Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے قیمتی جانیں ضائع اور دنیا کی معیشت متاثر ہوئی: وزیراعظم شہباز شریف


وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ایسی ریڈ لائن ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔‘


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ قابل مذمت حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، مقدس شہر مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ کوئی مسلمان اس طرح کے گھناؤنے جرم کے ارتکاب کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘


مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے قیمتی جانیں ضائع اور دنیا کی معیشت متاثر ہوئی،وزیراعظم پاکستان شہبازشریف

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، اور جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی خدمات کو سراہا۔ خطاب میں انہوں نے امن، سفارت کاری، کشمیر، فلسطین، دہشت گردی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت اہم عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امن کی جستجو انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے اور موجودہ عالمی حالات میں سفارت کاری پر زور مزید بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اسلام آباد میں دونوں فریقین کو ایک ساتھ بٹھایا۔ اس ضمن میں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز اور باب المندب کا کھلا رہنا ضروری ہے اور انہیں تنازع کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔ شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، اور سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں بھی یہی مؤقف دہرایا کہ تنازعات کے حل کا راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی سے نکلے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور خطے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سعودی عرب پر ہونے والے حملوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے نے پوری امتِ مسلمہ کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا، اور حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں — ان پر حملہ ایک ریڈ لائن تصور ہونا چاہیے۔ انہوں نے دہرایا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ پر اپنی حمایت کا اعادہ کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کاوش ہے، اور پاکستان سمیت دیگر ممالک نے سعودی عرب کے دفاع اور محفوظ بحری راستوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کو بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے دہشت گرد گروہ قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو عالمی برادری کے سامنے رکھا۔ ساتھ ہی اسلاموفوبیا اور خطے میں بڑھتی دہشت گردی کے تدارک کے لیے مؤثر عالمی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ رکوانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بروقت کردار کو سراہا اور ان کی قیادت پر پاکستان کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL