے گے پودے کو پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور پودے لگا کر سستی کرنے کی وجہ سے پودے مر جھا جاتے ہیں اور شجر کاری مہم صرف فوٹو سیشن کی حد تک رہ جاتی ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جو بھی کام کریں تو اس میں اخلاص نیٹ اور کام سے محبت لازمی ہو ورنہ ہماری محنت صرف فوٹو سیشن کی حد تک ہو کر رہ جائے گی اور ریاکاری و دکھلایا اور فخر جیسے گناہوں کا بوجھ ہمارے حصے میں آجائے گا