Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

طلاق کے بعد۔۔۔تحریر : سیدہ شبانہ رضوی

نقطہ نظر
shabana rizvi

​’’کچھ رشتے ٹوٹتے نہیں، بس ان کے درمیان رہنے والے لوگ بکھر جاتے ہیں۔‘‘

​ایک بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ہے:

’’امی! ابو اب ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟‘‘

ماں کے پاس شاید اس سوال کا جواب ہو، مگر بچے کے دل میں اٹھنے والے اگلے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔۔

’’کیا ابو نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟ کیا امی نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟ کیا میری کوئی غلطی تھی؟‘‘

​یہ وہ سوال ہیں جو طلاق کے کاغذ پر نہیں لکھے جاتے، مگر بعض بچوں کی پوری زندگی پر لکھ دیے جاتے ہیں۔

​اسلام نے طلاق کا راستہ بند نہیں کیا، مگر اسے کھیل بھی نہیں بنایا۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: ’’اور اگر وہ دونوں جدا ہو جائیں تو اللہ اپنے فضل سے دونوں کو غنی کر دے گا۔‘‘ (النساء: 130)

​یعنی بعض اوقات جدائی ناگزیر ہو سکتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذمہ داریاں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔

​مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ایک گھر جلد بازی، انا، لالچ، ہوس، وقتی پسند یا بہتر زندگی کی خواہش کی نذر کر دیا جائے، اور اس فیصلے کی سب سے بھاری قیمت وہ بچے ادا کریں جنہوں نے نہ شادی کی تھی، نہ جھگڑا کیا تھا اور نہ گھر توڑنے میں ان کا کوئی کردار تھا۔

​ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں برداشت کو کمزوری اور سمجھوتے کو شکست سمجھا جانے لگا ہے۔ معمولی اختلاف پر ’’اب ساتھ نہیں رہنا‘‘ کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ کبھی دولت رشتے سے بڑی دکھائی دیتی ہے، کبھی خواہشات ذمہ داریوں پر غالب آ جاتی ہیں اور کبھی انسان یہ سمجھتا ہے کہ شاید دوسری زندگی پہلی سے زیادہ خوبصورت ہوگی۔

​پھر طلاق ہو جاتی ہے۔

​دو بالغ انسان اپنی اپنی زندگی کے نئے باب کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

مگر بچے؟

​وہ کس باب میں جائیں؟

​ماں اپنی نئی زندگی میں آگے بڑھ جاتی ہے، باپ اپنی مصروفیات اور ترجیحات میں۔ نئی شادی، نئے رشتے، نئی ذمہ داریاں۔۔۔ اور پرانے رشتے کے بچے آہستہ آہستہ زندگی کے حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔

​لیکن بچہ حاشیہ نہیں ہوتا۔

​وہ آپ کے فیصلے کا زندہ نتیجہ ہوتا ہے۔

​طلاق کا فیصلہ دو انسانوں کے درمیان ایک کاغذ پر سائن کرنے سے مکمل ہو جاتا ہے، لیکن ایک معصوم بچے کے لیے یہ فیصلہ اس کی روح کا بٹوارا ہوتا ہے۔ وہ راتوں کو بستر پر لیٹ کر چھت کو تکتا ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر اس کا قصور کیا تھا؟ جس باپ کی گود اس کا پہلا آسمان تھی، وہ آسمان اچانک غائب ہو جاتا ہے؛ اور جس ماں کی آغوش اس کی کائنات تھی، وہ آغوش بھی اب آنسوؤں اور اجنبیت کی آمیزش سے ٹھنڈی لگنے لگتی ہے۔ وہ بچہ روزانہ اپنی ہی نظروں میں خود کو تلاش کرتا ہے کہ آخر اس نے ایسا کیا کیا تھا کہ اس کی ہنستی کھیلتی دنیا پل بھر میں ویران ہو گئی۔

​جب ایک گھر ٹوٹتا ہے تو صرف درودیوار نہیں گرتے، بچے کے اندر کا اعتبار اور تحفظ کا احساس ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے مکمل گھروں اور ہنستے کھیلتے خاندانوں کو دیکھ کر گھٹ گھٹ کر جیتا ہے، مگر اپنی ممتا اور شفقت کے اس خلا کو کسی کے سامنے بیان نہیں کر پاتا۔ اس کے لیے خوشی کا ہر لمحہ ایک ادھورا خواب بن جاتا ہے اور عید کا ہر دن ایک نوحہ۔ وہ عمر بھر محبت کی بھیک مانگتا رہتا ہے، لیکن دل کے کسی اندھیرے کونے میں یہ خوف ہمیشہ سانپ بن کر ڈستا رہتا ہے کہ جو ہاتھ آج تھاما گیا ہے، وہ کل پھر چھوٹ جائے گا۔ طلاق محض دو بالغوں کا الگ ہونا نہیں، بلکہ ایک معصوم وجود کو جیتے جی ایک دائمی تنہائی اور بے نام کرب کے جہنم میں دھکیل دینا ہے۔

​کچھ بچے خاموش ہو جاتے ہیں، کچھ ضدی، کچھ حد سے زیادہ حساس۔ کچھ لوگوں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ محبت ملنے کے باوجود اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں یہ محبت بھی ایک دن چھن نہ جائے۔ ان کے اندر گھر کی تعریف بدل جاتی ہے۔ وہ ہر رشتے کے ساتھ جدائی کا امکان بھی دیکھنے لگتے ہیں۔

​سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ والدین کبھی کبھی اپنی نئی زندگی میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے بچوں کے جذبات دیکھنے کا وقت ہی نہیں نکال پاتے۔

​یاد رکھنا چاہیے، والدین ایک دوسرے سے جدا ہو سکتے ہیں، اپنے بچوں سے نہیں۔

​بچے کو صرف اچھا اسکول، مہنگے کپڑے، عید کا تحفہ یا کبھی کبھار ایک فون کال نہیں چاہیے۔ اسے یہ یقین چاہیے کہ اس کے والدین الگ ہوئے ہیں، اس سے نہیں۔

​رشتہ ختم ہو سکتا ہے، والدین ہونے کی ذمہ داری نہیں۔

​ہمیں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان پر صرف بحث نہیں، اس کے بعد بکھرتی ہوئی شخصیتوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ ایک گھر کا دروازہ بند ہونے کے بعد اکثر ایک بچے کے اندر کئی دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔

​رشتے نبھانا ہر حال میں لازم نہیں، لیکن رشتہ توڑنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم صرف ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں یا کسی بچے کی پوری دنیا بھی تقسیم کر رہے ہیں؟

​اور اگر علیحدگی واقعی ناگزیر ہو جائے تو کم از کم بچوں کو اپنی جنگ کا میدان نہ بنائیے۔

​کیونکہ طلاق کے کاغذ پر صرف دو نام ہوتے ہیں،

مگر اس کے اثرات کئی زندگیوں پر لکھے جاتے ہیں۔

​اور کبھی کبھی سب سے زیادہ زخمی وہ شخص ہوتا ہے جس نے یہ فیصلہ کیا ہی نہیں ہوتا۔۔۔

وہ بچہ، جو دونوں کا تھا، مگر طلاق کے بعد اکثر کسی ایک کا بھی مکمل نہ رہ سکا۔