تشدد صرف ہاتھوں سے نہیں ہوتا،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
آج دنیا بھر میں عالمی یومِ عدم تشدد منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں صرف جنگوں، قتل و غارت اور جسمانی تشدد کے خلاف کھڑا ہونے کا پیغام نہیں دیتا، بلکہ شاید اس سے کہیں زیادہ مشکل سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے: کیا تشدد صرف وہی ہے جو جسم پر زخم چھوڑ جائے؟ یا کچھ زخم ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کوئی نشان نہیں ہوتا، مگر انسان انہیں برسوں اپنے اندر لیے پھرتا ہے؟
ہم نے تشدد کا مفہوم شاید بہت محدود کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک کسی کو مار دینا، دھمکانا یا جسمانی نقصان پہنچانا تشدد ہے، لیکن کسی کے وجود کو مسلسل نظرانداز کرنا، اس کی بات کو حقیر سمجھنا، اس کے خوابوں کا مذاق اڑانا، اسے بار بار یہ احساس دلانا کہ وہ نامکمل ہے، کیا یہ بھی ایک طرح کا تشدد نہیں؟ فرق صرف اتنا ہے کہ جسمانی زخم دکھائی دے جاتا ہے، روح پر لگنے والا زخم اکثر خاموش رہتا ہے۔
انسان ہمیشہ تلوار سے نہیں ٹوٹتا، کبھی ایک جملہ بھی اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔ کبھی ماں باپ کا وہ جملہ جو غصے میں کہہ دیا جاتا ہے، کبھی کسی استاد کی تحقیر، کبھی دوست کی بے اعتنائی، کبھی شریکِ حیات کی مسلسل خاموش سزا اور کبھی معاشرے کا وہ رویہ جو کسی انسان کو اس کی شکل، غربت، کمزوری یا ناکامی کی بنیاد پر کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ ہم ان سب کو معمولی باتیں کہہ کر گزر جاتے ہیں، مگر انسان کا باطن انہی باتوں سے بنتا ہے ؛ وہ انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے تشکیل پاتا ہے جو روز اس کے اندر اترتی رہتی ہیں۔
عجیب بات ہے کہ ہم دنیا میں امن چاہتے ہیں، مگر اپنے گھروں میں گفتگو کا لہجہ بھول جاتے ہیں۔ ہم جنگوں کے خاتمے کی دعائیں کرتے ہیں، مگر اپنے ہی رشتوں میں انا کی چھوٹی چھوٹی جنگیں لڑتے رہتے ہیں۔ ہمیں دور کسی ملک میں ہونے والا ظلم دکھائی دیتا ہے، مگر ہمارے سامنے بیٹھا وہ شخص دکھائی نہیں دیتا جو ہماری ایک سخت بات کے بعد گھنٹوں خاموش رہتا ہے۔
شاید عدمِ تشدد کا آغاز کسی بڑے عالمی معاہدے سے نہیں بلکہ انسان کے اپنے لہجے سے ہوتا ہے۔
کسی کو جواب دیتے ہوئے ذرا نرم ہو جانا بھی عدمِ تشدد ہے۔ کسی کی غلطی کو اس کی پوری شخصیت نہ بنا دینا بھی عدمِ تشدد ہے۔ غصے میں خاموش رہ جانا، جب معلوم ہو کہ الفاظ بعد میں واپس نہیں آتے، بھی ایک اخلاقی قوت ہے۔ کسی کمزور انسان کو اس کی کمزوری کا احساس نہ دلانا بھی انسانیت ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ طاقت کا مطلب دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے، حالانکہ اصل طاقت شاید اپنے غصے پر اختیار رکھنے کا نام ہے۔ ہر وہ شخص جو چیخ سکتا ہے، ضروری نہیں کہ طاقتور ہو؛ کبھی کبھی جو شخص چیخنے کا اختیار رکھتے ہوئے بھی اپنی آواز دھیمی کر لے، وہ زیادہ بڑا انسان ہوتا ہے۔
عدمِ تشدد کمزوری نہیں۔ یہ اپنے اندر موجود انتقام کی خواہش کو قابو میں رکھنے کا نام ہے۔ یہ اس مقام کا نام ہے جہاں انسان کے پاس کسی کو تکلیف پہنچانے کی وجہ بھی ہو، اختیار بھی ہو اور موقع بھی، مگر وہ پھر بھی کسی دوسرے کے درد کو اپنے ہاتھ کا ہنر نہیں بناتا۔
ہماری دنیا میں شاید سب سے زیادہ کمی ہتھیاروں کی نہیں، احساس کی ہے۔ ہم نے بولنے کی آزادی تو حاصل کر لی، مگر یہ سوچنا بھول گئے کہ ہمارے الفاظ دوسرے انسان پر کیا اثر چھوڑ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو اور نمایاں کر دیا ہے۔ ایک شخص اسکرین کے دوسری طرف بیٹھ کر کسی اجنبی کے بارے میں چند الفاظ لکھتا ہے اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے، لیکن ممکن ہے وہ چند الفاظ کسی دوسرے انسان کے لیے پوری رات کی بے خوابی بن جائیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری لکھی ہوئی ایک سطر کسی کے اندر پہلے سے موجود کس زخم کو چھو گئی ہے۔
یہ بھی عجیب المیہ ہے کہ ہم اکثر اپنی سختی کو سچائی کا نام دے دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ چونکہ ہم سچ بول رہے ہیں، اس لیے لہجہ کیسا بھی ہو، ہمیں حق حاصل ہے۔ مگر سچ اور سنگ دلی ایک چیز نہیں۔ کسی کو آئینہ دکھانا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن آئینہ پتھر بن کر پھینک دینا ضروری نہیں۔
زندگی میں ہر انسان اپنے اندر ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جس کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ کوئی اپنی ناکامی سے لڑ رہا ہے، کوئی تنہائی سے، کوئی اپنے ماضی سے، کوئی مستقبل کے خوف سے۔ ایسے میں اگر ہم کسی کے راستے سے کانٹا نہیں ہٹا سکتے تو کم از کم اپنے لفظوں کے کانٹے اس کے راستے میں نہ بچھائیں۔
عدمِ تشدد شاید یہی شعور ہے کہ سامنے والا بھی ایک مکمل انسان ہے؛ اس کے بھی احساسات ہیں، اس کی بھی حدود ہیں، اس کی بھی ایک ایسی دنیا ہے جس تک ہماری رسائی نہیں۔
اور شاید ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امن صرف وہاں ضروری نہیں جہاں بندوقیں چل رہی ہوں۔ امن وہاں بھی ضروری ہے جہاں دو انسان ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ ایک گھر میں، ایک کلاس روم میں، ایک دفتر میں، ایک دوستی میں، ایک رشتے میں۔ کیونکہ بعض اوقات جنگ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی، انسان کے لہجے میں ہوتی ہے۔
اگر ہم واقعی ایک پُرامن دنیا چاہتے ہیں تو شاید ہمیں دنیا بدلنے سے پہلے اپنے رویّے بدلنے ہوں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ کسی کو مارنا بری بات ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کسی کو ذلیل کرنا، مسلسل نظرانداز کرنا، اس کے اعتماد کو توڑنا اور اس کے احساسات کا مذاق اڑانا بھی انسانیت کے خلاف رویہ ہے۔
دنیا میں امن اس دن شروع ہوگا جب ہم یہ سمجھ جائیں گے کہ ہر زخم خون نہیں بہاتا۔ کچھ زخم خاموش ہوتے ہیں، کچھ آنکھوں کے پیچھے چھپے رہتے ہیں اور کچھ مسکراہٹ کے پردے میں عمر گزار دیتے ہیں۔
اس لیے آج عدمِ تشدد کا دن مناتے ہوئے شاید ہمیں کسی بڑے نعرے کی نہیں، اپنے اندر ایک چھوٹی سی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اگلی بار غصہ آئے تو ایک جملہ روک لینا، کسی کے بارے میں فیصلہ دینے سے پہلے اس کی کہانی سوچ لینا، کسی کے کمزور لمحے کو اس کے خلاف استعمال نہ کرنا، اور جہاں ممکن ہو وہاں سختی کے بجائے انسانیت کا انتخاب کرنا۔
کیونکہ دنیا کو ہمیشہ بڑے ہیرو نہیں بدلتے، کبھی کبھی ایک نرم لہجہ بھی کسی کی پوری دنیا بچا لیتا ہے۔
اور شاید عدمِ تشدد کی سب سے خوب صورت تعریف یہی ہے کہ ہم کسی انسان کو اپنی طاقت کا نشانہ بنانے کے بجائے اپنی انسانیت کا حق دار سمجھیں۔
زخم دینے کے لیے ہاتھ اٹھانا ضروری نہیں،
کبھی لفظ بھی خنجر بن جاتے ہیں؛
اور امن قائم کرنے کے لیے دنیا بدلنا ضروری نہیں،
کبھی اپنے لہجے کو بدل دینا ہی کافی ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں




