ٹرمپ کی تقریر: طاقت کے سائے میں بدلتی ہوئی دنیا،تحریر: نعیم خان
نقطہ نظر
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ایوان میں جب ڈونلڈ ٹرمپ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو دنیا پہلے ہی بے یقینی کے دور سے گزر رہی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ہے ، یوکرین کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ، عالمی معیشت دباؤ میں ہے ، بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بڑھ رہا ہے اور مصنوعی ذہانت نے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں ٹرمپ کی تقریر محض ایک خطاب نہیں تھی بلکہ موجودہ عالمی سیاست کا ایک آئینہ تھی۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر کا آغاز امریکہ کی طاقت ، معیشت اور ترقی کے دعووں سے کیا۔ یہ ان کی سیاست کا پرانا انداز ہے کہ داخلی کامیابیوں کو خارجی طاقت کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جائے۔ ان کے نزدیک مضبوط معیشت ، طاقتور فوج اور جدید ٹیکنالوجی ہی عالمی اثر و رسوخ کی بنیاد ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بار بار یہ تاثر دیا کہ دنیا کے مسائل کا حل طاقت کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
تقریر کا سب سے اہم حصہ ایران سے متعلق تھا۔ ٹرمپ نے ایک طرف سخت زبان استعمال کی اور دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھا۔ یہی موجودہ عالمی سیاست کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ دنیا امن چاہتی ہے مگر امن کی بات اکثر طاقت کے سائے میں کی جاتی ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ، توانائی کی منڈیوں کا عدم استحکام اور بڑی طاقتوں کی رقابت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ کے بارے میں ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہش صرف امریکہ کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہے۔ تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ نے صرف دو ملکوں کو نہیں بلکہ عالمی معیشت ، خوراک کی فراہمی اور توانائی کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ دنیا میں امن صرف مذاکرات سے آئے گا یا طاقت کا توازن ہی امن کی بنیاد بنے گا؟ یہی سوال آج عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے مختلف تنازعات کے خاتمے میں کردار ادا کیا جن میں پاکستان اور بھارت کا ذکر بھی شامل تھا۔ ایسے دعووں پر مختلف ملکوں کے اپنے اپنے مؤقف موجود ہیں لیکن ایک حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جنوبی ایشیا میں امن آج بھی کروڑوں انسانوں کی ضرورت ہے۔ جنگ کے سائے میں ترقی کا خواب کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ پاکستان ، بھارت ، مشرقِ وسطیٰ یا یورپ ہر خطے کے عوام کی خواہش ایک ہی ہے ؛ استحکام ، روزگار اور بہتر زندگی۔
مصنوعی ذہانت کے بارے میں ٹرمپ کا انداز بھی قابلِ غور تھا۔ انہوں نے اسے مستقبل کی سب سے بڑی قوت قرار دیا اور واضح کیا کہ امریکہ اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں طاقت کا تصور صرف فوج یا معیشت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ علم ، تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی بھی عالمی قیادت کا فیصلہ کریں گی۔ جو قومیں علم میں آگے ہوں گی وہی مستقبل کی سمت متعین کریں گی۔
اقوام متحدہ اور عالمی اداروں پر تنقید بھی تقریر کا اہم حصہ تھی۔ ٹرمپ نے اصلاحات اور کم اخراجات کی بات کی مگر یہاں ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے۔ اگر عالمی ادارے کمزور ہوں گے تو کیا دنیا زیادہ محفوظ ہوگی؟ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہی ادارے اس امید کے ساتھ بنائے گئے تھے کہ تنازعات بات چیت سے حل ہوں۔ آج اگر یہ ادارے کمزور پڑتے ہیں تو طاقتور اور کمزور ممالک کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی تقریر کو صرف ایک امریکی صدر کی تقریر سمجھنا کافی نہیں۔ یہ اس نئے عالمی دور کی عکاسی کرتی ہے جس میں قوم پرستی بڑھ رہی ہے بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ تیز ہو رہا ہے اور ہر ملک اپنے مفادات کو پہلے رکھ رہا ہے۔ اس ماحول میں امن کے دعوے بھی ہیں ، جنگ کے خدشات بھی ، تعاون کی باتیں بھی اور مقابلے کی سوچ بھی۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر پیش کیا لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ صرف فوجی قوت یا معاشی برتری دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ دنیا کو آج بھی بات چیت ، برداشت اور مشترکہ مفادات کی ضرورت ہے۔
شاید اس تقریر کا اصل پیغام بھی یہی تھا کہ دنیا ایک نئے دور کے دروازے پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ مقابلے ، دباؤ اور طاقت کی سیاست کی طرف جاتا ہے اور دوسرا تعاون ، استحکام اور مشترکہ ترقی کی طرف۔ آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا رخ اسی بات سے طے ہوگا کہ طاقت اور امن کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اس ہال میں ٹرمپ کی آواز خاموش ہو گئی مگر ان کے اٹھائے گئے سوالات ابھی باقی ہیں۔ کیا دنیا زیادہ طاقت سے محفوظ ہوگی یا زیادہ تعاون سے؟ کیا جنگوں کا خاتمہ دباؤ سے ہوگا یا مذاکرات سے؟ اور کیا آنے والا زمانہ انسانوں کو قریب لائے گا یا نئی تقسیمیں پیدا کرے گا؟
ان سوالوں کا جواب ابھی تاریخ نے نہیں لکھا مگر اتنا ضرور ہے کہ آج کی دنیا کو طاقت سے زیادہ دانش اور مقابلے سے زیادہ توازن کی ضرورت ہے کیونکہ امن صرف جیتنے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے سے قائم ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





